مدھیہ پردیش: سماعت کے دوران وکیل نے جوتا پھینکا

Uncategorized
دہلی:۔مدھیہ پردیش کی ایک عدالت میں حیرت انگیز معاملہ پیش آیا ہے جہاں سماعت کے دوران وکیل کو جج پر اس قدر غصہ آیا کہ اس نے اپنا جوتا پھینک کر مار دیا۔ واقعہ آگر مالوہ کا ہے جہاں وکیل نے جج کے ساتھ یہ بدسلوکی کی۔ جوتے سے بچنے کے لیے جج نیچے جھکے، جس سے انھیں کان میں چوٹ لگ گئی۔ پولیس نے سرکاری کام میں رخنہ اندازی سمیت مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔واقعہ پیر کی سہ پہر کا ہے جب سماعت کے دوران وکیل نتن اٹل اتنا ناراض ہوئے کہ انھوں نے جوتا اچھال دیا۔ اس واقعہ کو انجام دینے کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔ کچھ رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ جوتا پریزائڈنگ افسر کی طرف پھینکا گیا۔ جج نے اس سے بچنے کی کوشش کی جس سے کان پر چوٹ لگ گئی۔ اس کی تحریری شکایت جج نے کورٹ کے بابو گیان سنگھ ولد دریاب سنگھ کرار کے ذریعہ سے آگر تھانے میں درج کروائی ہے۔ آگر پولیس تھانہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق بابو نے فرسٹ ضلع و ایڈیشنل سیشن جج آگر کا خط پولیس کے سامنے پیش کیا۔ اس کے ساتھ اجئے جاٹو اور وکیل کوثر خان کی مصدقہ گواہی کے دستاویز بھی لائے گئے ہیں۔ اس کی بنیاد پر پولیس نے نتن اٹل کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 332، 353، 294 اور 506 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ایک معاملے میں سماعت کے لیے 4 بجے دو فریق پیش ہوئے تھے۔ نتن اٹل اور پنکٹ اٹل فریقین تھے جنھوں نے پشپ راج سنگھ کو وکیل بناتے ہوئے وکالت نامہ پیش کیا۔ ۔