مدرسے کے معلم کوہوئی 11 سال کی سزا;پانچ سال پہلے طالب العلم کے ساتھ کیا تھا زنا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
ٹمکورو:ٹمکورو ضلع کے ایک مدرسے میں بطورمعلم خدمات انجام دینے والے ایک 42سالہ عالم نے 13سالہ بچے کے ساتھ زنا یعنی لوطی فعل کوانجام دیاتھا۔جس کے تحت یہاں کی خصوصی عدالت نےملزم مولانا مفتی مشرف کو مجرم قرار دیتے ہوئے 11سال قیدکی سزااور30ہزار روپئے کا نقد جرمانہ عائدکیاہے۔اس کےعلاوہ عدالت نے مظلوم طالب العلم کے اہل خانہ کو5لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کی ہدایت دی ہے۔مولانا مفتی مشرف جن کاتعلق ریاست اترپردیش سے ہے وہ ٹمکوروکے ایک مدرسے میں بطور مدرس خدمات انجام دے رہے تھے۔17/اپریل2015میں مفتی مشرف نے اپنے طلباءکے ساتھ غیر قدرتی جنسی تعلقات قائم کئے تھے،ان میں سے ایک طالب العلم نےمفتی مشرف کےتعلق سے اپنے والدین کو مطلع کیا اور ان کی گندی حرکتوں کے تعلق سے تفصیلی بیان دیا۔والدین نے اطلاع پاکر فوری طورپر پولیس میں شکایت درج کروائی۔پولیس نے معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد مفتی مشرف کے خلاف پوسکو ایکٹ کی دفعہ آئی پی سی377(غیر قدرتی جنسی عمل )اور دفعہ506(مجرمانہ سوچ کو بڑھاوادیناو مجرمانہ عمل کو انجام دینا)کے تحت معاملہ درج کرلیاتھا۔جس کے بعدیہاں کی ضلعی عدالت میں اس معاملے کے تعلق سے سنوائی ہوئی اور خصوصی سرکاری وکیل جی وی گائیتری نے اس معاملے کی وکالت کی ہے۔مفتی مشرف کے تعلق سے بتایاگیاہے کہ وہ طلباء کو مدرسے کے علاوہ ہوٹلوں کولے جایاکرتاتھا،ہوٹلوں میں مشرف کی جانب سے ہونے والی بکنگ کے دستاویزات بھی ملزم کے جرم کو ثابت کرنے میں کارآمد رہے۔جیسے ہی بچے کے والدین نے پولیس میں معاملہ درج کروایا تو پولیس نے دونوں میڈیکل ٹیسٹ کروایا،جس میں یہ بات ثابت ہوئی کہ مشرف نے جرم انجام دیاہے۔ان تمام شواہد کے ملنےپر عدالت نےمفتی مشرف کو 11سال قیدکی سزاسنائی ہے اور30 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی عائدکیاہے۔ریاست کی تاریخ میں یہ پہلا معاملہ ہے جس میں کسی عالم کو ہم جنسی کے معاملے میں عدالت نے پوسکو قانون کے مطابق سزاسنائی ہے۔