شیموگہ:۔اردو زبان اور اردو ماحول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئےقوم وملت کی خدمت کرنے کاجذبہ لیکر قوم کی ایک بیٹی اب بطور ڈاکٹر خدمات انجام دے رہی ہیں۔شیموگہ شہرکے ٹیپونگر کے ساکن محبوب علی اور سید شفیع ناز جو دونوں ہی معلمین ہیں،اُن کی بیٹی ثمیہ تبسم سے روزنامہ آج کاانقلاب نے ایم ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان سے خصوصی گفتگو کی ہے۔ان سے کی گئی گفتگوکے اہم نکات یہاں پیش کئےجارہے ہیں۔ڈاکٹر ثمیہ تبسم نے بتایاکہ میری ابتدائی تعلیم شیموگہ شہر کے الحبیب انگلش اسکول میں ہوئی،وہاں پر میں نے نمایاں نمبرات حاصل کرتے ہوئے ڈی وی ایس کالج میں تعلیم حاصل کی،اس کے بعدسی ای ٹی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مجھے شیموگہ انسٹیٹیویٹ آف میڈیکل سائنس میں داخلہ ملا،اس کے بعد میری شادی ہوگئی،شادی کے بعد بھی میں نے اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے ڈی جی او کا امتحان دیا،اس میں بھی مجھے کامیابی حاصل ہوئی،اس امتحان کے بعد میں نے ایم ایس کیلئے داخلہ لیا،یہ پوری تعلیم میں نے بغیر کسی ٹیوشن یا کوچنگ کے حاصل کی ہے۔امسال مجھے ایم ایس کی ڈگری تقویض کی گئی،اب میں شیموگہ واپس لوٹ آئی ہوں اور یہاں پر خدمات انجام دینا چاہ رہی ہوں۔ڈاکٹر ثمیہ تبسم نے کہاکہ عموماًمسلمانوں میں بہت زیادہ صلاحیت ہوتی ہیں کہ وہ کامیابی کو حاصل کریں،اِن میں بھی لڑکیوں کے پاس بہت ہی قابلیت پائی جاتی ہے،بعض موقعوں پر خاندانی وجوہات کی بناء پر زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرپاتے،لیکن آج کل تعلیمی بیداری اچھی ہے،اس میں آپ کا اخبار اور چینل بھی نمایاں رول اداکررہاہے اور انٹرنیٹ بھی بچوں کی رہنمائی کررہاہے،دس سال قبل جوحالات تھے اُس سے کہیں زیادہ بہتر وسائل موجودہیں۔بچوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد طئے کریں اور ساتھ ہی ساتھ خوفِ خدا بھی ہو۔ہمارا مذہب ہمارے لئے بنیاد ہے،اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے،تعلیم کوئی بھی حاصل کرتاہے،لیکن بطور مسلمان ہمیں دُنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرنی ہے اور میرے والدین نے مجھے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی ہے جویہ میرے لئے فخر کی بات ہے۔طلباء کو آزادی دی جاتی ہےاُس کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے،اُن کی آزادی کا غلط استعمال کرنے کے بعد انہیں بعد میں پچھتاواہواہے اور وہ اُس وقت محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی آزادی کاغلط استعمال کیاتھا۔مزید انہوں نے کہاکہ میڈیکل پروفیشن بہت اچھا پروفیشن ہے،اس کیلئے داخلہ لینے کیلئے دسویں جماعت سے ہی توجہ دیں،پڑھائی کے تعلق سے منصوبہ بندی کریں اورایک ہی مقصد کے تحت تعلیم کو جاری کریں۔آج کل کوچنگ کے بہت ذرائع ہیں،حالانکہ میں نے بغیر کوچنگ کے ہی یہاں تک تعلیم حاصل کی ہے۔انہوں نے اپنی کامیابی کو الحبیب اسکول کو بنیاد بتایا اور کہاکہ وہاں پر اُس وقت بہت کم وسائل تھے،باوجود اس کے انہوں نے مجھ پر بہت توجہ دی تھی،میرے والدین اور میرے شوہرنے مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کاموقع دیاہے۔ڈاکٹر ثمیہ تبسم نے کہاکہ مسلمانوں میں صحت کے تعلق سے بہت لاپرواہی برتی جاتی ہے،خصوصاً خواتین اس ضمن میں سنجیدہ نہیں رہتی،اپنی بیماریوں کے تعلق سے وہ بروقت علاج نہیں کرواتیں،جس کی وجہ سے ان میں صحت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔میں اس بات کی زیادہ کوشش کرونگی کہ خواتین میں صحت کے تعلق سے بیداری لائی جائے۔عموماً حاملہ خواتین کے تعلق سے لاپرواہی برتی جاتی ہے،اگر خواتین کو حمل کے دوران توجہ دی جائے تو ان کی اولاد صحتمندہوگی اور یہ اولاد قوم کیلئے صحت مند سرمایہ ثابت ہوگی۔انہوں نے کہاکہ فی الوقت میں این ٹی روڈ پر موجود میاکس اسپتال میں خدمات انجام دے رہی ہوں اور میرا مقصدیہ ہے کہ میں اپنی طرف سے جو بھی خدمت ہو وہ کروں۔
