از:- حفصہ بیگ ۔7022501540
اپنا ضمیر پاک ہے چل راہ بے خطر
پھر چاہے جس نگاہ سے دیکھا کرے کوٸی
(رضا )
دوپہر کی دھوپ سڑک پر سنہری چادر کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ ایک لڑکا اور لڑکی آہستہ آہستہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے۔ ان کے درمیان فاصلہ ضرور تھا مگر اس خاموشی میں ایک باوقار اعتماد جھلک رہا تھا۔
سامنے چائے کی ریڑھی کے پاس بیٹھے سلیم چاچا نے نظریں اٹھائیں ہلکا سا مسکرائے اور اپنے ساتھی سے بولےدیکھا؟ آج کل کے بچے عاشق معشوق بن کر گھومتے ہیں۔ حیا نام کی چیز تو رہی ہی نہیں۔
قریب ہی بیٹھے پروفیسر رضوان نے چائے کی چسکی لی اور نہایت متانت سے کہاسلیم، تمہیں کیسے یقین ہے کہ وہ عاشق معشوق ہی ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بھائی بہن ہوں؟ یا محض دوست؟ یا شاید کوئی ایسا رشتہ جس کا ہم تصور بھی نہ کر سکیں؟سلیم نے قدرے حیرت سے انہیں دیکھا۔پروفیسر صاحب! نظر سب کچھ کہہ دیتی ہے۔پروفیسر رضوان مسکرائے۔ہاں سلیم مگر نظر وہی کچھ دیکھتی ہے جو سوچ دکھاتی ہے۔ اگر اندر کا آئینہ صاف ہو تو منظر کبھی گندا نہیں لگتا۔اسی لمحے ہوا کا ایک جھونکا آیا، ریڑھی کی چائے کی بھاپ فضا میں تحلیل ہو گئی۔ پروفیسر نے بات جاری رکھی:”انسان ہمیشہ اپنی سوچ کے رنگ سے دنیا کی تصویر بناتا ہے۔ وہی منظر کسی کے لیے محبت ہوتا ہے، کسی کے لیے محبت ہوتا ہے، کسی کے لیے گناہ، اور کسی کے لیے محض خاموشی۔ سلیم خاموش ہو گیا۔ چائے ٹھنڈی ہونے لگی۔ اس کے ذہن میں کئی پرانے مناظر ابھر آئے وہ لمحے جب وہ خود کسی کے ساتھ چل رہا تھا اور دنیا نے اپنی اپنی مرضی کے معنی تراش لیے تھے۔پروفیسر نے کپ خالی کیا اور جاتے جاتے بس اتنا کہا،
سوچ کی پرورش اگر مثبت نہ ہو تو نظر ہمیشہ الزام دیتی ہے اور دل کبھی امن نہیں پاتا۔دور وہی لڑکا اور لڑکی اب سڑک پار کر رہے تھے۔ دھوپ ذرا مدھم ہو چکی تھی۔ اور سلیم کے دل میں پہلی بار یہ خیال ابھرا شاید وہ واقعی بھائی بہن ہوں۔
