مسلمان میڈیا استعمال کریں: جرنلسٹ بی حنیف حنن
مسلمانوں کی سیاست عقائد اور مسلک کیبنیاد پر بٹ چکی ہے: جسٹس مصطفٰی حسین
قیادت کرنے اور قیادت کوقبول کرنااللہ کاحکم ہے: انجنئیر محمدابراہیم
شیموگہ: شیموگہ میں مسلم گریجویٹ اسوسیشن کی جانب سے گریجویٹ کنوینشن کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ اس جلسے میں مہمان خصوصی کے طور پر کے پی یس سی رکن مصطفٰی حسین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے معاملات حالات بہت خراب ہیں، کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے صد فیصد اپنے آپ کو پابند رکھنے کی ضرورت ہے، سوسائٹی میں گریجویٹس کا رول اہم ہے، ہمارے یہاں تہذیب کی کمی ہے، ہم نے اپنے تہذیب و ثقافت کو نظر انداز کو نظرانداز کیاہے۔ آج ہمارے سامنے جو مسائل ہیں وہ 1840 سے ہی شروع ہوچکے تھے، لارڈ میکالے نے ہندوستان کامعائنہ کرتے ہوئے ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے بتایا تھاکہ بھارت کے لوگوں کی تہذیب انکی زبانوں میں چھپی ہوئی ہے اور جب تک ان کی تہذیب کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ان پر قابو میں نہیں لایاجاسکتا۔ آج اردو زبانوں میں پڑھنے والوں کو مہذب نہیں سمجھاجارہاہے یہ مسئلہ 1840 سے شروع کیاگیاہے۔ اگر ہماری تہذیب کو واپس لانا ہوتو ہماری زبان سے محبت کرنا چاہئے اور ہماری زبان کو بچانا چاہئے۔ تعلیم بھلے ہی کانوینٹ میں حاصل کریں لیکن اردو زبان پڑھائیں، اردو بولیں۔ آج دوسری زبانوں سے محبت اس قدر ہوچکی ہے کہ بچے قرآن بھی دوسری زبانوں میں پڑھنا چاہ رہے ہیں۔ گریجویٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو لرننگ سینٹرس بنائیں۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے، نوجوانوں کو تعلیم سے جوڑیں، شیموگہ میں ڈراپ آؤٹ کی شرح زیادہ ہے، بچوں کی نگرانی کرتے ہوئے انہیں مستقل تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی حالت بہت خراب ہے، نوجوان ڈرگس میں ملوث ہوچکے ہیں، یہاں ڈرگس میں ملوث ہونے والے نوجوانوں کی شرح زیادہ ہے، یہ تشویشناک بات ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج کو نشے سے پاک کرنے کے لئے پہل کریں، اگر مسلم نوجوانوں کی ادھی زندگی نشے کی وجہ سے جیلوں میں گزرجائے تو انکا سماج میں پیدا ہونا بے مقصدہے۔ نشے میں رہنے والے نوجوانوں اس قدر بے قابو ہوچکے ہیں کہ انہیں کوئی جوش دلادے تو وہ نعرے تکبیر کرتے ہوئے کہیں بھی گھس جائینگے۔اسوسیشن آف مسلم گریجویٹ اسوسیشن اپنے اغراض مقاصد اچھے ہیں۔ لیکن آج ہماری قیادت ناپید ہوچکی ہے، چند ایک سیاسی لیڈران ہیں لیکن انکی قیادت کوقبول نہیں کیا جاتاہے، ہم خود ہی سیاسی قیادت کو قبول نہیں کیاجارہاہے، حالات اس قدر بن چکے ہیں کہ ہم اپنے سیاسی قیادت کو بھی مسلک و عقائد کی بنیاد پر بانٹی جارہی ہے۔اے یم جی سے میری درخواست ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان سیاسی قیادت کوبھی بڑھاوا دیں۔ مسلمانوں کو پنکچر ڈالنے والی قوم کہاجارہاہے یہ ہمارے لیے نگیٹیولینے کی بات نہیں بلکہ پزیٹیولے کرقوم کے حالات بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاملے میں شہرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ایک پلاٹ فارمقائم کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید ایک مہمان خصوصی یم جی گروپس کے یم
ڈی انجنیر محمد ابراہیم نے بات کرتے ہوئے کہاکہ اللہ نے انسانوں کو پڑھنے کی ہدایت دی اور اسکی اوقات بتاتے ہوئےکہا کہ تمہیں میرے لیے پڑھناہے تاکہ اسکی رحمت حاصل کریں۔ اللہ کے رسول نے 13 سال مکے میں جو پڑھایاہے اسمیں توحید، ایمبریولوجی، لائف سائکل، کمیونیٹی لیونگ، ہسٹری ،جیوگرافی، لیڈرشپ ، فزکس،کیمسٹری،بیالوجی کی تعلیم دی گئی ہے۔ اللہ نے پوری انسانیت کو ایک ہی دین دیاہے ،اسلام سے بڑا کوئی دین سیکولر نہیں ہے، اللہ نے ایک دوسرے کے رابطےمیں رہنے کی ہدایت دی ہے،جوبھی مال ہے اسے ضرورتمندوں پر خرچ کرتے ہوئے عدل قائم کرنے کا حکم دیاہے۔ جولوگ ان تعلیمات پر عمل کرتے ہیں وہی لوگ لیڈرشپ کے قابل ہیں۔ ہمارے درمیان مذہبی تنظیمیں ہیں وہ ان نکات سے ہٹ کرہیں اور ان نکات پر عمل کرنے کو دنیاداری کہتے ہیں۔ جبکہ اللہ نے قرآن کودنیاکے لئے اتاراہے۔ اللہ کاکہناہے کہ کوئی بھی چیز دنیا اور آسمانوں میں نہیں چھپائی ہے ،ہرچیز قرآن میں ہے۔ قرآن صرف رٹنا نہیں چاہئے بلکہ اس پر تحقیق کرنا اور اسے سمجھنا ضروری ہے۔ جب معنوں کے ساتھ قرآن کوسمجھ کر پڑھاجائےتو چھپی ہوئی باتوں کو سمجھاجاسکتاہے۔ اللہ نے قرآن میں 1450 سال قبل کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں آسمانوں اور زمینوں میں اپنی نشانیوں کو دکھانے کی بات کہی تھی، آج ہم آسمانوں میں سیٹلائٹس سے لے کر سائنسی ایجادات کو دیکھ رہے ہیں۔ نالج ہی طاقت ہے، اس طاقت کو اپنے ماتحت کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہمیں فلاسفرس بننے کی ضرورت تھی لیکن ہم اس فلاسفی سے دور ہوچکے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ جو بے عزتیاں ہماری ہورہی ہیں اسکی مخالفت کرنے کی طاقت بھی ہمارے پاس نہیں۔
۔
معروف صحافی بی یم حنیف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین تعلیم یافتہ ہورہی ہیں لیکن انکے مقابلے میں لڑکے تعلیمی میدان میں پیچھے ہیں۔ گزشتہ 15 سالوں سے بیریز سماج کے لوگ بات کرنا کم کرتے ہوئے کام پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس وجہ سے وہ سماج میں قابل ستائش کام کررہے ہیں۔ اج کرناٹک حکومت میں اقلیتوں کے لیے دوہزار کروڑ روپیےہے، آج ہمارے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اس ناانصافی پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے کوئی مسلم لیڈر ان مسائل پر بات نہیں کررہاہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیڈران اپنی پارٹیوں کے وفادار ہیں نہ کہ قوم کے وفادار ہیں۔ ضلع پنچایت سے لے کر اسمبلی تک کی نمائندگی نہیں ہے۔ موجودہ ریاستی حکومت نے بھی اب تک ریزرویشن کو بحال کرنے کے لئے قدم نہیں اٹھائی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد ریاست میں حکومت کا حال کچھ بھی ہوسکتاہے۔ اگر ریاست میں مسلمانوں کو اب ریزرویشن اب نہیں دیاجائیگا توکب دیاجائیگا؟۔ ضلع پنچایتوں میں 14 فیصد او بی سی ریزرویشن دیاگیاہے لیکن اسمیں تمام اوبی سی شامل ہیں لیکن اسمیں مسلمانوں کو مخصوص ریزرویشن دینے کامطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج مسلمان پڑھنے کی صلاحیت کم ہوچکی ہے، اخبارات کامطالعہ کریں۔ آج ہمیں میڈیا کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان ہر چیز پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں لیکن میڈیا پر خرچ کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ پولارائزیشن کے لئے دوسری قومیں ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہم خود ذمہ دار ہیں۔ مسلمانوں میں سوشیل لیڈر شپ بھی کم ہوئی ہے۔ جب ان چیزوں پر غور کیا جاتاہے تو یقیناً مسلمانوں کے مسائل حل ہونگے۔
جلسے کا آغاز مولانا شاہ الحمید کی تلاوت سے
ہوا، تمہیدی کلمات اے یم جی کے کنوینئر پروفیسر محمد اجمل نے پیش کئے۔
