انا للہ و انا الیہ راجعون

مضامین

کروشی گاؤں کا علمی و اخلاقی سرمایہ، استادِ بزرگوار جناب استاد درویش پٹیل صاحب کے وصال کی خبر نے دلوں کو غم سے بھر دیا۔ عمرِ عزیز کے 87 برس بسر کرنے کے بعد بروز 27 ستمبر 2025، صبح 8 بجے وہ مالکِ حقیقی سے جا ملے۔مرحوم کی پوری زندگی تعلیم و تربیت کے لیے وقف رہی۔ وہ محض ایک معلم نہ تھے بلکہ حقیقی معنوں میں ایک مربی، رہنما اور بزرگ تھے۔ ان کے درویشانہ مزاج، سادہ طبیعت، خلوص اور شفقت نے انہیں کروشی ہی نہیں بلکہ اطراف و اکناف میں ایک زندہ و جاوید شخصیت بنا دیا۔ استاد درویش پٹیل صاحب نے گاؤں کے ہر گھرانے پر احسان فرمایا۔ وہ چراغِ علم تھے جن سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے۔ ان کے شاگرد آج دین و دنیا کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں اور اپنے ہر عمل و کردار میں اپنے محسن استاد کی تربیت کا عکس لیے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی طویل فہرست ہے جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔ان کے علم کی خوشبو اور ان کی نصیحتوں کی روشنی ہمیشہ دلوں کو معطر اور منور کرتی رہے گی۔ خاکسار کی حیثیت سے میں بھی فخر کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ میرا شمار ان کے شاگردوں میں ہے۔ جو کچھ ہم میں نیکی، علم اور کردار کی صورت میں موجود ہے، وہ ان کی محنت، محبت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔مرحوم کی رحلت نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پورے گاؤں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین و شاگردان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
سوگوار۔آفتاب عالم پٹیلکروشی، بلگام، کرناٹک