مسلم مرکزی عیدگاہ پر بجرنگ دل کی نگاہ: صحیح دستاویزات نے معاملے کو بگڑنے سے بچایا

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔ یہاں کے مرکزی سنی عید گاہ پر بجرنگ دل کی نگاہیں پھر ایک مرتبہ خراب ہوچکی ہیں آج انہوں نے اس عیدگاہ کی جگہ کو کارپوریشن کی جگہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ آج صبح شہر کے عید گاہ میدان سے گذرنے والی فٹ پات پر جب گریل لگائے جارہے تھے اس وقت بجرنگ دل کے کچھ کارکنان موقع پر پہنچے اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ جو جگہ چلنے پھرنے کیلئے چھوڑی گئی اسے بند کردیا جائے۔ کیونکہ یہ جگہ عید گاہ کی نہیں بلکہ کارپوریشن کی ہے۔ اس پر وہاں موجود کچھ مسلم دکانداروں نے اس معاملے کی اطلاع فوری طور پر وقف بورڈ کے افسر مدار پٹیل کو دی تو وہ دستاویزات لیکر موقع پر پہنچے ۔ اس وقت تک بجرنگ دل کے کئی کارکنان وہاں جمع ہوگئے تھے، پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بھی وہاں جمع ہوئے۔ ضلع وقف افسر مدار پٹیل نے عید گاہ سے منسلک دستیاویزات کو متعلقہ افسروں کو دیکھایا تو سنگھ پریوار کے لوگ ششد رہ گئے۔ دراصل اس عیدگاہ کی 100 فٹ کی جگہ کے دستاویزات ہی وقف بورڈ کے پاس موجودتھے ، 40 سال تک ان دستاویزات کو درست کروائے بغیر جوں کا توں رکھا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے فرقہ پرست کبھی بھی 100 فٹ جگہ کو چھوڑ کر بقیہ 36500 اسکائرفٹ جگہ کو ہڑپ سکتے تھے، لیکن وقف مشاورتی کمیٹی کے سابق صدرحبیب اللہ بسونگڈی نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس عیدگاہ کے دستاویزات کو درست کروایا تھا۔ حالانکہ عید گاہ کے دستاویزات درست کروائے بغیر ہی یہاں پر کچھ لوگوں نے انٹرلاک ٹائلس بٹھانے کیلئے منصوبہ بنایا تھا ۔ اگر دستاویزات کو درست کئے بغیر ہی انٹرلاک ٹائلس بٹھائے گئے ہوتے تو یقیناً آج سنگھ پریوار کی تنظیموں کو زمین ہڑپنے کیلئے ، یا تنازعہ پیدا کرنے کیلئے موقع مل گیا ہوتا۔ آج ان دستاویزات کی بنیاد پر بجرنگ دل کے کارکنوں کی سازش ناکام ہوئی۔ عید گاہ کے پاس حالات کو بگڑتا دیکھ کرحضرت شاہ علیم دیوان درگاہ کمیٹی کے سابق صدر محمد حسین، محمد ابراہیم، ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کےصدر عبدالغنی،بھی پہنچ کر کارپوریشن مئیر سونیتا انپا کے ساتھ تبادلہ خیال اور حالات کی پیچیدگی کو سمجھا کر نظم ونسق برقراررکھنے کی سفارش کی۔
عیدگاہ کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت:۔
مرکزی عیدگاہ کے اطراف واکناف سینکڑوں سرکاری دفاترہیں،اس کے علاوہ ہوٹل،بینک ودیگرروزمرہ کے ضروریات کی دُکانیں بھی ہیں۔اس عیدگاہ کو سال میں دو مرتبہ ہی استعمال کیاجاتاہے،بقیہ دنوں میں یہاں پر صرف پارکنگ ہی رہتی ہے،دن کے وقت سواریوں کی پارکنگ اور رات کے وقت یہاں پر شرابیوں و کبابیوں کیلئے راحت مقام ہوچکاہے۔اکثر بُرے جانور، کُتے، گدھے وغیرہ عیدگاہ کے منبر کے قریب جاکر غلاظت کردیتے ہیں،ان حالات میں اس عیدگاہ کے منبرسے منسلک دیوار کی طرف اگر چھوٹے پیمانے پر ہی صحیح ایک کامپلکس تعمیر کیاجاتاہےاور عیدگاہ کے اطراف عارضی حدبندی یعنی موئبل کمپائونڈ لگاکر اسے سال کے 360 دن کیلئے پیڈ پارکنگ بنایاجاتاہے تو اس سے وقف بورڈکیلئے سالانہ لاکھوں روپیوں کی آمدنی ہوسکتی ہے ، اس کے علاوہ یہاں سے آمدنی کے ذرائع پیدا کرتے ہوئے خود اُمت مسلمہ کے لوگوں کو روزگار کا موقع بنایاجاسکتاہے۔اس سمت میں وقف بورڈ کے افسروں و عمائدین شہر کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔