از:۔مجیب اللہ ظفاری۔9449551328
کسی بھی ملک کی ترقی و تہذیب کا معیاراس کی اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور اقلیتوں کی ترقی انکی تہذیبی پہچان کے تحفظ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اقلیتوں اور کسی بھی پسماندہ برادری کی ترقی کیلئے تعلیم اور روزگار میں تحفظ ان دونوں کا ہونانہایت ہی اہم ہے۔ ریاستِ کرناٹک کے مسلمان اپنی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے زمانہ دراز سے مسلسل جدوجہد کرتے رہے ہیں۔اور اسی ضمن میں حکومت نے بھی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے تئیں اکثر لچکدار حکمتِ عملی سے کام لیا ہے۔ اور ان کی فلاح و بہبودی کے لئے تعلیم اور روزگار میں مساوات کا روایہ اختیار کیا۔ ماضی میں مسلمانوں اور دیگر طبقات کے ساتھ کئی بار ناانصافیاں بھی سر زد ہوئی ہیں ۔لیکن وقتاً فوقتاً دانش مند وزراء اورکشاداقلب افسران نے در پیش آئے مسائل کا تشفی بخش حل بھی نکالا ہے۔
زمانہ قبلِ آزادی مملکتِ میسور کی عوامی انتظامیہ میں برہمنی طبقے نے جہاں اپنا غلبہ بنائے رکھا تھا اس کے خلاف پڑوسی صوبہ مدراس میں ای وی راما سوامی جو پیریار کے نام سے مقبول تھے انکی قیادت میں خود اعتمادی تحریک کا آغاز ہوا ۔ اس تحریک نے شاہی مملکت میسور میں بھی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔ اس تحریک کی باعث ریاست کے اوکلیگا اور لنگایت برادریوں نے سال 1918 میں عزت مآب نلواڑی کرشنا راج ووڈیار چہارم کو ایک یادداشت پیش کی ، جس کے نتیجہ میں عزت مآب نے شاہی مملکت میسور میں ریزرویشن کے معاملے پرغور کرنے کے لئے جسٹس سر لیلی ملرز کمیٹی کا تقرر کیا۔ جسٹس ملرز کمیٹی کی سفارش پر مملکت میسور کی مسلم برادری کو سن 1921 ء میں پسماندہ طبقے کے طور پر ریزرویشن کے لئے سفارش کی گئی۔ جس پر اس وقت کے دیوان سر ایم ویشوسوریا نے احتجاجاً حکومتِ وقت کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ، انکا ماننا تھا کے حکومت کے آسامیوں کی بھرتی صرف صلاحیتوں کی بنیاد پر ہونا چائیے ناکہ ریزرویشن کی بنیاد پر ۔
آزاد ہندوستان میں حکومتِ کرناٹک پسماندہ طبقات کے کمیشن شری آر۔ناگناگوڑا کو نامزد کیا۔ جنہوں نے سن 1961ء میں پہلی بار مسلمانوں میں پسماندہ 10 ذاتوں کو سب سے پسماندہ قرار دیکر ریزرویشن دینے کی سفارش کی۔ جس کے خلاف اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اس کے نتیجہ میں سن 1962 ء سے 1973 ء کی طویل مدت تک مسلمانانِ کرناٹک تعلیم اور روزگار کے میدان میں بغیر کسی ریزرویشن کے جدو جہد کرتے رہے۔ سن 1975 ء میں جب ڈی دیوراج ارس کرناٹک کے وزیراعلیٰ بنے تب اس معاملہ نے انگڑائی لی ۔ انہوں نے ہاونور کمیشن کا تعین کیا۔ سن 1977 ء میں ڈی دیوراج ارس حکومت نے مسلمانوں کو دیگر پسماندہ طبقہ مان کرریزرویشن کے لئے سرکاری حکم نامہ جاری کیا۔اس کے خلاف بھی ہائی کورٹ میں اعتراضات داخل کئے گئے ، لیکن عدالت نے آخرکاراس حکم نامہ کوبروئے کار لانے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ کے اس حکم نامہ کے خلاف ہندوستان کی عدالتِ عالیہ میں اپیل داخل کی گئی۔ عدالتِ عالیہ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تجسس کے ساتھ غور و فکر کے بعد سن1983 ء میں ریاستی حکومت کو یہ ہدایت دی کہ وہ مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے ریاست کی پسماندہ طبقات کی کمیشن کو از سر نونظرِ ثانی کرنے کی ہدایت جاری کرنے کا حکم دیا۔ دریں اشنا سن 1984 ء میں ریاستی حکومت نے پسماندہ طبقات کے کمیشن کیلئے جسٹس وینکٹ سوامی کو نامزد کیا ۔ جس نے ریاست کے مسلمانوںکی تعلیمی، ثقافتی و سماجی اعداد و شمار کا تدبر کرنے کے بعد ریاست کے مسلمانوں کو ریزرویشن جاری رکھنے کی شفارش کی ۔ ریاست کے ترقی یافتہ طبقوں نے ان شفارشات پر پُر زوراحتجاج کیا۔ اسی اثناء اس وقت کی حکومت کمیشن کی شفارشات کو قبول کرنے سے قاصر رہی۔ سن 1990 ء میں پسماندہ طبقات کے کمیشن کے لئے جسٹس او۔ چنپا ریڈی کو نامزد کیا گیا۔ جس نے دوبارہ یہ شفارشات پیش کی کہ کرناٹک کے مسلمانوں کو سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ماننے میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ ان شفارشات کی بنیاد پر سن 1994 ء میں ریاستی حکم نامہ جاری کرکے مسلمانوں کو زمرہ II میں شامل کیا گیا۔ ایک اور حکم نامہ کے تحت بدھ مت اور عیسائیوں کے ساتھ زمرہ IIB کے تحت مسلم کوٹہ 6 فیصد مقرر کیا گیا۔ تاہم، اسی سال منڈل کمیشن مقدمے کے نتیجے میں ہندوستان کے عدالتِ اعلیہ نے ریزرویشن کیلئےزیادہ سے زیادہ عمودی حد50 فیصد مقرر کی ۔ جس کا مطلب درجہ فہرست ذاتیں اور درجہ فہرست قبائل کے علاوہ پسماندہ طبقے کے ریزرویشن کو 27 فیصد تک محدود کرناپڑا۔ سن 1995 ء کے سرکاری حکم نامہ کے طور پر ریاستِ کرناٹک کے اقلیتوں میں صرف مسلمانوں کو 4% فیصد ریزرویشن دیا گیا۔مرکز ی اور ریاستی سطح پر کئی کمیشنوں نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ مسلم برادری کی اکثریت کوتعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندہ مانتے ہوئے ریزرویشن دینے کی شفارشات کی ہیں۔
سن 2023ء میں شری بسواراج بومائی حکومت نے کرناٹک میں مسلمانوں کو دیئے گئے 4 فیصد ریزرویشن کو بغیر کسی کمیشن کی شفارش کے انصاف کے تخاضوں کو پامال کرتے ہوئے ختم کر دیا اور انہیں برہمنوں اور جینوں کے ساتھ اقتصادی طور پر کمزور طبقے کے زمرے میں شامل کر دیا ۔وجہ یہ بتائی گئی کہ مسلم ریزرویشن صرف مذہب کی بنیاد پر ہے جو کہ غیر آئینی ہے اس طرح سماجی انصاف کے اصول اور آئین کی دھجیاںاڑائی گئیں ۔ریاستِ کرناٹک کے مسلمانوں کو دوبارہ عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ عدالتِ عالیہ نے حکومت کے اس اقدام کوعاجیلانہ قرار دیتے ہوئے اگلے احکامات تک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ریاستِ کرناٹک کے طلباء اور بے روزگار نوجوانوں کو ٹھنڈی سانس لینے کا موقع فراہم فرمایا۔
ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 15(4) اور 16(4) سماج کے سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقات کو ریزرویشن فراہم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ریاست کیرالہ نے مجموعی طور پر مسلم برادری کیلئےریزرویشن فراہم کیا ہے۔ (تعلیمی اداروں میں 8% اور سرکاری ملازمتوں میں 10%)۔ پڑوسی ریاست ٹاملناڈو میں پسماندہ مسلمانوں کیلئے 3.5% اندرونی ریزرویشن دیا گیا ہے جو کہ مسلم آبادی کا 95% پر مشتمل ہے۔
کرناٹک کے زمرہ IIB میں لفظِ’’ مسلمس‘‘ بتایا گیا ہے۔ اس کے برعکس پڑوسی ریاست تمل ناڈو کے اطلاع نامہ میں ’’ پسماندہ مسلمان ‘‘ بتایا گیا ہے۔ لفظ ’’مسلمس‘‘ تنگ نظر لوگوں کو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ اسلئے ریاستِ کرناٹک کے مسلمان ریاست کی پسماندہ طبقات کے کمیشن کو کرناٹک کے مسلمانوں کی پسماندگی کے اعداد و شمار کے ساتھ اس برادری کو ’’پسماندہ مسلمان طبقہ‘‘ کے نام سے ریزرویشن فراہم کرنے کی گذارش کے ساتھ یادداشات پیش کرکے حکومتِ حاضرہ کی طرف سے سرکاری حکم نامہ حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
