از:۔سید عرفان رضوی حسینی
بانی و مہتمم دارالعلوم امام احمد رضا ٹرسٹ رجسٹرڈ شیموگہ۔9901144016
سرزمین ہِند میں جہاں عرصۂ دراز سے کفر وشرک کا دوْر دوْرہ تھا ، اور ظُلْم و جوْر کی فَضا قائم تھی اورلوگ اخلاق و کردار کی پستی کا شکار تھے۔ اس خطّے کے لوگوں کو نورِ ہدایت سے روشناس کروانے ، ظُلْم وستم سے نجات دلانے اور لوگوں کے عقائدواعمال کی اصلاح کرنے والے بزرگانِ دین میں حضرت خواجہ معین الدین سیّدحسن چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا اِسمِ گرامی بہت نمایاں ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت537ھ بمطابق 1142ء کو سِجِسْتان یا سِیْسْتان کے علاقے سَنْجر میں ایک پاکیزہ اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ (اقتباس الانوار ، ص345 ، ملخصاً)
آپ کا اسم گرامی حسن ہے اور آپ نجیبُ الطّرَفیْن سیِّد ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کےمشہور القابات میں مُعینُ الدّین ، غریب نواز ، سلطانُ الہِنْد اور عطائے رسول شامل ہیں۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص18 ملخصاً)
حصولِ علم کے لئے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شام ، بغداد اور کِرمان وغیرہ کاسفر بھی اِختیارفرمایا نیز کثیر بزرگانِ دین سے اکتسابِ فیض کیاجن میں آپ کے پیرومُرشِدحضرت خواجہ عثمان ہارْوَنی اورپیرانِ پیرحضور غوثِ پاک حضرت شیخ سیِّدعبدالقادِرجیلانی رضی اللہ عنہم کے اَسماء قابلِ ذِکْر ہیں۔ زیارتِ حرمیْن کےدوران بارگاہِ رِسالت ﷺ سے آپ کو ہند کی وِلایت عطا ہوئی اوروہاں دین کی خدمت بجا لانے کا حکم ملا۔ (سیر الاقطاب ، ص142 ، ملخصاً)
چنانچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ سرزمینِ ہِند تشریف لائے اور اجمیر شریف (راجستھان) کو اپنا مُسْتقِل مسکن بناتے ہوئے دینِ اسلام کی ترْوِیج واشاعت کا آغاز فرمایا۔ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی دینی خدمات میں سب سے اَہَم کارنامہ یہ ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے اَخْلاق ، کرْداراور گفْتار سے اس خطّے میں اسلام کا بول بالا فرمایا ۔ لاکھوں لوگ آپ کی نگاہِ فیض سے متاثّر ہو کرکفر کی اندھیریوں سے نکل کر اسلام کےنورمیں داخل ہو گئے ، یہاں تک کہ جادوگر سادھو رام ، سادو اَجے پال اورحاکم سبزوار جیسے ظالم و سرْکش بھی آپ کے حلقۂ اِرادت(مریدوں) میں شامل ہو گئے۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص56ملخصاً)
ہِندمیں خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی آمد ایک زبردست اسلامی ، روحانی اور سماجی اِنقلاب کا پیْش خیْمہ ثابت ہوئی۔ خواجہ غریب نواز ہی کے طُفیل ہِندمیں سلسلۂ چِشتیہ کا آغازہوا۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص136)
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اِصلاح و تبلیغ کے ذریعے تلامذَہ و خُلَفا کی ایسی جماعت تیار کی جس نےبَرِّ عظیم(پاک وہند) کے کونے کونے میں خدمتِ دین کا عظیم فرِیْضہ سَرْ انْجام دیا۔ دِہلی میں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ قُطْبُ الدِّین بَخْتیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے اور ناگور میں قاضی حمیدُ الدِّین ناگوری علیہ الرحمہ نے خدمتِ دین کے فرائض سَر اَنْجَام دئیے۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص139 تا 142ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے اس مشَنْ کو عروْج تک پہنچانے میں آپ کے خلفا کے خلفَانے بھی بھر پور حصّہ ملایا ، حضرت بابا فرید گنْج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے پاکپتن کو ، شیخ جمالُ الدِّین ہَانْسْوی علیہ الرحمہ نے ہَانْسی کو اور شیخ نِظام الدین اوْلِیا رحمتہ اللہ علیہ نے دِہلی کو مرکز بنا کر اِصلاح وتبلیغ کی خدمت سَرْ انْجام دی۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص 147 تا 156 ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے تحریر و تصنیف کے ذریعے بھی اشاعت دین اور مخلوقِ خدا کی اِصلاح کا فریضہ سر اَنجام دیا۔ آپ کی تصانیف میں اَنِیْسُ الاَرْوَاح ، کَشْفُ الاَسْرَار ، گَنْجُ الاَسْرَار اور دیوانِ مُعِیْن کا تذکرہ ملتا ہے۔ (معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری ، ص103ملخصاً)
خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نےتقریباً 45 سال سر زمینِ ہِند پر دینِ اِسْلام کی خدمت سرْانْجام دی اور ہِند کےظلْمت کدے میں اسلام کا اُجالا پھیلایا۔ آپ کا وِصال 6رجب627ھ کو اَجمیرشریف
(راجِستھان ، ) میں ہوا اور یہیں مزارشریف بنا۔ آج برِّ عظیم میں ایمان واسلام کی جو بہار نظر آرہی ہے اِس میں حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی سعی بے مثال کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
