از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اترپردیش انتخابات کو لیکر جہاں یہ باتیں کہی جارہی ہیں کہ الگ الگ سیاسی پارٹیوں کی شرکت سے کہیں اقلیتی ووٹوں کا بٹوارا نہ ہوجائے اور ریاست میں پھر ایک مرتبہ بی جے پی اقتدارمیں نہ آجائے،یقیناً یہ ڈر بہت پُرانا ڈرہے۔جب بھی انتخابات آئے اُس موقع پر کانگریس ہو یا جے ڈی ایس یا پھر سماج وادی پارٹی یا ٹی ایم سی،سب کایہی نعرہ تھاکہ کہیں بی جے پی اقتدارمیں نہ آجائے۔بھارت کی کئی ریاستیں گواہ ہیں جہاں پر سیکولر جماعتیں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود حکومتیں بنا نے میں ناکام رہی ہیں اور حالیہ سالوں میں تو بی جے پی نے کھلے عام ایم ایل ایز کی خریداری کاکام کرتے ہوئے یہ ثابت کردیاہے کہ جیت کہیں سے بھی حاصل کرو، کام ہمارے لئے کرو۔اس بات کے بعد بھی مسلمانوں میں یہ خیال ذہن نشین ہوگیاہے کہ جو نام نہاد اور خود ساختہ سیکولر پارٹیاں ہیں وہ مسلمانوں کی ہمدرد ہیں،یہی وجہ ہے کہ مسلمان اب بھی ان انتخابات میں اپنے لیڈروں اور اپنی سیاسی جماعتوں پربھروسہ کرنے کے بجائے خودساختہ سیکولر پارٹیوں سے اُمید لگائے بیٹھاہے۔بات چاہے اسدا لدین اویسی کی ہو یا پھر مسلم لیگ کی،یا ایس ڈی پی آئی یا پھر ویلفیر پارٹی کی۔ان پارٹیوں نے تو سودے بازی کی دُکانیں نہیں کھول رکھی ہیں،جس طرح سے سماج وادی پارٹی سے یادو،آرجے ڈی سے بھی یادو،بی ایس پی سے دلت،بی جے پی وکانگریس سے برہمن،جے ڈی ایس سے گوڈا سماج کے لوگ جڑے ہوئے ہیں،اُسی طرح سے مسلمانوں کو بھی کسی نہ کسی طرح سے اپنی سیاسی جماعتوں کو اہمیت دینے کی ضرورت تھی،جو سوچ مسلمانوں میں ہے کہ آج نہیں تو کل یہ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کوان کا سیاسی حق دینگے،وہ سوچ اب بیکار ہوچکی ہے،کیونکہ آزادی کے 70 سالوں بعدبھی بھارت کے مسلمانوں کو ان کے سیاسی حقوق نہیں ملے ہیں،نہ ہی وہ سماجی حقوق سے آراستہ کئے گئے ہیں۔70 سالوں سےسوائے تسلیوں کے اور کچھ بھی مسلمانوں کے حق میں نہیں ملاہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخر مسلمان کیونکر اپنے سیاسی رہنمائوں سےبدظن ہوجاتے ہیں۔اسدا لدین اویسی کی ہی بات لیں ،اگر اویسی کسی اسٹیج پر یا کسی مقام پر بی جے پی کے قائدین سے گفتگوکرتے ہیں یا پھراُن کے ساتھ کھڑے ہوکر بات کرتے ہیں تو اُس کی تصویروں کا حوالہ دیکر یہ کہاجاتاہے کہ دیکھیں اسدالدین اویسی کیسے بی جے پی رہنمائوں کے ساتھ سودے بازی کررہے ہیں۔جس دورمیں ایک لڑکا اور لڑکی عشق کرنے کے باوجود کھلے عام ملنے سے گریز کرتے ہیں کیا اُ س دورمیں سودے بازی کرنے والے اویسی بی جے پی کےرہنمائوں کے ساتھ کھلے عام مل کر اپنی بدنامی مول لینگے۔اگر واقعی میں اسدا لدین اویسی کو سودے بازی کرنی ہے تو وہ کیونکر فوٹو سیشن کرتے ہوئے سودے بازی کرینگے؟کیا ان کی خفیہ راہیں دستیاب نہیں ہیں؟اصل میں مسلمان ہمیشہ سے ہی اپنی قائدین کو لیکر بدظن رہے ہیں۔اویسی کو چھوڑئیے،ماضی میں سرسید احمد خان،محمد علی جوہر،محمد جناح،مولاناشوکت علی،مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مخلص رہنمائوں کو ہی نہیں چھوڑا گیا،یہاں تک کہ علامہ اقبال کو بھی مسلمانوں کا دشمن اور انگریزوں کا ایجنٹ بتانے سے مسلمان پیچھے نہیں ہٹے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر دوسری قوموں کے تلوے چاٹنے ہیں چاٹیں،سماج وادی کی گودمیں بیٹھنا ہے بیٹھیں،لیکن مسلمان ہوکر مسلمانوں کو بدظن نہ کریں۔یہ نہ تو مسلمانوں کیلئے بہتر رہے گا نہ ہی جمہوریت کیلئے نہ ہی آنے والی نسلوں کیلئے۔اگر ہم اپنے رہبروں کو رہزنوںمیں تبدیل کرینگے تو غیروں میں اس کا کیا تاثر ہوگا یہ سوچنے کی بات ہے۔
