آئی ایم اے گھوٹالہ؛روشن بیگ کی املاک ضبط

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق آئی ایم اے گھوٹالے کے ملزم سابق وزیر آر روشن بیگ کی ملکیت میں شمار ہونے والے16.81  کروڑ روپیوں کی املاک ضبط کی گئی ہے ۔ روشن بیگ نے سال2018 میں الیکشن کمیشن کو اپنی املاک کی جو تفصیلات مہیا کی تھیں،اُس کی شق 3 کے مطابق ریاستی حکومت نے سابق ریاستی وزیرآرروشن بیگ کی املاک کو ضبط کیاہے۔ان کے اور ان کے اہل خانہ کی املاک میں شمار16.81 کروڑ روپیوں کی املاک کو حکومت کی جانب سے ضبط کیاگیاہے ،جس میں کوآپریٹیو بینک میں33 لاکھ روپئے،کارپوریشن بینک میں4265 روپئے ،کینرا بینک میں16 لاکھ روپئے،ایچ ڈی ایف سی بینک میں1.08کروڑ روپئے،سنڈیکٹ میں88ہزار روپئے،کینرا بینک میں 76 لاکھ روپئے،جملہ2.32 کروڑ روپئے6/بینکوں سے ضبط کئے گئے ہیں،جبکہ ایچ بی آر لے آئوٹ میں 4ہزار اسکوائر فٹ کی ایک سائٹ،فریزر ٹائون میں 5545 اسکوائر کی سائٹ اور ایک فریزر ٹائون میں1844 اسکوائر کی ایک سائٹ کو ضبط کیا گیا ہے ۔ ضبط کی جانے والی سائٹوں کی جملہ مالیت8.91 کروڑ روپئے ہے ۔اسی طرح سے کمرشیل پراپرٹی میں ہسور روڈ پر موجود 30ہزار اسکوائرفٹ کا کمرشیل پلاٹ اور ایک کمرشیل بلڈنگ میں1.73 کروڑ کا پلاٹ اور کچھ سونے چاندی کے زیوارت جس کی مالیت 42.4لاکھ روپئے ہے۔اسی طرح سےمختلف کمپنیوں کے شیئرس بھی ضبط کئے گئے ہیں،جس کی مالیت6.80 لاکھ روپئے ہے ۔کل ملا کر 16.81 کروڑ روپیوں کی مالیت کی املاک ضبط کی گئی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ضبط شدہ یہ املاک عدالت کی تحویل میں رہے گی،کسی بھی کیس میں اگر ملزمان کی املاک کو عدالت تحویل میں لیتی ہے تو یہ ایک طرح سےعدالت کی حفاظت میں رہتی ہے،جب مقدمے کی سنوائی مکمل ہوتی ہے اور ملزمان کو سزاہوتی ہے تو اس املاک کو فروخت کرکے متاثرہ افراد کوبانٹا جاتاہے اور اگر چہ ملزم کو رہائی ملتی ہے تو یہ املاک ملزم کے حوالے کردی جاتی ہے اور اگرچہ نقد رقم ہویاپھر بینک کی رقم ہو تو اُس پر سود ملاکر رقم واپس دی جاتی ہے۔