از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038

یومِ دستور ہندوستان کی تاریخ کا وہ روشن اور قابلِ فخر دن ہے جو ہر سال 26 نومبر کو ملک بھر میں احترام، اور آئینی شعور کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ جمہوری اقدار، قومی یکجہتی، شہری شعور اور انسانی مساوات کا ایسا سنگِ میل ہے جس نے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ 26 نومبر 1949 کو آئین ساز اسمبلی نے ہندوستان کے دستور کو باضابطہ طور پر منظوری دی۔ اگرچہ آئین 26 جنوری 1950 سے نافذ ہوا، لیکن منظوری کی تاریخ تاریخی اور فکری لحاظ سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اسی دن ہندوستان نے اپنے مستقبل کی سمت متعین کی اور ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد رکھی۔
آئینِ ہند دنیا کا سب سے بڑا تحریری آئین ہے جو نہ صرف اپنی ضخامت میں جید ہے بلکہ اپنے فلسفے اور اقدار میں بھی بے مثال ہے۔ اس میں بنیادی حقوق، بنیادی فرائض، پالیسی کے بنیادی اصول، مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات، عدلیہ کی آزادی، وفاقی نظام، مقامی خود مختاری، اقلیتوں کے حقوق اور شہری آزادیوں کا جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان کا آئین محض ایک قانونی کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور جامع دستاویز ہے جو وقت اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی تشکیل میں کئی ماہ کی بحث و تمحیص، ہزاروں تجاویز، سینکڑوں ترامیم اور گہری فکری محنت شامل ہے۔ ڈاکٹر بی. آر امبیڈکر نے آئین ساز کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اپنی غیر معمولی قانونی بصیرت اور گہری سماجی آگاہی کے ساتھ اس عظیم دستاویز کی شکل دینے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ یومِ دستور منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملک کے شہری آئین کی روح کو سمجھیں، اپنے حقوق کا ادراک کریں اور اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہوں۔ آئین نے ہر فرد کو مساوات، آزادی، مذہبی رواداری، ثقافتی تحفظ، انصاف اور انسانی وقار جیسے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ آئین شہریوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ ملک کی سالمیت و خود مختاری، ماحول اور عوامی املاک کا احترام کریں۔ ایک ذمہ دار شہری کا کردار انہی حقوق اور فرائض کے توازن میں پوشیدہ ہے۔ یومِ دستور شہریوں کے لیے اسی شعور کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی چیلنجوں سے دوچار ہے، آئین کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں مختلف نظریات، گروہی مفادات، سوشل میڈیا کا اثر، معاشرتی بے چینی اور عالمی سیاسی تغیرات ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی ملک کی بنیادیں ہلا سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں آئین ایک مستحکم رہنما کی حیثیت رکھتا ہے جو قوم کو صحیح سمت میں گامزن رکھتا ہے۔ یومِ دستور کا پیغام یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کی آزادی رکھتے ہوئے بھی آئین کی بالادستی تسلیم کریں، قانون کے احترام کو یقینی بنائیں، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں اور ایک مضبوط جمہوری معاشرہ تشکیل دیں۔
ہندوستان کا آئین یہ اعلان کرتا ہے کہ ملک ایک خود مختار، سوشلسٹ، سیکولر اور جمہوری جمہوریہ ہے جہاں حکومت عوام کی مرضی سے چلتی ہے۔ یہاں ہر شہری کو بغیر مذہبی، نسلی، لسانی یا صنفی امتیاز کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ یومِ دستور اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ وطن کی ترقی صرف معاشی و تکنیکی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ آئینی قدروں کے احترام، عدل کے قیام، انسانی حقوق کی پاسداری اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ہوتی ہے۔ اس دن ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور سماجی تنظیمیں خصوصی تقاریب منعقد کرتی ہیں جن میں آئین کے دیباچے کی تجدید کی جاتی ہے، لیکچرز اور مباحثے ہوتے ہیں، اور لوگوں کو آئین کی اہمیت سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے یومِ دستور کی اہمیت دوچند ہے۔ آنے والے وقتوں میں ملک کی قیادت انہی کے ہاتھوں میں ہوگی، اس لیے انہیں آئینی شعور، جمہوری اخلاقیات اور قومی ذمہ داریوں کا علم ہونا لازمی ہے۔ آج جب کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل، مصنوعی ذہانت پر مبنی اور عالمی منڈیوں سے جڑی ہوئی ہے، نوجوانوں کے لیے آئین کی اقدار کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملک کو ایک مضبوط، منظم اور امن پسند معاشرہ بنا سکیں۔ یومِ دستور ایک ایسا دن ہے جو انہیں اس شعور کی یاد دلاتا ہے۔ آئینِ ہند کا ایک بڑا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس میں ریاست اور عوام دونوں کے حقوق و ذمہ داریوں کا توازن رکھا گیا ہے۔ نہ ریاست کو مطلق العنان اختیارات دیے گئے ہیں اور نہ عوام کو بے مہار آزادی۔ طاقت کے مختلف مراکز یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور توازن، ملک کو جمہوری استحکام عطا کرتا ہے۔ عدلیہ کی آزادی آئین کا سب سے مضبوط ستون ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ یومِ دستور ہمیں اس عدل و انصاف کے نظام کی عظمت یاد کراتا ہے جس کے سائے میں ملک کا ہر فرد خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔
یومِ دستور مناتے وقت ہمیں اس تاریخی پس منظر کو بھی یاد رکھنا چاہیے جس میں یہ آئین بنا۔ ملک غلامی کے طویل دور سے تازہ آزاد ہوا تھا۔ معاشی کمزوری، سماجی ناہمواری، فرقہ واریت، ذات پات اور تعلیمی پسماندگی جیسے مسائل کے درمیان ملک کو ایک ایسی دستاویز کی ضرورت تھی جو نہ صرف قانون کا درجہ رکھے بلکہ قوم کو متحد رکھ سکے۔ آئین سازوں نے بڑی دانشمندی کے ساتھ مختلف تہذیبوں، مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کو ایک لڑی میں پرویا اور ہندوستان کو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بننے کا راستہ فراہم کیا۔ یومِ دستور صرف ایک تاریخی دن کی یادگار نہیں بلکہ آئینی اقدار کے احیاء، شہری شعور کے بیدار کرنے، قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور جمہوری روایات کو دوام دینے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کی اہمیت بھی یاد دلاتا ہے اور ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ ایک مضبوط، منظم اور ترقی یافتہ ملک صرف تبھی وجود میں آ سکتا ہے جب شہری آئین کی روح کو سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ یومِ دستور ایک عہد ہے۔آئین سے وفاداری کا، انصاف سے وابستگی کا، اور ایک روشن، متحد اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کا۔ یومِ دستور کی تجدید اس لیے ضروری ہے کہ یہ دن ہمیں آئین کی بنیادی روح، قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وقت کے ساتھ بدلتے حالات میں شہریوں کو اپنے حقوق، فرائض اور آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ رکھنا نہایت اہم ہے۔ تجدیدِ عہد سے نئی نسل میں آئینی شعور پروان چڑھتا ہے، اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ملک کی ترقی، انصاف اور مساوات اسی وقت ممکن ہے جب ہم دستور کی پابندی کریں اور اس کے اصولوں کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کریں۔
موجودہ ملکی حالات کے پس منظر میں یومِ دستور کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج جب معاشرہ بے یقینی، خلفشار، منافرت اور باہمی عدمِ اعتماد کا شکار ہے، ایسے میں دستورِہند ایک مضبوط ستون کی طرح ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ دستور محض قانونی دفعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا قومی عہدنامہ ہے جو ہر شہری کو مساوات، آزادی، انصاف اور باوقار زندگی کا حق دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف معاشی وسائل سے نہیں بلکہ اصولوں، انصاف اور مشترکہ قومی شعور سے ترقی کرتی ہیں۔ انتشار کے اس دور میں دستور ہمیں صبر، تحمل اور قانون کی بالادستی کا راستہ دکھاتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم جذبات، تعصبات اور وقتی مفادات سے بالاتر ہوکر دستور کے بنیادی اقدار،جمہوریت، سیکولرزم، اور بنیادی حقوق،کو مضبوطی سے تھامیں۔
اگر ہم نے دستور کی روح کو نظرانداز کیا تو انتشار مزید گہرا ہوگا اور قومی یکجہتی کمزور پڑ جائے گی۔ یومِ دستور ہمیں خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم آئینی ذمہ داریوں کو کتنی سنجیدگی سے نبھا رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ قوموں کی بقا آئینی اصولوں کی پاسداری میں ہے۔ یہی راستہ امن، استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔یومِ دستور کا اصل پیغام یہ ہے کہ قومی یکجہتی، جمہوری اقدار، مساوات، انصاف اور شہری آزادیوں کا احترام کیا جائے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ دستور ہماری قومی شناخت کا محور ہے، جو ملک کو استحکام، انصاف اور ہر شہری کو بااختیار بنانے کا ضامن بنتا ہے۔ ملکی موجودہ حالات میں آئین کی پاسداری محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ قوم کی بقا، یکجہتی اور امن کی ضمانت ہے۔ جب ہم دستور کی روشنی میں قدم بڑھاتے ہیں تو انتشار کی دھند چھٹنے لگتی ہے اور قوم ایک مضبوط، باوقار اور منصفانہ مستقبل کی طرف بڑھتی ہے۔ آئین ہی ہماری اصل طاقت ہے۔
