ادبِ اطفال ہی مستقبل کی نسلوں کا معمارہے:کیندریہ بال ساہیتہ پُرسکاریافتہ حافظ کرناٹکی

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شکاری پور:۔بھارت کے اعلیٰ ترین ایوارڈس میں شمارہونے والے بال ساہیتہ ایوارڈ حاصل کرنے والے ریاست کے پہلے اردو ادیب حافظ کرناٹکی سے روزنامہ آج کاانقلاب نے خصوصی بات کی۔جس کے اقتباس اس طرح سے ہیں۔
روزنامہ:حافظ کرناٹکی صاحب بال ساہیتہ پرسکار حاصل کرنے پر آپ کو صمیم قلب سے مبارکبادپیش کی جاتی ہے جو آپ نے ادب کی دنیامیں نام روشن کیاہے اس کا صلہ یہ کچھ بھی نہیں ہے پھر بھی بھارت حکومت کی طرف سے ملنے والےایوارڈ پر آپ کو دل سے مبارکبادپیش کی جاتی ہے۔
حافظ کرناٹکی:۔جی شکریہ!جو علاقے کے معروف اردو اخبارکی طرف سے سب سے پہلے مجھے مبارکبادی دی جارہی ہے اور میرے خیالات کو اپنے اخبارمیں بکھیرنے کیلئے آپ پہنچے ہیں۔
روزنامہ:۔سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ آپ ادب واطفال کی طرف کب اور کس طرح آئے؟
حافظ کرناٹکی:۔میں پیشے سے معلم ہوں،جس وقت میں نےڈی ایس ای آرٹی کی نصابی کمیٹی کیلئے کچھ لکھنے کے مقصد سے پہنچا تو وہاں پر میں نے محسوس کیاکہ اردو کتابوں میں روایتی اور قدیم طرزکے اسباق اور مضامین ہیں،بچوں کیلئے جدید کچھ بھی نہیں ہے اور بچوں کی ذہن سازی کیلئے موجودہ دورکے حالات کو دیکھتے ہوئے لکھنے کی ضرورت ہے اور قلمکاروں کو بھی ابھارنے کی ضرورت تھی اس وجہ سے میں نے بچوں کے ادب میں لکھنا شروع کیا۔ویسے میری والدہ جو خودبھی معلمہ تھیں،انہوں نے میری تربیت علمی وادبی اعتبار سے کی تھی،ویسے میں نے1982 میں پہلی دفعہ روزنامہ سالارمیںمیری غزل شائع کروائی تھی۔
روزنامہ:۔آپ کو کس کتاب پر سا ہیتہ اکادمی کا ادب اطفال ایوارڈ ملااوراس کیا موضوع ہے؟
حافظ کرناٹکی:۔مجھے "فخروطن” کتاب پر بال ساہیتہ ایوارڈ ملاہے او ریہ کتاب فرید بُک ڈیپونے شائع کیاہے،اس فخروطن کتاب سوانح حیات پر مشتمل کتاب ہے،اس کتاب میں ملک کی تاریخ رقم کرنےو الےشخصیات کی سوانح لکھی گئی ہے اور اس کتاب کے علاوہ کئی کتابیں میں نے لکھی ہیں جو سوانح پر مشتمل ہے اور ان کتابوں کولکھتے ہوئے اختصارسے کام لیاہے،جسے لوگوں نے خوب سراہا۔
روزنامہ:۔ادب اطفال سے بچوں کی زندگی میں کیاکیا تبدیلیاں آتی ہیں؟
حافظ کرناٹکی:۔ادب اطفال ہی مستقبل کی نسلوں کا معمارہے،بچپن میں جو کچھ پڑھا جاتاہے وہی پوری عمریادرہتاہے،بچوں کو کہانیوں،تاریخ اور شاعری کے ذریعے ذہن سازی ہوتی ہے۔ادب اطفال بنیادی پتھر ہے۔میں نے اس ادب کے ذریعے بچوں کو چھوٹے چھوٹے پیغامات دینے کی کوشش کی ہے،تاکہ بچے روزمرہ کی زندگی کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔آج یہ چیزیں ہٹتی جارہی ہیں،ہمیں چاہیے کہ بچوں کو ادب سے جوڑے رکھیں۔
روزنامہ:۔کیا ادب اطفال بچوں کی تعلیم میں معاون ثابت ہوتاہے؟
حافظ کرناٹکی:۔جی ہاں،بالکل ادب سے ہی بچوں کی ذہن سازی ممکن ہے،بغیر ادب کے ان کا ذہن سفیدکاغذکی مانندہوجاتاہے،جس پر منفی ومثبت دونوں طرح کےنقوش مقام بناسکتے ہیں،اس لئے بچوں کی تعلیم میں ادب کا رول اہم ہے۔
روزنامہ:۔بچوں کے ادب کیلئے ملنے والے ساہیتہ انعام کے بارے میں کچھ بتائیں کہ یہ آپ کو کس طرح ملا؟
حافظ کرناٹکی:۔یہ انعام 2011 سےاردوزبان کیلئے دیاجارہاہے اور یہ ایوارڈ خالص ادب کیلئے دیاجاتاہے۔اس کیلئے نہ تو کوئی سفارش ہوتی ہے اور نہ ہی اسے غلط طریقے سے حاصل کرسکتاہے۔ایوارڈکے امیدوارکاانتخاب ایک آازاد ادارے کے ذریعے سے کروایاجاتاہے جو بعدمیں ساہیتہ اکادمی کی کمیٹی کے ذریعے سے حتمی فیصلہ لیاجاتاہے۔اس ادارے کی بنیاد1950 میں رکھی گئی تھی اور مولاناآزاداس کے نگران تھے۔ایوارڈکےاعلان کے بعد ایک سال تک انعام یافتگان کی سرگرمیوں پر نظررکھی جاتی ہے،بلآخرمیں ان کا نام طئے ہوتاہے۔یہ ایوارڈ خالص بچوں کے ادب کا کام کرنے کا ایوارڈ ہے ۔
روزنامہ:۔ریاست کرناٹک میں اب تک بچوں کے کسی ادیب کو یہ ایوارڈ کیوں نہیں دیاگیا؟
حافظ کرناٹکی:۔ہر علاقے میں اردو ادباء دستیاب نہیں ہیں،مہاراشٹر میں بڑے پیمانےپر ادبِ اطفال کا کام ہورہاہے،کئی ادباء وشعراء بچوں کیلئے لکھ رہے ہیں،وہاں پر یونیورسٹی میں ان ادباء کی ہمت افزائی کی جاتی ہے،لیکن ہمارے یہاں ایساکوئی رواج نہیں ہے۔مثال کے طو رپر کوئمپو یونیورسٹی کو ہی لیں،یہاں پر زندہ لوگوں پر پی ایچ ڈی کرنا ممنوع قراردیاگیاہے،جبکہ ملک کے پٹنہ یونیورسٹی ،دہلی یونیورسٹی نے مجھ پر پی ایچ ڈی کروائی،کئی لوگوں نے میرے ادب پر ایم فل بھی کیاہے۔لیکن مقامی سطح پر ادباء کو ابھارنے کا رواج نہیں ہے۔جتنے پروفیسران ہیں ان کا ادب سے کوئی تعلق نہیں۔ہم اُن کو کچھ نہیں پوچھ سکتے ہیں،البتہ اردو کے نام پر وہ روزی کھارہے ہیں،اللہ انہیں خوش رکھے۔
روزنامہ:۔ریاست کرناٹک میں بچوں کیلئے کون کون لوگ لکھ رہے ہیں۔آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟
حافظ کرناٹکی:۔ظہیر رانے بنوری،ظہیر الدین ظہیر،اُمید ادیبی جیسے شعراء نے بچوں کیلئے بہت لکھاہے۔ایسے شعراء پر تحقیق کی ضرورت ہے اور ان کے ادب کو سراہانے کی ضرورت ہے۔
روزنامہ:۔آپ نے شاعری میں کن کن اصناف پر طبع آزمائی کی ہے؟
حافظ کرناٹکی:۔میں نے غزلیں لکھی ہیں،شروعات میں لوگ مجھ پر ہنستے تھے،اس کے بعد میں نے اروز کی کتابیں لیکر مطالعہ کرنے لگا،میرے دل میں آیاکہ میں پختی اور اچھی شاعری لکھنا شروع کروں اس کیلئے میں نے کتابوں کا مطالعہ شروع کیا،نغموں کی کتابیں لیکربیٹھا،میں نے ساحرلودھیانوی جیسے شاعرکے کلام کو سُنا،مختلف چالیس اوزان کو لیکر شاعر لکھنا شروع کیا۔غزل پر طبع آزمائی کی،میں نے 9 ہزارکے قریب رباعیات لکھی ہیں،قطعات لکھی ہیں اور خصوصاً بچوں کیلئے میں نے جو قطعات لکھے ہیں وہ ملک بھر میں مشہورہیں۔مرثیہ عموماً اہل بیعت پر لکھے جاتے ہیں لیکن میں نے مرثیے اپنوں کیلئے بھی لکھ کر اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے،ساتھ میں بیت بازی جو شاعری کی ہی صنف ہے،اُس پر بھی کتابیں لکھی ہیں۔
روزنامہ:۔کیا گلشن زبیدہ کے بچوں میں ادب اطفال کا شعور پایاجاتاہے؟
حافظ کرناٹکی:۔گلشن زبیدہ جو میرا ادارہ ہے،وہاں پر بچے رباعیات کی بیت بازی میں مہارت رکھتے ہیں،سارے ملک کے سامنے میں سوال رکھتاہوں،جوبھی بچے ہمارے ادارے کے بچوں کے ساتھ بیت بازی کا مقابلہ کرینگے اُن کیلئے میں50 ہزار روپئے کاانعام دونگا۔اسی طرح سے اشعار کی بیت بازی میں بھی بچے ماہرہیں۔فی البدی میں بھی ہمارے بچے مہارت رکھتے ہیں،حب الوطنی کے گیت کامقابلہ بھی کرتے ہیں تو ان کیلئے بڑی بات ہوگی۔
روزنامہ :۔آپ قومی سطح کے انعام یافتہ شاعر اور ادیب ہیں،میرے اخبارکے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
حافظ کرناٹکی:۔روزنامہ آج کاانقلاب کے تعلق سے میری یہی رائے ہے کہ آپ بہت بڑا کام کررہے ہیں،آپ کااخبار صرف کرناٹک کا نہیں بلکہ دُنیاکے مختلف مقامات میں تیزی کے ساتھ پھیلتاہے،مجھے اس کا اندازہ اُس وقت ہوتاہے جب لوگ مجھے آپ کے اخبارکے توسط سے مبارکبادی دیتے ہیں۔روزنامہ آج کاانقلاب بہت اچھا کررہاہے،جو ضرورت کی خبریں ہیں وہی شائع کرتے ہیں،عوام الناس میں بیداری پیداکرنے کا آپ کا اہم کردارہے،آپ شیموگہ ضلع کی نہیں بلکہ سارے ملک کی شان ہیں اورآپ کااخبارمیرے ضلع کی شان ہے۔
روزنامہ:۔اب تک آپ کی کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؟منظوم اور منثور کتابوں کی تعداد بتائیے؟
حافظ کرناٹکی:۔اب تک میری100 کتابیں مکمل ہوچکی ہیں،یہ کتابیں بھارت میں ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی شائع ہورہی ہیں،پاکستان میں بھی میری کتابیں شائع ہورہی ہیں،میری شعری کتابیں 57 اور نثری کتابیں43 ہیں ، جملہ 100 کتابیں موجودہیں اور اس کے علاوہ سوشیل میڈیاپر بھی کئی اشعار بکھیر چکاہوں۔جلدہی ایک کتاب آرہی ہے اللہ ھو صمدہے،منظوم سیرت النبیﷺ میں نے لکھی ہے۔
روزنامہ:۔ادب اطفال کیلئے ساہیتہ اکادمی ایوارڈ پاکر آپ کیسا محسوس کررہے ہیں؟
حافظ کرناٹکی:۔ادب اطفال کا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد مجھے دُنیا بھر سے مختلف ممالک سے بھی مبارکبادیاں موصول ہورہی ہیں،لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مقامی ادب نواز لوگ مبارکبادی صرف اس وجہ سے دینا نہیں چاہتے کہ وہ حسدمیں جل رہے ہیں۔ان کا مبارکبادی نہ دینا بھی میرے لئےخوشی کی بات ہے۔