شیموگہ:۔تعلیمی اداروں میں داخلوں کیلئے جہاں انتظامیہ اخلاقی طورپر طلباء کوراغب کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں،وہیں اب حالات بدلتے جارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پرائیوئٹ کالجوں کے ذریعے دوسرے اسکول کے بچوں کا داخلہ لینے کیلئے سفارش کرنے کے عوض میں کمیشن دینے کی بات کہی جارہی ہے اور اس کمیشن کو تحفہ کہاجارہاہے۔ایس ایس ایل سی کے نتائج آچکے ہیں،ان نتائج کے آنے کے ساتھ ہی پی یو کالجوں میں داخلوں کیلئے کالجس شدید محنت کررہے ہیں،اس کیلئے اپنی خوبیوں کو بتانے کے بجائے ہائی اسکول کے ٹیچرس کو یہ لالچ دے رہے ہیں کہ آپ اتنے بچے ہماری کالج میں داخل کراوتے ہیں تو آپ کو اُن کی فیس کا دو فیصد سے پانچ فیصد تک کا کمیشن دیاجائیگا اور اس کمیشن کو یہ لوگ تحفہ کا نام دے رہے ہیں ۔اب تک سیاستدان کمیشن کا لینا دینا کرتے تھے ، ووٹ کے بدلے نوٹ دیاکرتے تھے،مگر اب حالات اس قدر بدتر ہوچکے ہیں کہ کالجوں میں داخلوں کیلئے کمیشن دینے کی بات ہورہی ہے۔ایسےمیں تعلیمی معیار کیسا ہوگا اور کیسے بچوں میں اخلاقی تعلیم دی جائیگی ، یہ سوال اٹھ رہاہے۔کئی کالجوں میں بہتر لکچررس نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پورے وسائل نہیں ہیں باوجوداس کے وہ محض اپنی کالجوں کو بچانے یاپھرکالجوں میں داخلوں کی تعداد بڑھانے کیلئے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں،جس سے معیاری تعلیم ملنا مشکل ہوجاتاہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے داخلوں سے قبل کالجوں میں بہترسہولیات ہیں یا نہیں اس کا جائزہ لیں اورکم فیس کے چکرمیں بچوں کا مستقبل خراب نہ کریں۔
