بورڈو کارپوریشن کے صدورکی تقرری ،مسلم کانگریسیوں میں نااُمیدی:لیڈرشپ کے طرز کو بدلناہوگا!

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ریاست کی کانگریس حکومت کی جانب سے بورڈوکارپوریشن کے صدورکی تقرری کی فہرست جاری ہوچکی ہے،اس میں44 افراد کو بورڈوکارپوریشن کے چیرمین بنائے گئے ہیں،جبکہ پانچ مسلمانوں کو اس فہرست میں شامل کیاگیاہے۔کرناٹک میں اس دفعہ کانگریس کو اقتدارمیں لانے کیلئے90 فیصدمسلمانوں نے ووٹ دیاتھا،یہ الگ بات ہے کہ اصل مدعہ بی جے پی کو اقتدارسے الگ کرناتھا،لیکن ساتھ میں سیاسی وسماجی انصاف کیلئے کانگریس پارٹی کے لیڈروں نے وعدے بھی کئے تھے کہ اقتدارمیں آنے پر مسلمانوں کو ایم ایل سی اور بورڈوکارپوریشن کے عہدوں پر تقررات کئے جائینگے،لیکن آج جو فہرست ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہے،اس سے مسلم کانگریسیوں کو افسوس کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔خاص طورپر شیموگہ کی بات کی جائے تو شیموگہ ضلع میں گذشتہ کئی سالوں سے مسلمانوں کو نہ تو ایم ایل اے کی ٹکٹ دی گئی ہے،نہ ہی یہاں سے ایم ایل سی کا عہدہ دیا گیا ہے ،اس کے علاوہ شیموگہ میں سوڈا کے عہدے پر فائزکرنے کا وعدہ بھی کیاگیاتھا،لیکن اس عہدے سے بھی مسلمانوں کو محروم رکھاگیاہے،جس کی وجہ سے مسلم کانگریسیوں کو جھٹکا ضرورلگاہے،ایسانہیں ہے کہ شیموگہ ضلع میں قابل مسلم کانگریسیوں کی کمی ہے،اس دفعہ سوڈاکے عہدے کو حاصل کرنےکی جدوجہدمیں اڈوکیٹ نیازاحمدجو نہایت تعلیم یافتہ ہیں وہ بھی دعویدارتھے،اس کے علاوہ بلاک کانگریس کے صدرکلیم پاشاہ ،سابق کارپوریٹر آصف مسعود،عارف اُللہ جئے ہندجیسے افراد یہاں پر سرگرم تھے،مگر کسی کو بھی یہ عہدہ نہیں دیاگیاہے۔حالانکہ مسلمانوں کو ہی سوڈا کا عہدہ دینے کا وعدہ شیموگہ کے کانگریس لیڈروں نے کیاتھا،لیکن مسلم دعویداروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنا اُلو سیدھاکرنے کی کوشش کی گئی ہے،جس میں کانگریس لیڈروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اسمبلی انتخابات کے بعدشکست یافتہ امیدوار ایچ سی یوگیش نے ایک گروہ بنالیاتھا،ضلع کانگریس صدر ایچ ایس سندریش کا ایک گروہ سرگرم تھا،سابق سوڈاصدر این رمیش کی قیادت میں ایک گروہ اس عہدے کو حاصل کرنے کیلئے دوڑ دھوپ کررہاتھا،لیکن کسی نے بھی مسلمانوں کو فائدہ پہنچے ایسی ترکیب نہیں بنائی۔جہاں ایک طرف کانگریس پارٹی کا متعصبانہ رویہ مسلمانوں کے تئیں ہے،وہیں مسلم کانگریسی بھی اپنے آپ کو لیڈرکے طورپرپیش کرنے کے بجائے فالوور کے طورپر پیش کرتے آرہے ہیں،جس کا نقصان اُنہیں اس طرح سے بلی کے بکرے بننے کے طورپر اداکرناپڑرہاہے۔یقیناً اسمبلی انتخابات کے دوران مسلم کانگریسیوں کو عہدے دینے کے تعلق سے کانگریس پارٹی کے عہدیداروں نے وعدے کئے تھے،لیکن جن لوگوں نے وعدہ کیاتھا،وہی اب عہدوں کے دعویدار نکل کر سامنے آرہے ہیں،اس بات کی بھنک لگنے کے باوجود بھی مسلم کانگریسی محتاط ہوکر اپنے حق کیلئے آوازاٹھانے کے بجائے چاپلوسی کرتے ہوئے اب بھی نظرآرہے ہیں۔جن عہدوں کو ان سے چھین کر دوسروں کو دیاجارہاہے،کل اُنہیں عہدیداروں کی گلپوشی شال پوشی کرتے ہوئے یہ لوگ نظرآئینگے۔دراصل مسلم کانگریسیوں نے لیڈرشپ کا معنی یہ فلکس،پوسٹرس،بیانرس میں اپنی تصویروں کو اپنے پیسوں سے چھپواناہی لیڈرشپ سمجھ رکھے ہیں۔اگرواقعی میں لیڈرشپ کرنی ہے تو جس قوم کے نام پر سیاست کی جارہی ہے،اُس قوم کے درمیان جاکر اُن کے مسائل کو حل کرتے ہوئے اُن کے درمیان رہتے ہوئے اوراُن کی آوازبن کر کام کرنے سے قوم ساتھ آئیگی،ورنہ فلکس اور پوسٹرس تو دو دن بعد میونسپل کارپوریشن کی گاڑیوں کے حوالے ہوجائینگے۔قیادت ا س طرح کی ہونی چاہیے کہ اگر قوم کے لیڈروں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو خود اُس قوم کے لوگ اپنے لیڈرکا حق دلوانے کیلئے میدان میں اُترآئیں،اس کے بجائے لیڈروں کی چاپلوسی سے نہ قیادت اُبھرسکتی ہے،نہ قیادت کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ قیادت کیلئے قوم کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے،نہ کہ قوم کے نام پر سیاست کرناچاہیے۔اس درمیان یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف پولیس تھانوں میں جان پہچان بناکر پولیس کی قربت حاصل کرناہی لیڈرشپ نہیں ہے،بلکہ قوم کے ساتھ نا انصافی ہونے پر سینہ تان کر انصاف کیلئے آوا ز اٹھانا چاہیے۔سوڈاہویا بوڈا یہ تمام عہدے سال دوسال کے ہوتے ہیں،لیکن حقیقت میں قوم کے درمیان اور قوم کے ساتھ رہنےوالے لیڈربنتے ہیں،سچ کو سچ،جھوٹ کو جھوٹ ،غلط کوغلط کہناہی اصل لیڈرشپ کی شناخت ہے۔گلپوشی شال پوشی اورگھروں میں بلاکر بریانی کھلانا قیادت نہیں غلامی کی نشانی ہے،اب تو مسلم لیڈروں کو جاگناہوگا،اپنے طرزِ عمل کو بدلناہوگا۔