شیموگہ:۔شیموگہ ضلع وقف آفیسر اپنی ذمہ داریوں کو قانونی طریقے سے نبھانے کے بجائے تغلق دربار چلارہے ہیں اور وہ اپنی من مانیوں کے ذریعے سے اوقافی قوانین کو پامال کررہے ہیں۔اس بات الزام آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ضلعی صدر عبدالنویدنے لگایاہے۔انہوں نے آج اس سلسلےمیں ڈپٹی کمشنرکو یادداشت پیش کی ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی اوقافی ادارے کی مدت مکمل ہونے سے قبل باضابطہ طورپر بائیلاکے تحت الیکشن کروانے چاہیے،لیکن شیموگہ ضلع وقف بورڈکے افسر افسر شاہی نظام چلارہے ہیں،وہ خودساختہ طورپر کمیٹیوں کی تشکیل دے رہے ہیں او رکئی اوقافی اداروں کے اڈمنسٹریٹر بنے ہوئے ہیں ۔ ہمارامطالبہ ہےکہ ان اوقافی اداروں کا بروقت آڈیٹ کروایاجائے اور اداروں کے اخراجات وآمدنی کروائی جائے،اگر کسی وجہ سے پیسوں کے لین دین میں غبن ہوا ہے تو اُس رقم کو واپس لیاجائے۔جو اوقافی ادارےسالانہ حساب وکتاب پیش نہیں کرتے،اُن اوقافی اداروں کے خلاف آئی پی سی 420 اور وقف ایکٹ61Cکے تحت کارروائی کی جائے اور غبن کرنےوالے لوگوں سے پیسے واپس لئے جائیں۔ضلعی عبدالنویدنے مزیدکہاہے کہ شیموگہ ضلع وقف آفیسر سیاسی دبائومیں کام کررہے ہیں اور وہ خود سیاست کررہے ہیں۔جنرل باڈی نشستوں کاانعقادکرنے کے بغیرہی وہ کمیٹیوں کی تشکیل دے رہے ہیں ،ان کمیٹیوں کو وہ اپنے طورپر منتخب کررہے ہیں،کئی اوقافی اداروں میں جنرل باڈی میٹنگ سے قبل آڈیٹ بھی نہیں کروایاجارہاہے،ان تمام غلطیوں کی بنیادپر ضلع وقف آفیسر کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس موقع پر مجیب اُللہ،محمدعادل،فیاض احمد،محمد رفیع،خلیل وغیرہ موجودتھے۔
