بنگلور ( مدثر احمد شیموگہ ) : کرناٹک میںگزشتہ 7 سالوں سے اردو اکادمی کی تشکیل ممکن نہیں ہوپائی تھی اس دوران کرناٹکا کے اردو دان طبقے نے اپنی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی تھی مانو کہ اردو اکادمی اردو دانوں کی نہیں بلکہ کانگریس پارٹی کی ہے اور بی جے پی سے اس اکادمی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ لیکن اب جبکہ اردو اکادمی کی تشکیل ہوچکی ہے تو اس پر اردو دکے نام نہاد افراد اس کمیٹی کو لے کر بوال کھڑ ا کرنے کی کوشش میں ہیں جس سے یہ واضح ہورہاہے کہ میں نہ بنا تو تُو کیوں بنا ؟۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ اعتراضات وہ لوگ کررہے ہیں جو کبھی خود ہی اردو اکادمی کا حصہ رہے ہیں اور انکا مانناہے کہ اردو اکادمی کے چیرمین شپ کو ایک عالم دین کے ہاتھوں میں دینا مذاق ہے، جبکہ اس وقت اردو کی بقاء و ترقی کے ضامن ایک لحاظ سے علماء دین کررہے ہیں جو منبر و محراب سے اردو کا استعمال ، ترویج و ترقی کے لئے مسلسل کام کررہے ہیں ،جبکہ بیشتر اردو دان تو اپنی نسلوں کو انگریزی زبان کے حوالے کرچکے ہیں اور بعض تو انگریزی کو اپنے گھروں کے حصہ بنا چکے ہیں ۔ اکادمی کے بائلا میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ سنی ، شیعہ ، وہابی ، سلفی کو اردو اکادمی کے چیرمین کا عہدہ دیا جائے اور نہ ہی اکادمی میں تقررات مسلک کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں بلکہ اکادمی میں پہلی شرط ادب سے واقف ہونا اور اردو کا جاننا ہوتاہے ، دوسری شرط وہی ہے جو اب تک کے چیرمین اور اراکین عمل کرتے آئے ہیں وہ یہ کہ برسراقتدار پارٹی کے قریب ترین افراد ۔ ورنہ اکادمی کی کمیٹی کی تشکیل کے لئے امتحان کرنے کا نظم تو نہیں ہے ۔ اردو اکادمی میں اس وقت صرف مسلمانوں کی رکنیت ہی اس لئے ہوئی ہے کہ کرناٹک میں اردوادب سے جڑے ہوئے غیر مسلم افرادموجود نہیں ہیں کیو نکہ اس سے پہلے اردو اکادمی نے بیرونی ریاستوں کے شعراء و ادباء کو یہاں لاکر مشاعرے اور سمینار کروائے تھے اگر اس وقت کی اکادمی ذمہ داران غیر مسلموں میں اردو زبان کی محبت کے چراغ جلائے ہوئے ہوتے تو ممکن ہے کہ آج اردو اکامی میں شنکر نسیم، برج نارائن چکبست ، نارائن ملا منشی پریم چند اور رگھوپتی سہائے جیسے ادباء و شعراء کو شامل کیا جاسکتاتھا۔ اب جب اردو اکادمی بن چکی ہے تو انہیں پہلے کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے اور اگر کام نہیں ہوتاہے تو انکی تنقید کرنے کی ضرورت ہے ۔ برتن میں گوشت اور چاول ڈالے بغیر ہی بریانی کے مزے پر تبصرہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ وہیں سوشیل میڈیا پر یہ بھی تبصرے آرہے ہیں کہ اگر حکومت مسلمانوں کو خوش کرنا ہی چاہ رہی ہے تو حکومتی سطح پر دارالفتاء کا قیام کرے اور اسکے قاضی کو منسٹر رینک دے ۔ یہ تجویز اچھی ضرور ہے لیکن عمل میں لانا مشکل ہے کیونکہ قاضی کی تقرری پر بھی بعد میں اعتراض کرتے ہوئے کہا جائیگا کہ صرف سنی اور شیاء کو ہی قاضی کیوں بنایاجارہاہے احمدی اور بوہرے بھی سرکاری لحاظ سے مسلمان ہیں انہیں بھی قاضی کا عہدہ دیا جائے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت کرناٹک میں جو اکادمی بنی ہوئی ہے وہ ایک چیرمین کی نہیں بلکہ 9 چیرمینوں کی ہے کیونکہ 11 میں سے 9 افراد بھی چیرمین کی دوڈ میں تھے صرف 2 افراد اکادمی کے لئے نئے ہیں ۔ ایسے میں 9 چیرمینوں کی اس اکادمی کو کام کرنے کا موقع دینا چاہئے بعد میں منفی و مثبت رائے قائم کرنی ہوگی ۔ ویسے اردو اکادمی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہا جاسکتاہے کہ ” ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے ۔ ۔اکادمی نے چیرمین دیکھے کیسے کیسے !!۔
