از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038
کسی بھی زبان کے لیے اس کا رسمِ الخط بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ زبان کی تحریری شناخت اسی کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔ رسمِ الخط الفاظ کے صحیح تلفظ، معنی اور ساخت کو محفوظ رکھتا ہے، اور نسلوں کے درمیان علمی و ادبی ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔ جب کوئی زبان ایک مضبوط اور مستحکم رسمِ الخط رکھتی ہے تو اس کی علمی روایت محفوظ رہتی ہے، کتابوں، دستاویزات اور تاریخ کا سرمایہ بغیر بگاڑ کے منتقل ہوتا رہتا ہے۔ رسمِ الخط نہ صرف زبان کو ضبط میں لاتا ہے بلکہ اس کی تہذیبی اور ثقافتی پہچان کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہر رسمِ الخط اپنے ساتھ ایک تاریخی پس منظر، جمالیاتی انداز اور فکری ورثہ رکھتا ہے؛ اسی لیے زبان کی شناخت اس کے رسمِ الخط سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر رسمِ الخط میں اچانک یا غیر ضروری تبدیلی کی جائے تو ہزاروں کتابوں، دستاویزات اور تعلیمی وسائل کی معنوی یکسانیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی رسمِ الخط کی خاص اہمیت ہے۔ ایک واضح، منظم اور معیاری رسمِ الخط کے ذریعے طلبہ آسانی سے پڑھنا اور لکھنا سیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر رسمِ الخط پیچیدہ یا غیر منظم ہو تو خواندگی کی شرح متاثر ہوتی ہے۔ مختصراً، کسی بھی زبان کا رسمِ الخط اس کی شناخت، بقا، تہذیب، علم اور رابطے کا ناقابلِ بدل ستون ہے۔ یہ امر واقعی لمح فکریہ ہے کہ حال ہی میں یومِ اردو بڑے جوش و خروش سے منایا گیا، تقاریر ہوئیں، اردو کی محبت اور اس کی شیرینی کا کئی زاویوں سے ذکر ہوا، لیکن افسوس کہ اردو رسمِ الخط کو فروغ دینے کے لیے عملی سطح پر بہت کم کوششیں کی گئیں۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ بہت سے وہ احباب جو اردو سے حقیقی لگاؤ رکھتے ہیں اور زبان پر عبور بھی رکھتے ہیں، وہ بھی آپس کی موبائل میسجز میں رومن حروف کا استعمال کرتے ہیں۔ اس رویّے سے نہ صرف اردو کی کتابتی روایت کمزور ہوتی ہے بلکہ نئی نسل کے لیے اردو رسمِ الخط سے مانوس ہونا بھی دشوار بن جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یومِ اردو جیسے مواقع کو صرف رسمی تقاریر تک محدود نہ رکھیں، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اردو رسمِ الخط کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ موبائل فون پر اردو کی بورڈ کا استعمال، سوشل میڈیا پر اردو میں تحریر، تعلیمی اداروں میں خطاطی اور رسمِ خط کی تربیت یہ سب وہ سرگرمیاں ہیں جو اس قیمتی ادبی ورثے کو زندہ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر ہم حقیقتاً اردو سے محبت کرتے ہیں تو اس کا اولین ثبوت یہی ہے کہ ہم اپنی زبان کو اس کے اصل رسمِ الخط میں لکھیں، سمجھیں اور آگے منتقل کریں۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب کمال اتاترک پاشا نے 1928ء میں ترکی زبان کا رسمِ الخط عربی سے بدل کر لاطینی رسمِ الخط میں منتقل کیا تو اگرچہ اس تبدیلی کے کچھ عملی فوائد بھی سامنے آئے، مگر اس کے ثقافتی، تہذیبی اور علمی نقصانات نہایت گہرے اور دور رس ثابت ہوئے۔ اس تبدیلی نے صدیوں پر محیط عثمانی تہذیب کے علمی ورثے اور نئی نسل کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا کر دیا جو آج تک پوری طرح پُر نہیں ہو سکا۔ سب سے پہلا اور بنیادی نقصان یہ ہوا کہ لاکھوں مخطوطات، سرکاری دستاویزات، علمی کتب، فقہی آثار، تاریخی ریکارڈ اور ادبی سرمایہ جو عربی رسمِ الخط میں تھا، نئی نسل کے لئے اجنبی بن گیا۔ نئی رسمِ الخط کے رائج ہونے کے بعد نوجوان ترک نہ تو اپنی زبان کے کلاسیکی ادب کو پڑھ سکے، نہ اپنی ریاستی اور علمی تاریخ سے براہِ راست واقف ہو سکے۔ نتیجتاً ایک پوری قوم اپنے ماضی سے کٹ گئی اور علمی تسلسل منقطع ہوگیا۔ دوسرا بڑا نقصان یہ تھا کہ ترکی قوم کی اسلامی شناخت، مذہبی روایت اور روحانی ورثہ جو عربی رسمِ الخط سے گہرا تعلق رکھتا تھا، بتدریج کمزور ہوتا گیا۔ قرآنِ کریم، حدیث، فقہ، تصوف اور دینی علوم کے ہزاروں ذخیرے تک براہِ راست رسائی مشکل ہوگئی، جس سے دینی وابستگی اور علمی گہرائی میں نمایاں کمی آنے لگی۔تیسرا نقصان یہ ہوا کہ اس تبدیلی کے بعد ترک معاشرے میں ایک ذہنی و تہذیبی خلا پیدا ہوا۔ نئی نسل اپنے بزرگوں کی تحریروں کو نہ پڑھ سکی، نہ ان کے علمی کارناموں اور زبان کی اصل ساخت سے واقف ہوسکی۔ اس نے نہ صرف علمی تنہائی کو جنم دیا بلکہ قومی یادداشت کو بھی شدید متاثر کیا۔ یوں رسمِ الخط کی تبدیلی نے ترکی قوم کو فکری، تہذیبی، تاریخی اور مذہبی حوالوں سے تقسیم کر دیا۔ اگرچہ لاطینی رسمِ الخط کچھ حد تک علمی ترقی کا ذریعہ بنا، مگر اس کے بالمقابل ترک قوم اپنی صدیوں پرانے دھارے سے ہٹ کر ایک نئے راستے پر چل پڑی،جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ترکی میں رسمِ الخط کی تبدیلی کے بعد پوتا اپنے ہی دادا کی تحریر تک نہ پڑھ سکا! کیا کوئی المیہ اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے کہ ایک ہی خاندان کی نسلیں آپس کے لکھے ہوئے الفاظ سے بھی بیگانہ ہو جائیں؟ کیا دادا کے ہاتھوں کی لرزش میں لکھی نصیحتیں، دعائیں، تجربات اور محبت کے جملے صرف اس لیے بے معنی ہو جائیں کہ رسمِ الخط بدل دیا گیا؟ سوال یہ ہے کہ کیا ایک قوم اپنی علمی روایت، اپنے تہذیبی رشتے اور اپنی خاندانی تحریری امانتیں قربان کرکے بھی آگے بڑھ سکتی ہے؟ اگر آج ایک نسل اپنے بزرگوں کی تحریری وراثت کو ہی نہ پڑھ سکے تو پھر تاریخ، ثقافت اور جذبات کے ان رشتوں کی حفاظت کیسے ہوگی؟ رسمِ الخط صرف حروف کا مجموعہ نہیں ہوتا؛ یہ تہذیب کی سانس، ماضی کی آواز اور دلوں کو جوڑنے والی لڑی ہوتا ہے۔ جب یہی لڑی ٹوٹ جائے تو پھر زبان ہی نہیں، پورا خاندان، پوری قوم اپنے ماضی سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہ سوال آج بھی ہمارے لیے لمح فکر ہے کہ اگر رسمِ الخط ہی نہ بچے تو نسلوں کے درمیان رشتہ علم کا ہوگا یا اجنبیت کا؟
چونکہ آج کی دنیا میں انگریزی سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی رابطے کی بنیادی زبان بن چکی ہے، اس لیے اسے سیکھنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ لیکن ہماری مادری زبان کی قیمت پر نہیں۔ اگر ہمارے بچے اردو اسکول میں نہیں پڑھتے ہیں تو انگریزی زبان کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری نئی نسل کم از کم گھر کے ماحول میں اردو رسمُ الخط پڑھ سکے۔ اگر ہم نے اپنی زبان کے رسمُ الخط کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں اپنے ہی ادبی ورثے سے کٹ جائیں گی۔ اس لیے کہ گھروں میں اردو رسم الخط کی مشق اور محبت کو فروغ دیا جائے تاکہ ہماری تہذیب اور شناخت محفوظ رہ سکے۔ یومِ اردو کے پس منظر میں یہ سوچنا نہایت ضروری ہے کہ ہم اردو رسمِ الخط کے فروغ کے لیے کون سے عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔ آج کے دور میں جب نوجوان نسل زیادہ تر رومن میں پیغام رسانی کرتی ہے، تو اردو رسمِ الخط کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ صرف حروف کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ادبی وراثت اور شناخت کا حصّہ ہے۔ سب سے پہلے گھر کے ماحول میں اردو رسمِ الخط کی تعلیم کو رائج کیا جائے۔ والدین اپنے بچوں کو روز چند سطریں اردو میں لکھنے کی ترغیب دیں۔
ڈیجیٹل دور میں بھی اردو رسمِ الخط کو جگہ دینا ضروری ہے؛ موبائل کی بورڈ، سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ایپس پر اردو میں لکھنے کی عادت ڈالی جائے۔ اہلِ قلم، اساتذہ اور صحافی اس سلسلے میں مثال قائم کریں کہ اردو کی اصل روح اسی کے اپنے رسمِ الخط میں محفوظ ہے۔ آخر میں، یومِ اردو صرف تقاریر کا دن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تجدید کرنے کا موقع ہے کہ ہم آنے والی نسلوں تک اردو رسمِ الخط کی خوب صورتی اور اہمیت کو پوری ذمہ داری کے ساتھ منتقل کریں۔ یہ ہی زبان و تہذیب کی بقا کا راستہ ہے۔ ہندوستان میں کچھ دہائیوں قبل چند ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں نے اردو کے لیے دیوناگری رسم الخط اختیار کرنے کی تجویز پیش کی تھی، مگر اہلِ اردو نے اس خیال کو قبول نہ کیا۔ اردو رسم الخط نہ صرف زبان کی شناخت ہے بلکہ اس کے ادبی ورثے، تہذیبی روایت اور تاریخی تسلسل کا امین بھی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ محبان اردو نے اپنی زبان کے اصل رسم الخط کی بھر پور حمایت کی اور اسے دیوناگری میں منتقل کرنے کی سخت مزاحمت کی۔ یہی مزاحمت اردو کی بقا، اس کی جمالیاتی روح اور تہذیبی وقار کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
