از؛۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔کروشی بلگام کرناٹک۔8105493349

صوبہ کرناٹک میں دسویں جماعت کے نتائج آ چکے ہیں، اور جب سے یہ نتائج آئے ہیں، سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔ یقینا یہ طلبہ و طالبات مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے پورے سال محنت کر کے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے وقتاً فوقتاً طلبہ کی رہنمائی اور رہبری کی۔
دسویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کسی بھی طالب علم کی تعلیمی زندگی میں ایک اہم موڑ (ٹرننگ پوائنٹ) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد طلبہ کو مزید محنت، سنجیدگی اور درست رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نتائج آتے ہی جہاں طلبہ خوشیوں میں مگن ہوتے ہیں، وہیں والدین اور سرپرست اس فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بچوں کا داخلہ کہاں، کس شہر، کس کالج اور کس شعبے میں کروایا جائے۔آج کل یہ بات عام ہو چکی ہے کہ اگر کسی طالب علم کے 90 فیصد سے زائد نمبر بھی ہوں، تب بھی کسی اچھے پرائیویٹ کالج میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپے کی فیس درکار ہوتی ہے، جو ایک متوسط گھرانے کے لیے نہایت مشکل امر ہے۔ ایسے حالات میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے بچوں سے مشورہ کریں اور ان کی دلچسپی معلوم کریں کہ وہ سائنس، کامرس یا آرٹس میں سے کس شعبے کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے کی دلچسپی کامرس یا آرٹس میں ہوتی ہے، مگر والدین کی خواہش اور دباؤ کے باعث اسے سائنس میں داخلہ دلوا دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ بچہ دو سال خوف، دباؤ اور عدم دلچسپی کے ساتھ تعلیم مکمل کرتا ہے اور وہ نتائج حاصل نہیں کر پاتا جن کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض طلبہ سائنس پڑھنا چاہتے ہیں، مگر مالی مسائل کی وجہ سے انہیں کسی اور شعبے میں داخلہ لینا پڑتا ہے، جس سے ان کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہر انسان کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ جس طرح ہر جانور درخت پر نہیں چڑھ سکتا، اسی طرح ہر طالب علم کے لیے سائنس ہی واحد راستہ نہیں ہوتا۔ دیگر شعبے بھی ہیں جہاں ایک طالب علم بہترین کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کی دلچسپی کے بغیر ان کا داخلہ کروانا ان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔بعض اوقات یہی دباؤ اور ناکامی بچوں کو ذہنی تناؤ (ڈپریشن) کی طرف لے جاتا ہے، جو انتہائی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ دانشمندی سے کام لیں اور بچوں کے ساتھ مضبوط رابطہ قائم رکھیں۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حکومتِ کرناٹک کی جانب
سے کئی سرکاری اور امدادی (ایڈیڈ) کالجز موجود ہیں، جہاں معیاری اور بسا اوقات مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ متوسط طبقے کے والدین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ غیر ضروری قرض لے کر مہنگی فیس ادا کرنے کے بجائے اپنے بچوں کا داخلہ کسی اچھے سرکاری کالج میں کروائیں اور ان کی مسلسل رہنمائی کرتے رہیں۔حال ہی میں بارہویں جماعت کے نتائج میں بھی یہ دیکھا گیا کہ سرکاری کالجوں کے کئی طلبہ نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کی بنیادی وجہ طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی لگن ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کامیابی کا دارومدار ادارے سے زیادہ محنت اور رہنمائی پر ہوتا ہے۔دیکھا دیکھی یا معاشرتی دباؤ میں آ کر بچوں کو مہنگے اداروں میں داخل کروانا ضروری نہیں۔ اصل ضرورت درست فیصلے اور مستقل مزاجی کی ہے۔مزید یہ کہ ماہرینِ نفسیات کے مطابق 16 سال کی عمر لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے نہایت حساس اور اہم ہوتی ہے۔ اس عمر میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کی ضروریات پوری کریں، مگر ان پر مناسب نگرانی بھی رکھیں۔ آج کل حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ بعض بچے کالج یا ٹیوشن کا بہانہ بنا کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔
خاص طور پر بیٹیوں کے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہینے میں دو سے تین مرتبہ کالج کا دورہ کریں، اساتذہ اور پرنسپل سے ملاقات کریں، اور اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اس سے بچے کو احساس رہتا ہے کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے۔دوستوں اور سہیلیوں کے انتخاب میں بھی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ بری صحبت نوجوانوں کو آسانی سے غلط راستے پر لے جا سکتی ہے۔ اسی طرح ایک اہم مسئلہ موبائل فون کا ہے۔ اکثر والدین خوشی میں بچوں کو مہنگے موبائل فون دے دیتے ہیں، جو بعد میں ان کی تعلیمی تباہی کا سبب بنتا ہے۔اگر موبائل دینا ضروری ہو، تو اس کے استعمال کو محدود رکھا جائے۔ صرف کالنگ اور آن لائن تعلیم تک ہی اسے محدود کرنا چاہیے۔ غیر ضروری سوشل میڈیا سے بچوں کو دور رکھنا ان کے بہتر مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ مزید یہ کہ موبائل بغیر لاک کے ہونا چاہیے تاکہ والدین بوقتِ ضرورت اس کا جائزہ لے سکیں۔یہ عمر جذبات کی بھی ہوتی ہے، جہاں بچے کسی نہ کسی چیز سے وابستگی ضرور پیدا کرتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اچھی اور صالح صحبت فراہم کریں۔ لڑکوں کو نیک اور باعمل علماء کی صحبت سے جوڑیں، اور لڑکیوں کو دیندار اور بااخلاق خواتین کی صحبت میں رکھیں۔اس طرح جب بچے اللہ اور رسول ﷺ کی محبت سے جڑیں گے تو ان کے اندر ایک مثبت تبدیلی آئے گی، اور وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی دنیاوی تعلیم بھی بہتر انداز میں حاصل کر سکیں گے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بچوں کا مستقبل صرف نمبروں یا کالج کے انتخاب سے نہیں بنتا، بلکہ درست رہنمائی، سمجھداری، اور محبت بھری نگرانی سے سنورتا ہے۔
