سنگھ پریوارکی فساد کی منصوبہ بندی ناکام:داونگیرہ پُرامن،لیکن حالات تشویشناک

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

عورتوں اور بزرگوں پر پولیس کاظلم:پچاس سے زائد افراد گرفتار،اے ڈی جی پی کا دورہ

داونگیرے(گرائونڈ رپورٹ مدثراحمد/طارق نقاش ) :۔داونگیرے میں جمعرات کی شام کو سنگھ پریوارکی جانب سےفسادات کو انجام دینے کیلئے جومنصوبہ بندی کی گئی تھی وہ کوشش کافی حدتک ناکام ہوئی ،شہرمیں بڑے فسادکو انجام دینے کی جو کوشش کی گئی تھی وہ کوشش مسلمانوںکے صبرکی وجہ سے ناکام ہوئی ہے،البتہ چند گھنٹوں کےفسادکی وجہ سےامام نگر،بیتورروڈ سمیت مختلف محلوں میں اقلیتی طبقہ کا مالی نقصان ہواہے،ساتھ ہی ساتھ پچاس سے زائد نوجوانوں کوگرفتارکیاگیاہے۔جمعرات کی رات کو ستیش پجاری نامی ہندوجاگرن ویدیکے کے کنوینیر نے گنیش کے وسرجن کے موقع پر اشتعال انگیز بیانات دئیے تھے۔ستیش پجاری نےدو دن قبل مسلمانوں کے خلاف بھڑکائو بیان دیاتھا،جس کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم تنظیموں نے اس کے خلاف ایف آئی آردرج کروائی تھی،لیکن پولیس نے ستیش پجاری پر بروقت کارروائی کرنے کے بجائے معمولی دفعات کے مطابق ایف آئی آردرج کیاتھااوراسے اسٹیشن بیل پر رہاکیاتھا۔ستیش پجاری کے ساتھ پولیس کے برتائو کو لے کر مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی گئی تھی اور انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیاتھاکہ ستیش پجاری کوگرفتارکرتے ہوئے اسے حوالات میں بندکیاجائے،لیکن پولیس نے اس مطالبے کو نظراندازکیاتھا۔بتایاجارہاہے کہ جمعرات کی شام کو پانچ بجے سرپرائیز دینے کی بات بھی ہندو تنظیموں کی جانب سےکی گئی تھی،اس تعلق سے بھی مسلمانوں نے پولیس حکام کو بآورکرتے ہوئے حالات پر گہری نظررکھنے کی گذارش کی تھی اور سوشیل میڈیا پر لوگوں کو بھڑکانے اور اُکسانےوالے پیغامات کے خلاف کارروائی کرنےکا مطالبہ کیاگیاتھا۔ان تمام سنگین حالات کے درمیان جمعرات کی شام پانچ بجے ستیش پجاری نے بھڑکائوبھاشن دیاتھا،اس بھاشن فوراً بعد گنیش وسرجن میں شامل ہونےوالے ہندوتواسوچ کے شرپسندوں نے اچانک مسلمانوں اور دُکانوں پر پتھرائوکیاتھا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ پیچیدہ ہوگیا اورپولیس نے لاٹھی چارج کیاتھا،لیکن پولیس کی زیادتی پتھرکھانےوالوں پر ہی ہوئی،کل دیررات کئی پولیس اہلکار مسلم علاقوں میں گھسے اور نوجوانوں کو پکڑنے کا سلسلہ شروع کیا۔پچاس سے زائد نوجوانوں کو گرفتارکیاگیاہے،گرفتاری کیلئے پہنچے پولیس اہلکاروں نےخواتین،بزرگوں اور بچوں پر بھی لاٹھیاں برسائی،یہاں تک کہ جسمانی طورپر اپاہج لوگوں کو بھی پولیس نے نہیں بخشا۔صبح پانچ بجے تک پولیس کی بربریت چلتی رہی۔اطلاعات کے مطابق کئی سماجی کارکنان کوبھی پولیس نے گرفتارکیاہے۔آج صبح اےڈی جی ڈاکٹرکے تھیاگراجن نے حالات کا جائزہ لیا۔آزادنگر پولیس تھانے میں اے ڈی جی پی کی آمدکے موقع پر یہاں کی انجمن،میلادکمیٹی کے نمائندوں نےاے ڈی جی پی کو حالات سے واقف کروایا اور تمام تفصیلات اے ڈی جی پی کے سامنےپیش کی۔اسی دوران ایم آئی ایم کے ضلعی صدرمحمد شعیب اُللہ اور جنرل سکریٹری محمد عظمت اُللہ نے اے ڈی جی پی کو متعلقہ معاملے کے ثبوت سی ڈی میں پیش کئے اور انہیں ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔انقلاب نیوزکی ٹیم جب متاثرہ علاقے کا جائزہ لینے پہنچے تو یہاں پرخواتین اور بزرگوں کی آہ وزاری کو نوٹ کیا،کئی خواتین پولیس کی بربریت پرنہ صرف انہیں کوس رہی تھیں بلکہ سیاسی قائدین کی خاموشی پر بھی انہوں نے برہمی کااظہار کیا۔کئی گھروں کے دروازوں کو توڑکر پولیس نے گھروں میں سوئے ہوئے مردوں کو اُٹھاکر لے گئےاور خواتین سے گندی گالی گلوچ بھی کیا۔