جشن آدب عالمی مشاعرہ الجبیل سعودی عرب

مضامین

از:۔نقاش نائطی ۔نائب ایڈیٹر اسٹار نیوز ٹیلیوزن دہلی۔9665677707+

فارغین علیگڑھ "اے ایم یو آج” کی ذیلی شاخ "بزم ادب” کے زیر اہتمام آج 7 جون 2024، ڈیون اسکول آڈیٹوریم الجبیل میں، منعقدہ عالمی مشاعرہ اس لحاظ سے اردو ادب کی دنیا کا ایک تاریخی مشاعرہ کہلایا جائیگا کہ سابقہ دس سالہ بھارتیہ سنگھی مودی حکومتی نفرتی ماحول بعد، 4 جون اختتام پذیر ہونے والے ملک گیر عام انتخاب میں، 1400 ملین بھارت واسیوں نے،سنگھی مودی جی کی نفرتی سیاست کو جس طرح نکارتے ہوئے، بھارت کو آزادی دلوانے والے،آل انڈیا کانگرئس کے سابق صدر راہول گاندھی کے، بھارت کے طول و ارض، ‘پیدل سفرطویل سے (پدھ یاترا) ھندو مسلمان دلت برہمن کے درمیان محبت بھرے باد نسیم کے جھونکے پورے بھارت میں جو چلوائے تھےاور جس کے انمنٹ نشان بھارت کی 1400 ملین عوام نے اپنے ووٹ طاقت 4 جون دکھا بھی دئیے تھے، اس کے بہتر گھنٹوں کے اندر منعقد ہونے والا یہ مشاعرہ ہزاروں سالا بھارتیہ گنگا جمنی سیکیولر مذہبی تاریخ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، جہاں ہندستان سے ستر کے دہے کے مشہور استاد شاعر المحترم اسلم بدر کو صدر مشاعرہ کی حیثیت بلایا ہے، وہیں جہاں ھندی فلمی گانوں کے تخلیق کار، اردو ھندی کے معروف عوامی شاعر شری آلوک شریواستو کو، بھارت کی نمائندگی کرتے مہمان شاعر کے طور بلایا گیا ہے تو بھارت ہی کے پہلے والے حصہ جسم، پڑوسی پاکستان سے مشہور شاعر احمد سلمان، کو بھی بطور مہمان شاعر بلاتے ہوئے ، پردیس جائے معاش صحرائے عرب کے مشہور صنعتی شہر الجبیل میں، ہزاروں سالہ گنگا جمنی سیکیولر تہذیب کی لا تمثیل مثال قائم کردی ہے۔
المحترم ڈاکٹر نوشاہ صاحب، نفیس ترین و انیس بخش و باقر نقوی آصف صدیقی و عکیف صاحبان، سمیت احقر کی اجتماعی کاوشوں نے، مستقر اردو ادب،سرزمین ھند و پاک لکھنؤ اودھ و علیگڑھ سے ہزاروں میل دور، رہگزار عرب،سرزمین صنعت و حرفت، الجبیل سعودی عرب کی سنگلاخ ریگزار پر، منعقدہ عالمی مشاعرہ کو، شائقین اردو ادب ھند و پاک نے،اس قدر کامیاب بنانا ممکن کیا ہے کہ ہمیں سابقہ دو تین دہوں قبل المحترم مرحوم سعید منتظر علیہ الرحمہ کی طرف سے شہر الجبیل شروع کی ہوئی بزم اردو ادب یا کارواں سخن،نام کچھ بھی ہو وہ بزم یاد آتی ہے جس کی ہر ماہ محفلیں منعقد ہوتی تھیں۔ کبھی کسی کے گھر تو کبھی کسی اور کے گھر، کچھ ایسی سرگرمیاں دمام الخبر میں بھی ہوتی تھیں جس کی روح رواں ریحانہ روحی باجی صاحبہ، مشہور پاکستانی شاعر یونس اعجاز اور مشہور ہندستانی شاعر کوئی مرحوم صدیقی ہوا کرتے تھے۔ ہر دو تین ماہ بعد کچھ بڑی محفلوں میں الخبر کے شعرا کو الجبیل بلایا جاتا تو کبھی ہم یہاں سے الخبر کی محفلوں میں شریک ہونے پہنچ جاتے تھے۔ پھر اس سعید منتظر والی بزم کو مرحوم ڈاکٹر وجاہت فاروقی نفیس ترین،انیس بخش اور معراج انصاری کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ النور کمپاؤنڈ کچھ بڑے مشاعرے ہر چھ ماہ سال درمیان ہونے لگے۔اور یوں لوگ جڑتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ مرحوم سعید منتظر کے بیگ میں کپڑے کا ان کی بزم نام والا بینر تہہ کیا موجود رہتا تھا۔ جب بھی کسی کے گھرشعری محفل ہوتی اس بینر کو دیوار پرآویزان ہونے کا سنہرا موقع دستیاب ہوتا اس بزم ادب کے ساتھ ہم سبھوں کے تعاون سے شروع کئے یا منعقد کئے معرکہ الآراء استاد شعراء کرام متوفی گلزار دہلوی، کلیم عاجز مرحوم جیسے مرحومین کی شرکت والے کئی مشاعروں میں،ڈاکٹر وجاہت فاروقی مرحوم، اپنے بے انتہاء تعاون کے ساتھ ، مخلصانہ طور،آے ایم یو، یا شمیم جے پوری میموریل یا انکی اپنی خاکسار تحریک کا نام جوڑ دیا کرتے تھے۔ویسے تو فی زمانہ بزم یاراں سخن دمام الخبر، بہار انجمن دمام الخبر چاپٹر، بھٹکل مسلم جماعت منطقہ شرقیہ اور اے ایم یو آج نے،ہم تارکین ھند و پاک اردو ادب کے شائقین کی دلجوئی اہتمام ادبی نشست و مشاعرہ کی ذمہ داری اپنے سر لی ہوئی ہے،اور سال میں ایک دو بڑے مشاعروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ہم شائقین ارد ادب کو مل ہی جاتا ہے، لیکن منطقہ شرقیہ میں اردو ادب کو ایک نئی جہت نئی زندگی نئی پہچان شروع کئے جانے، 1991 دہران پیالیس ہوٹل آرامکو، بھٹکلی احباب کا اس خاکسار ہی کا اہتمام کردہ عالمی ھند و پاک مشاعرہ انڈین ایمبیسی فرسٹ اٹیچی المحترم مرحوم جعفر صادق شاہ بندری بھٹکلی کی صدارت میں،اپنے چار سو سامعین کے ساتھ صبح آذان تک جاری رہے، اس مشاعرے نے بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بقول جعفر صادق صاحب،انڈین ایمبیسی کے جدہ ریاض منعقد ہونے والے مشاعروں کے بعد، بھٹکلی احباب کا منعقدہ الخبر دمام1991 مشاعرہ سب سے شاندار مشاعرہ ہوا تھا۔ مرحوم سعید منتظر کے شروع کئے اس کارواں بزم سخن کو دوبارہ زندہ و تابندہ کئے جانے کی ضرورت ہے جہاں تمام شائقین اردو ادب علاقائی حصار و خول سے آزاد،اردو ادب کے نام ھند و پاک کے شیدائی اردو ادب جمع ہوسکیں اوراردو کے عملی بقا کے لئے، اپنی آپنی حصہ داری ادا کرسکیں۔
آج کے اس مشاعرہ منتخبہ دونوں مہمان شعراء کا کلام دل آفرین اورخوش کن تھاخصوصاً پاکستان سے الجبیل تشریف لائے احمد سلمان مدظلہ کے کلام نے تو دل خوش کردیا۔مقامی شعراء میں سے مصروف معاش الجبیل جناب اقبال اسلم بدر نے، مشاعرہ کی ابتداء کرتے ہوئے،اپنے خاص انداز میں مشاعرہ کو ابتداء ہی میں جولانیاں بخشتے ہوئے، اپنے والد بزرگوار صدر مشاعرہ کے سامنے، انتہائی اعلی کلام سناتے ہوئے، انکے اردو ادب استادانہ کلام کو، انکے بعد بھی قوم و ملت میں منتقل کرنے کی صلاحیت کو خوب درشایا۔شہر الجبیل ہی میں دو تین دہوں سے مصروف معاش ثاقب جونپوری نے اپنا کلام سنایا۔ فارغ علیگڑھ پیشہ طب سے وابسطہ ڈاکٹر سجاد صاحب نے اپنے استادانہ کلام سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کیا۔علیگڑھ کے ممتاز سائینس دان امریکی جنسیہ والے مقامی شاعر، ڈاکٹرنوشاہ صاحب تو اپنے کلام سے سامعین پر چھائے رہے انکی لالٹین کی فریاد نے تو ہمارے بھٹکلی متوفی استاد شاعر عبدالرحیم ارشاد مرحوم کی "لالٹین” نظم یاد دلاتے ہوئے، انکی مغفرت کی دعا مانگنے ہمیں مجبور کردیا۔
منجھے ہوئے اردو ھندی کے عوامی مہمان شاعر آلوک سریواستو کے،مجمع کے دل جیتتے پس منظر بعد،پاکستان سے ہماری دعوت پر الجبیل تشریف لائے احمد سلمان نےجس طرح اردو ادب کے اعلی معیار کو چھوتے، اپنے کلام سے مجمع کو سنبھالا اس کی توقع ہمیں تو نہ تھی خصوصا والیان حکومت کے حکومتی املاک بیج کھاتے، فی زمانہ رائج اقدارکو،جس خوبصورتی کے ساتھ اپنے شعروں میں ڈھال اردو شائقین ادب مجمع کے آذہان منتقل کیا یقیناً ان کے اس وصف کی تعریف کئے بنا نہیں رہا جاتا۔ عالم کی سب سے بڑی جمہوریت ھند میں انقلابی بدلاؤ کے اشارے دیتی 4 جون شب بعد ابھی 72 گھنٹے بھی نہیں گزر پائے تھے کل 7 جون کی شب نے،اقبال اسلم بدر کےکلام ،سنگھی نازی حاکم ھند مودی جی کی املاک ھند بیچ کھاتی یاد سمیت، پاکستانی حکام شرفاء زرداران ومحافظان کے ہاتھوں بکتے برباد ہوتے ملک و وطن کی بنتی درگت پر احمد سلیمان کے شعر و شاعری نے،گویا ھند و پاک سیاست کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوتی منظر کشی ، شاعری کے اصل مقصد کو زندہ و تابندہ کیا ہے۔ صدر مشاعرہ المحترم اسلم بدر مدظلہ نے گو کم سنایا لیکن اچھا معیاری اور استادانہ کلام سناتے ہوئے، سامعین اردو ادب کے دل و دماغ پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔ شہر الجبیل میں کافی عرصہ سے مصروف معاش رہے مستند شاعر جناب باقر نقوی نے، جہاں اپنے دل آفرین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا وہیں پر آج کے اس مشاعرہ کی دلنشیں انداز نظامت سنبھالے ہوئے، سامعین اردو ادب کو جھومنے پر مجبور بھی کیا*
صدر مشاعرہ مہمان شاعر المحترم جناب اسلم بدر صاحب ہندستان
خود اپنی ذات سے کیسی فراریت ہے میاں
عبادتوں سے بڑی چیز عبدیت ہے میاں
گدائے فقر ہوں، کاسہ الٹ کے رکھا ہے
انا طلب میں، دعائوں میں تمکنت ہے میاں
بنام جبہ و دستار و منبر و محراب
دکانداری کی اچھی صلاحیت ہے میاں
احمد سلمان پاکستان
دو دکھ رہا ہے اسی کے اندر،جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
یہ شعر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں
دور دور جنگل کی جھونپڑی میں ایک دیا ہے وہ شاعری ہے
دلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں
تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے وہ شاعری ہے
تمام دریا جو ایک سمندر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہوہ ایک دریا جو راستے میں ہی رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
الوک شری واستو ہندستان
تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیک جاتی ہیں
محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیک جاتی ہیں
تبسم عطر جیسا ہےہنسی برسات جیسی ہے
وہ جب بھی بات کرتی ہے باتیں بھیک جاتی ہیں۔
تمہاری یاد سے دل میں اجالا ہونے لگتا ہے
تمہئں جب گنگناتا ہوں تو راتیں بھیک جاتی ہیں
اقبال اسلم بدر الجبیل
خاموشی مظلوم ہوئی ہے مقتل کی تیاری ہے
سناٹو اب شور مچاؤ طوفانوں کی باری ہے
گلیوں گلیوں گھوم رہا ہوں بوجھ زمانے کا لیکر
آکر دیکھ یہ میرا کاسہ دیکھ یہ کتنا بھاری ہے
ثاقب جونپوری الجبیل
میں اپنے کل سے بے پروا وہ الجھا ہوا کل میں
ادھر صدیوں کی بے فکری ادھروحشت ہےپل پل میں
بجا یہ دور تمہارا ہے مختلف ہم سے
یہ التجا ہے ہماری بھی آبرو رکھنا
باقر نقوی الجبیل
ضروری کام کرنے جا رہا ہوں
میں اب آرام کرنے جا رہا ہوں
میں اپنی شاعری کا کل اثاثہ
تمہارے نام کرنے جا رہا ہوں
ڈاکٹر سجاد صاحب الجبیل
نہ مال و زر سے میسر نہ عزوجاہ میں ہے
سکون قلب تو بس اس کی بارگاہ میں ہے
شکست کھا تا ہے لشکر جو بار بار مرا
ضرور کوئی کجی تو صف سپاہ میں ہے
ڈاکٹر نوشاہ الجبیل
نفرتوں سے نہیں ہوتا کبھی نفرت کا علاج
دشمنِ جاں کو بھی سینے سے لگاؤ تو بنے