شیموگہ :۔ایسالگتا ہے کہ بی جے پی میں بدنظمی پھیل چکی ہےاور یہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ اس بات کا اظہارسابق ایم ایل اے کیمنے رتناکرنےکیاہے ۔انہوں نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پارٹی میں گذشتہ چھ ماہ سے قیادت کی تبدیلی کو لیکر بے چینی کا عالم ہے اوررکن اسمبلی یتنال اس سلسلے میں باتیں کررہے ہیں۔ ملک اور ریاست میں بی جے پی کی بدنظمی جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو حکومت چلانا نہیں آتا ہےتووزیر اعظم نریندرمودی سمیت ریاست کے تمام بی جے پی قائدین کو استعفی دے کر باہر نکل جانا چاہئے ۔اس وقت ملک میں کورونا کے تعلق سے جتنے پیمانے پر معلومات ہیں اس سے کہیں بڑھ کر مریضوں کی اموات ہوتی جارہی ہیں۔ گنگا ندی لاشوں سے بھرچکی ہے۔ آکسیجن کی ناکافی فراہمی، ڈاکٹروں کی قلت ، اسپتالوں میں بیڈ نہ ملنے سے لوگوں کی اموات ہلاک ، اسپتالوں سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لاشوں کا نکلا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان میں اب حکومت نہیںہےاورعوام کو خدا کے بھروسے جینا ہوگاکہتے ہوئے شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ملک جہاں بدحالی کا شکار ہے وہیں ہمارے ریاستی وزراء ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، ایک طرف لوگ مصیبت میں ہیں اوردوسری طرف بی جے پی بدعنوانی میں مصروف ہے۔ جملہ طور پر کہا جائے تو بی جے پی حکومت انتظامیہ سنبھالنے میں ہر محاذ پر پوری طرح سے ناکام ہوئی ہے۔ کوویڈ ملک کیلئے قہر بن کر اُترا ہے اوراس کوروکنے میں رولنگ پارٹی کو حزب اختلاف پارٹی کے ساتھ ہم آہنگی سے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ پرامن رہتے ہوئے تمام کی متفقہ رائے کے ساتھ فیصلے لئے جانےتھے لیکن بی جے پی کچھ اور ہی طریقہ اپنارہی ہے۔ افسوس کن بات ہے کہ انتہائی سنگین اورپریشان کن حالات میں بھی بی جے پی کو اپنی پارٹی قیادت اوراسکی تبدیلی کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع شیموگہ وزیر اعلیٰ کا آبائی وطن ہے، ضلعی وزراء بھی یہاں موجود ہیں۔ لیکن اسی علاقے میں کوویڈکے معاملوں میں اضافہ ہونے کا مطلب ہے کہ بی جے پی ناکام پارٹی ہے۔
