مل بیٹھ کر کئے جانے والے عمائدین ، علماء اور تنظیموں کے مشوروں پر پھراپانی ، اب کانگریس کے مسلمان کرینگے کیا؟
بنگلور : کرناٹک حکومت کے مختلف بورڈ اور کارپوریشن میں صدور کی تقرری کو لے کر پچھلے کئی مہینوں سے پارٹی کارکنان کی جانب سے جد و جہد کی جارہی تھی ، ریاستی حکومت نے پہلے مرحلے میں ریاست کے یم یل ایز کو اہمیت دیتے ہوئے36 ایم ایل ایز کو بورڈ اور کارپوریشن کی ذمہ داری سونپی تھی ، اب دوسرے مرحلے میں پارٹی کارکنان اور لیڈروں کو اہمیت دیتے ہوئے جو فہرست تیار کی گئی ہے وہ اب لیک ہوچکی ہے جس کے مطابق کانتا نائک ، منڈرگی ناگراج ، وینود یس ، اسوٹی ، بی ہیچ ہریش ، ڈاکٹر امشومنتھ ، جے یس آنجنیالو، ڈاکٹر بی یوگیش بابو، ڈاکٹر ہیچ کرشنپا، مریگوڈا، دیوندرمرتور ، راج شیکھر رام سوامی ، کے مریگوڈا، جیناسنپت راج ، سویتا رگھو، پدماوتی ، شاکر سنادی ، سرور سرینیواس ، سومنا بیوین مرد، بی پوشپاامرناتھ ، محبوب پاشاہ ، کیرتی گنیش، مظہر خان ، للت راگھو ، یس منوہر ، ایوب خان ، ممتا گوٹٹی ، جی پلاوی ، یس ای سدھیندرا، ڈاکٹر ناگا لکشمی چودھری ، ہیچ یس سندریش ، آر یم منجوناتھ گوڈا اور جی یس منجوناتھ کے نام شامل ہیں ۔ کانگریس پارٹی میں موجود مسلمانون نے انتخابات کے دوران جب اسمبلی کا ٹکٹ مانگا تھا اس وقت کانگریس پارٹی کے لیڈروںنے ٹکٹ کےدعویداروں کو ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے الیکشن کے لیڈروں ، ملاوئوں اور عمائدین سے وعدہ کیا تھا کہ مسلمان ٹکٹ نہ پوچھیں بلکہ انہیں ریاست میں پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو انہیں باقاعدہ طورپر بورڈ اور کارپوریشن میں اولین ترجیح دی جائیگی اور کہا گیا تھا کہ اس بار مسلمانوں کی ذمہ داری صرف متحد ہوکر ووٹ ڈالنےکی ہے ، آپ ووٹ دیں اور ہم آپ کو بعد میں عہدے دینگے ۔ ریاست بھر میں اس فارمولے کو پیش کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کا جم کر استعمال کیا تھا اور اب جب عہدے دینے کا وقت آیا ہے تو مسلمانوں کو ٹھینگا دکھایا جارہاہے ۔ لیک ہونے والی فہرست میں بھی صرف چار مسلمانوں کے نام دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار میں لانے کے لئے 90 فی صد مسلمانوںنے ووٹ دئے تھے ۔
شیموگہ میں دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے :
الیکشن کے وقت شیموگہ کے تمام علماء ، ذمہ داران مساجد ، عمائدین ، جماعتوں کے نمائندے ، اکابرین سب مل بیٹھ کر اس بات پرمتفق ہوئے تھے کہ اسمبلی الیکشن میں مسلمان کانگریس کو ہی ووٹ دینگے اسکے بدلے میں مسلمانوں کو یم یل سی ، سبوڈا صدر اور مختلف مقامی کمیٹیوں کی نمائندگی دی جائے ۔ اس پر نہ صرف ضلعی صدر اور امیدوار ہیچ سی یوگیش نے قسمیں و عدے کئے تھے بلکہ ریاستی سطح کے لیڈران اور الیکشن کےنگران بھی مسلمانوں کے سامنے ماتھے ٹیک چکے تھے ۔ لیکن اب سبوڈا کے سب سے مضبوط دعویدار مسلمانوں کو اس عہدے سے دور رکھا جارہاہے جس پر مسلمانوں کے سیاسی قائدین ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی خاموش ہیں جنہوںنے کانگریس امیدوار کو اپنا بھائی اور کانگریس پارٹی کو اپنا مسلک سمجھ کر ووٹ دلوائے تھے ۔ اب جن کانگریسی مسلمانوںنے مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی لیڈروں کے ساتھ مل کر وعدے لئے تھے وہ خود پریشان ہیں کہ ہمارے ساتھ ووٹ پوچھنے والے کہاں چلے گئے ۔
امریش پوری کا کردار :
ہندی کی مشہور فلم آئی تھی کوئلہ ، جس میں امریش پوری مادھوری سے شادی کرنے کے لئے شاہ رخ خان کی تصویر بھیج کر مادھور ی ڈکشٹ کو راضی کرلیتے ہیں لیکن شادی وہ خود ہی کرلیتے ہیں ، ایسا ہی معاملہ شیموگہ میں دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں مسلم لیڈروں کو سامنے رکھ کر عہدے تو ان مسلمانوں کے لئے مانگے گئے لیکن کام پارٹی کے دوسرے لیڈروں کا ہوا ہے ۔ یہاں پر مسلمان گونگے شاہ رخ بن چکے ہیں جنہیں مادھوری نہیں مل رہی ہے ۔ ان حالات میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ آخر کانگریس کے مسلمانوں کی کانگریس میں کیا حیثیت رہ گئی ہے اور کیا کانگریسی مسلمان صرف ووٹ مانگنے کی حد تک ہی محدود رہ گئے ہیں ۔ بظاہر کانگریس میں مسلم لیڈران ہیں لیکن انکی لیڈری صرف فلکس ، پوسٹرس اور ویزیٹنگ کارڈ تک ہی محدود ہوچکی ہے ۔
کیا ووٹ دلوانے والوں کی ذمہ داری نہیں ہے ؟
ان تمام کےدرمیان مسلمانوں کو سیاسی حق دلوانے کی ذمہ داری ان لوگوں کی بھی ہے جو مغر ب سے عشاء اور فجر سے ظہر تک بیٹھ بیٹھ کر مسلمانوں کے ووٹ کانگریس کو دلوائے تھے ، کیا مسلمانوں کے ووٹ صر ف بڑے کے گوشت کی آزادی تک ہی محدود ہیں ؟۔ آخرمسلمانوں کے عمائدین ، ذمہ داران اور سماجی کارکنان خاموش کیوں ہیں ؟۔
