شیموگہ :مرکزی حکومت کی جانب سے اشیائے خوردنی (کھانے پینے کی اشیاء) پر پانچ فیصدکی جی ایس ٹی عائدکئے جانے کے فیصلے کے خلاف آج یہاں کے رائس ملز مالکان اور گروسری مرچنٹس اسوسیشن کی قیادت میں اے پی ایم سی کے روبرو احتجاج کیا گیا ۔ مظاہرین نے بتایا کہ اے پی ایم سی یارڈ سمیت مختلف منڈیاں آج اپنے کاروبار کوبند کرتے ہوئے احتجاج درج کروایاہے،اس کے علاو ہ بڑی تعداد میں چاول ملز،فلورملزمالکان نے بھی اپنے کاروبار بند رکھے ہوئے تھے،جبکہ اے پی ایم سی مزدور یونین اور ڈیلرس یونین نے بھی اس احتجاج کی تائیدکی ہے۔بند کے فیصلے سے آج پورادن کاروبار بند رہا،جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان درج کیاگیاہے۔اس سلسلے میں تاجروں نے بتایاکہ مرکزی حکومت نے اشیائے خوردنی پر پانچ فیصد کا جی ایس ٹی عائد کیا ہے ، اس سے چاول،مکئی جوار، گیہوں اور راگی پر بھی ٹیکس لگے گا،اس سے عام لوگوں کا جینا محال ہوجائیگا ،ساتھ ہی ساتھ منڈیوں کو بھی نقصان اٹھاناپڑیگا ۔ تاجروں کے اس احتجاج کو اے پی ایم سی مرچنٹس اسوسیشن شیموگہ، گروسری مرچنٹس اسوسیشن، کرناٹکا رورل فلورملس اسوسیشن سمیت مختلف تنظیموں نے تائیدکی ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ18 جولائی سے نئی ٹیکس کی شرح نافذ ہوجائیگی،جس سے خریداروں کو پانچ فیصد ٹیکس اداکرنا ہو گا ۔ یعنی اگر کوئی شخص ایک تھیلاچاول ایک ہزار روپئے میں خریدتا ہے تو اسے پانچ فیصد کا ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت فوری طور پر کھانے کی اشیاء پر جی ایس ٹی کا ٹیکس واپس لینے کے اقدامات اٹھائے۔ اس موقع پر گروسری مرچنٹس اسوسیشن کے صدر لکمشی کانت، سکریٹری ایم پی ناگراج، رائس فلورملز اسوسیشن کے صدر شیومورتی ، سکریٹری ناگیش وغیرہ موجودتھے۔
