داونگیرے:۔ دستوِ ہند ہی ملک کی ترقی حفاظت اور سلامتی کی بقاءکا ضامن ہے،اور دستور ِہند کی بقاء کے لئے مرکز میں کانگریس پارٹی کا اقدکارمیں ہونا ضروری ہے ،اِن خیالات کا اظہار رکن قانون ساز کونسل کے عبدالجبار نے اُردو اخباری نمائندے سے بات کرتے ہوئےکیا اور کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اور اقتدار میں رہتے ہوئے اراکین پارلیمان کی جانب سے وقتا فوقتا دئے جانے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور اُن پر وزیرِ اعظم کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا دستور خطرے میں ہے ،ملک کو اِن خطرات سے نکالنا ملک کے ہر ذشعور فرد کی ذمہ داری بنتی ہے،آزادی کے بعد ستر سال تک ملک کی تعمیر و ترقی کےساتھ ملک میں قومی یکجہتی اور باہمی اتفاق و اتحاد کے مظاہرے نے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا ،اور اس اثنا میں ملک کودُنیاں کے بڑے ملکوں کی صف میں کھڑا کیا گیا، ہزاروں پل اور ڈیم بنائے گئے کسانوں کے لئے بہترین منصوبوں کے ذریعہ تعاؤن فراہم کیا گیا ،تعلیم یافتہ افراد کو روزگا ر کے مواقع فراہم کئے گئے،قومی شاہراہوں کو بہتر طریقہ سے ترقی دی گئی ،سیکڑوں ڈیم تعمیر کرتے ہوئے کسانوںکو راحت پہنچاکر پینے کے پانی کا بہتر انتظام کیا گیا ،اِن ستر سالوں میں ملک کا قرضہ پچاس لاکھ کروڑ سے تجاوز نا ہوسکا ،مگر اِن دس سالوں میں پیٹرول ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں گیس سلنڈر کی بڑھتی قیمت سے لوگ اپنے چولہے جلانے سے پہلے سوبار سوچنے لگتے ہوں ،تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملک میں روزگار کے عدم مواقعوں سے بڑھتی بے روزگاری،عدلیہ پر سیاسی دباؤ کے ذریعہ انصاف کا گلا گھونٹنے کی ہورہی کوشش ،کسانوں پر ہونے والے ظلم ان کی جائز مانگوں پر حکومت کی عدم دلچسپی ،کسانوں پر بندوق چلائی جاتی ہے،کسانوں سے احتجاج کا حق بھی چھیننے کی کوشش،ملک کی بینکوں سے قرضہ لےکر ملک سے بھاگ جانے والے بھگوڑوں کا لاکھوں کروڑ کا قر ضہ معاف کیا جاتا ہے،جبکہ ملک کے کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں،عوام کو صرف اور صرف جھوٹے نعرون سے تسلی دینے کی جو کوشش ہورہی ہے یہ کیساء وکست بھارت ہے ، وکاس تو صرف اور صرف وزیر اعظم کے قریبی اڈانی اور امبانی کا ہی ہورہا ہے،ملک کے عام آدمی کو جوپریشانیاں لاحق ہیں اُن کے تعلق سے حکومت کو خبر ہی نہیں ،احتجاج کررہے کسانوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں اور پولس کی گولی سے موت کی آغوش میں پہنچنے والے کسان کے تعلق سے ایک یف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی اور کہا جاتا ہے پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد یف آئی آر درج کی جائے گی،احتجاج کرنے والے کسانوں کے جھنڈوں کو پیروں تلے روندا جارہاہے ،جمہوری نظام میں حکومت کا یہ طریقہ کس حد تک درست ہے،کارپوریٹ سیکٹر کا پندرہ لاکھ روپیئوں کا قرض معاف کیا گیا جو صرف اور صرف چند لوگوں پرمشتمل ہے برعکس کسان لاکھوں کروڑوں کی تعدا د میں اگر اِنہیں فائدہ پہنچایا گیا تو ملک کو ہی فائدہ ہوگا ، کسانوں کو یم یس پی نہیں دی گئی جبکہ 2014 کے انتخابی منشور میں یہ بات شامل کی گئی تھی اور وعدہ کیا کہ ہم سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق سی ٹو پلس ففٹی پرسینٹ فرافیٹبل یم یس پی اِن آل کراپس ہم دینگےکاو عدہ کیا مگراپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے،کے باوجود آج ملک کو ایک سو پچاس لاکھ کروڑ سے زائد قرضہ جو ہو ا، اِ س بات کو ہر فرد جانے کے ہم کہان ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیئے ،بھاچپائی سیاست کو ملک کی ترقی و سلامتی سے کوئی سروکار نہیں صرف لوگوں کو غلط مسائل میں الجھا کر اپنا الُو سیدھا کرنا اور اقتدار پر جمے رہنے کی فکر ہی ہے،اب وہ دستورِ ہند کو کبھی بدلنے کی بات کرتے ہیں کبھی کوئی اور موضوع سے لوگوں کے ذہنوں کو اپنی ناکامیوں کی جانب سے پھیرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ،اِن حالات میں ملک کے ذی شعور افراد کی ذمہ داری بنتی ہےکہ وہ سوچین کہ اگر ملک کی مرکزی حکومت دستورِ ہند پابند نہ ہوئی تو ملک کس راہ پر جائیگا اس کا اندازہ لگاتے ہوئے ہمیں مرکز میں کانگریس کو اقتدار دلانے کی کوشش کرنا ہوگا،کیونکہ کانگریس ہی ملک کی وہ واحد سیاسی پارٹی ہے جس کے اقتدار میں ہونے سے ملک اپنے اندر اتحاد کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور کانگریس پارٹی سے ہی دستورِ ہند کی بقاء ممکن ہے۔
