چتردرگہ:کیا اِن سے اردو کی ترقی کی کرسکتے ہیں اُمید؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
چتردرگہ :۔کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرس اسوسیشن کی جانب سےایک روزہ تربیتی کارگاہ اور فاطمہ شیخ ایوارڈ کا انعقاد کیاگیاتھا،آج منعقدہ اس تقریب کیلئے چتردرگہ کے کراٹاکی جانب سے جو دعوت نامہ جاری کئے گئے تھے وہ صدفیصد کنڑازبان میں تھے اور ان میں دور دورتک اردو کا الف تک دکھائی نہیں دے رہاتھا۔یہ جلسہ کہنے کوتواردو اساتذہ کیلئے تربیتی کارگاہ تھا،لیکن اس میں سیاستدانوں اورافسروں کی بھرمارتھی،سوال یہ اٹھتاہےکہ آخر یہ تربیتی کارگاہ کس نہج پر منعقدکی گئی تھی۔کہنے کو تویہ تنظیم اردو اساتذہ کی تنظیم کہی جاتی ہے،لیکن اس تنظیم نے ہی اپنی مادری زبان یا کم ازکم اُس زبان کا حق ادانہیں کیا،جس سے انہیں تنخواہیں ملتی ہیں۔یقیناً کنڑازبان ریاست کی سرکاری زبان ہے،اس زبان کو نظراندازبھی نہیں کیاجاسکتا،لیکن اردو اساتذہ کی کارگاہ اور اردو اساتذہ کا ادارہ ہونے کی وجہ سے اس جلسے کے دعوت نامے تو کم ازکم اردوزبان میں شائع کروائے جاتےاور اردو زبان سے محبت کاثبوت پیش کیا جاتا ۔ ریاست میں جتنے وزراء ہیں اُن تمام کے نام دعوت نامے میں تھے،جتنے آئی اے ایس افسران ہیں اُن کے بھی نام نمایاں تھے،اگر کچھ اس دعوت نامے میں کمی تھی تو وہ اردو زبان کی کمی تھی۔ممکن ہے کہ منتظمین نے کچھ اردو کارڈس بھی شائع کروائے تھے،لیکن ان کارڈ س کو چھپاکر رکھاہوگا۔کارگاہ کا مطلب تربیت دینے کیلئے مخصوص پروگرام کرناہے،لیکن یہ کارگارہ "آئو تقریر سُنو”کےعنوان پر منعقدہوئی تھی،جس میں وزراء ، افسران،کراٹاکے عہدیداران نے اپنی تقریریں  پیش کرتے ہوئےاساتذہ کی تفریح کی۔خوش قسمتی بات یہ تھی کہ اسٹیج پراردونمایاں تھی جو اطمینان بخش بات ہے۔