از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
چنگیز خان نے جب ریاست خوارزم پر حملہ کِیا تو سلطنتِ خوارزمیہ کے کچھ مُفاد پرست تُرک چنگیز خاں کی یقینی جیت کو دیکھ کر موقعے کا فائدہ اٹھانے کے لیے چنگیز خاں کے ساتھ آ ملے اُن تُرکوں کی تعداد تقریباً ہزاروں میں تھی اُن باغی تُرکوں نے چنگیز کو یقین دلایا کہ ہم آپ کے ساتھ مل کر شاہ خوارزم کے خلاف جنگ لڑینگے اور ہمیشہ آپکے حکم کے پابند رہینگے چنگیز خان نے بھی وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اُن سب کو قبول کر لیا مگر جیسے ہی شہر فتح ہوا تو چنگیز خان نے اُن سب تُرکوں کو اپنی صفوں سے الگ کیا اور انکے قتل کا حکم صادر کر دیا ان تُرکوں نے جب اپنی وفاداری جتائی تو چنگیز خان نے کہا جو اپنے ہم مذہب لوگوں سے غداری کر سکتے ہیں وہ ہمارے بھی دوست نہیں رہ سکتے لہٰزا غدار کی سزا ہمارے قانون میں صرف موت ہے۔پھر اسی طرح چنگیز خاں نے جب چین پر حملہ کیا تو وہاں ایک نوجوان کمانڈر جو چینی شاہی خاندان کا محافظ تھا آخری دم تک چنگیزی فوج کا مقابلہ کرتا رہا بالآخر جب گرفتا ہوا تو اسے چنگیز کے سامنے پیش کیا گیا۔ چنگیز خاں نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں تھا کہ چنگیز کی فوج کے آگے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی پھر تم نے کیوں اتنی دیر تک ہمارے خلاف محاظ جاری رکھا؟اس سوال کے جواب میں اُس کمانڈر نے کہا میں جس کا وفادار تھا اسکی عزت و ناموس کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا میرے ضمیر نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ مشکل وقت میں انکا ساتھ چھوڑ دیتا بس میں اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور تھانوجوان کا جواب سن کر چنگیز خاں نے اُس کمانڈر کی نہ صرف جان بخش دی بلکہ اسے اپنی فوج میں بھی شامل کر لیا۔ چنگیز خاں کے اس تاریخی واقعہ سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ منافق دوست سے زندہ ضمیر دشمن بہتر ہوتا ہے۔ آج اگر ہم غور کریں تو ہمارے ملک میں اُس دورِ خوارزم کی طرح مفاد پرست لوگوں کی بھرمار ہو چُکی ہے یہ اقتدار کے بھوکے لوگ ہر نئے آنے والے حاکم کے ساتھ مل جاتے ہیں لیکن کوئی بھی نیا آنے والا حاکم انکو چنگیز خان کی طرح سزا نہیں دے پاتا جس کی وجہ سے یہ اُسکا تختہ الٹ کر کسی نئے آنے والے کو تاڑنے لگتے ہیں۔ایسے بکاؤ مال مفاد پرستوں کا اگر سدِ باب نہ کیا گیا تو یہ ہندوستان کے لیے ایسے ہی تباہ کُن ثابت ہوتے رہینگے. ہر الیکشن ایک پیغام دے جاتا ہے کہ احتیاط نہ برتنے کی وجہ سے ایرے غیرے الیکشن جیت جاتے ہیں اور ہر الیکشن کے بعد مسلمان آپس میں یہ کہتے ہیں کہ کاش ہم نے تدبیر اختیار کی ہوتی تو آج ایسا دن دیکھنے کو ہوتا۔ سیاسی جماعتوں میں کام کرنے والے سینکڑوں کارکنان سمندر کی ہر اس نئی لہر کے ساتھ ہوجاتے ہیں جو تیزی کے ساتھ آتی ہے جبکہ انہیں نہیں معلوم کے کھڑا ہوا تالاب ہی زیادہ فائدہ دیتا ہے ۔ جو سیاستدان اور نوجوان اسوقت سیاست کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ وفادار رہیں نہ کہ غداروں کی فہرست میں جمع ہوجائیں ۔آنے والے کچھ مہینوں میں ضلع پنچایت، اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات میں امیدوار بننے کے لئے بہت سے نوجوان تیاری کرتے ہیں ایسے میںانہیںچاہئے کہ وہ ان لہروں میں بہنے کے بجائے اپنی جڑوں کو ایک جگہ منجمد کریں۔ جس سے انہیں برسوں تک کوئی ہلا نہ سکے۔
