بنگلورو:۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگ رتنا کا سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بننے کے قوی امکانات نظر آرہے ہیں اور اگر انکا تقرر ہوجاتاہے تو وہ ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس کہلائینگی اسکے علاوہ کرناٹک کے لئے بھی یہ فخر کی بات ہوگی کہ کرناٹک کی ایک خاتون جسٹس ملک کی سب سے بڑی عدالت کی چیف جسٹس بننے جارہی ہیں ۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی نو آسامیوں کوپر کر نے کے لئے ضروری عمل شروع ہو گیا ہے ۔واضح رہے چیف جسٹس این وی رمنا کی قیادت میں کالیجیئم کا اجلاس ہوا جس کے بعد نو ججوں کی تقرری کے لئے مرکزی حکومت کو سفارش کردی گئی ہے۔ان نو ججوں میں تین خاتون جج بھی ہیں۔اس کے ساتھ مرکز سے ایک سینئر وکیل کی سیدھے سپریم کورٹ میں تقرری کے لئے بھی کہا گیاہے۔واضح رہے کالیجیئم نے جن ججوں کے ناموں کی سفارش کی ہےان میں تلنگانہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہیما کوہلی ہیں، کرناٹک ہائی کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگ رتنا ہیں،گجرات ہائی کورٹ کے جسٹس بیلا تریویدی ہیں،سینئر وکیل پی ایس نرسمہا کو سیدھےسپریم کورٹ کاجج بنانےکی سفارش کی گئی ہے،کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اےایس اوکا ہیں،گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ ہیں، سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جے کے مہیشوری، کیرالہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی ٹی رویندر کمار اور مدراس ہائی کورٹ کے جج ایم ایم سندریش ہیں۔جسٹس ناگ رتنا اگر چیف جسٹس بن جاتی ہیں تو ایک اور تاریخ یہ بھی رقم ہوگی کہ انکے والد ای یس وینکٹ رامیا بھی 1989 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے تھے اور انکے ہی نقش و قدم پر انکی بیٹی بھی چل رہی ہے ۔ اگر مرکزکالیجیئم کی ان سفارشات کو مان لیتاہے تو مستقبل میں جسٹس وکرم ناتھ،جسٹس بی وی ناگ رتنا اور پی ایس نرسمہا ملک کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں۔ واضح رہے ابھی تک کوئی بھی خاتون ملک کی چیف جسٹس نہیں بنی ہے اور اگر جسٹس ناگ رتنا چیف جسٹس بنتی ہیں تو وہ ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہوں گی۔
