میسورو:۔ بڑی مسرت کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے امرت مہتسو اور کرناٹک اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی کے NAAC سے A+ گریڈ حاصل کرنے کے پُر مسرت موقع پر شعبئہ اردو ، کرناٹک اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی، میسور کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی سمینار بعنوانـ ’’ پروفیسر بی شیخ علی ۔حیات اور خدمات‘‘ بروزِ چہارشنبہ بتاریخ 12جولائی 2023 انعقاد ہورہا ہے۔سمینار کا افتتاح صبح 10.30 یونیورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسر شرانپا وی ہلسے کے ہاتھوں ہوگا۔ یونیورسٹی کے رجسٹرر پروفیسر کے یل ین مورتی شامل رہیں گے۔کلیدی خطاب اردو کے شہرئہ آفاق شاعر و ادیب ڈاکٹر ماہر منصورؔ کا ہوگا۔ یونیورسٹی کی ڈین اکاڈمک پروفیسر ین لکشمی ، فائنانس آفیسر ڈاکٹر اے قادر پاشاہ ، رجسٹرر امتحانات ڈاکٹر پراوین کے بی، شعبے کے کوآرڈینیٹر پروفیسر راماناتھم نائیڈو، شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر و سمینار کے کنوینر ڈاکٹر محمد نصراللہ خان، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سیدہ عشرت فاطمہ کے علاوہ ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں ، کالجوںکے پروفیسر ان ،ریسرچ اسکالرس،مقالہ نگار،اداروں ،انجمنوں سے وابستہ افراد سماجی ،ملی و فلاحی تنظیموں سے جڑے ہوئے افراد، قلم کار،ادباء شعراء صحافی ،ریاست اوربیرونی ریاست سے ادب نواز افراد کے ساتھ بڑی تعداد میں پروفیسر شیخ علی مرحوم کے چاہنے والے شریک ہوں گے۔ ساتھ ہی اس سمینار میں کثیر تعداد میں طلباء شریک ہوکر اس سے فیضیاب ہونگے۔خاص بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں سمینار میں پڑھے جانے والے مقالوں پر مشتمل ایک کتاب اسی نام سے یعنی ـ ’’ پروفیسر بی شیخ علی ۔حیات اور خدمات‘‘ کی رسمِ اجراء عمل میں آئیگی۔ پروفیسر بی شیخ علی کی شخصیت کوئی محتاجِ تعارف نہیں.علمی ،ادبی و صحافتی دنیا میں موصوف کی شخصیت آفتاب و ماہتاب سے کم نہیں تھی۔آپ کی شخصیت قومی و بین الاقوامی سطح پر علم و ادب کی ایک مینارِ نور تھی۔آپ میسور یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر تھے ، بعد میںمنگلور اور گووا دونوں یونیورسٹیوں کے بنیاد گزار وائس چانسلر رہے ۔ روزنامہ سالار بنگلور کے مدیر اعلیٰ رہے۔ملک کے نامور تاریخ داں، دانشور،ماہرِ تعلیم ،اردو کے مایا ناز ادیب ، محقق ، نقاد ،شعلہ بیان مقرر، بے مثال مدبر ، لاجواب مدرس ،کامیاب مترجم ، مفکر،بیباک صحافی کے ساتھ دینی و دنیا وی علوم کا ایک بہتا ہوا دریا تھے۔آپ بیک وقت انگریزی ،کنڑ ، اردو، عربی ، فارسی ،جرمن کے علاوہ دیگر زبانوں پر کافی عبور رکھتے تھے۔ آپ نے میسور اور دیگر علاقوںمیں کئی تعلیمی درسگاہوں اور تحقیقی سنٹرس کا آغاز کیا۔ آپکے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میںہے جو ملک اور بیرونی ملک میں اپنا اور قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔آپ اردو کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہے ۔ مسلسل کام کرنا اور حصولِ مقصد کی تلاش میں لگے رہنا ہر کسی کو آپ سے سیکھنا چاہئے۔آپ زندگی کی آخری ساعتوں تک لکھتے رہے۔ پروفیسر بی شیخ علی 110 سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے۔موصوف کی علمی ، ادبی ،قومی و ملی سات دہائیوںسے زیادہ طویل خدمات سنہرے حروف میں لکھنے کے برابر ہیں۔ موصوف قوم کے رہبر و رہنما ، ایک روشن خیال انسان،سادگی و شریف النفسی کا پیکر،علم و ادب کا ایک روشن چراغ تھے۔ 98سال کی عمر میں2022 میں آپ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔لیکن آپ نے علم و ادب کے ایسے جواہر پارے چھوڑ کر گئے ہیں۔ جو کسی انمول خزانے سے کم نہیں۔جس سے ہم سب فیضیاب ہورہیں اور مزید ہوسکتے ہیں۔نئی نسل کو اس کی اہمیت و افادیت کی پہچان کرانا ہمار فرض اولین ہے۔ شعبئہ اردو موصوف کی گراں قدر خدمات کو دیکھتے ہوئے ان کی شخصیت اور جملہ خدمات کو عوام الناس میں بالخصوص نئی نسل میںمتعارف کرانے کی غرض سے اس سمینار کا انعقاد کرنے جارہا ہے مرحوم کو یہ ایک سچی خراجِ عقیدت ہوگی ۔افتتاحی تقریب کے بعد چارٹیکنیکل سیشن ہوں گے جس میں جملہ 28 مقالے پیش کئے جائیں گے۔شام 4.30 بجے مشاعرہ ہوگا جس میں مقامی اور بیرونی شعراء شرکت کرینگے۔آخر میں جامعات کے پروفیسر ان اور دیگر شرکاء سے تاثرات پیش کئے جائیں گے ۔قریب 6بجے اظہارِ تشکرکے ساتھ دن بھر کی کارروائی پائے تکمیل کو پہنچے گی۔ شعبئہ اردو کی جانب سے پُر خلوص گزارش کی جاتی ہے کہ شہریانِ میسور اور ریاست کے دیگر علاقوں کے باذوق سامعین ، اساتذہ ، ادباء شعراء صحافی ، علماء سماجی ، ملی و فلاحی تنظیموں سے وابستہ افراد ،ریسرچ اسکالرس، اور طلباء کے علاوہ عام لوگ اس سمینار اور مشاعرے میں شریک ہوکر اس کو کامیاب بنائیں۔
