دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں محض 24 گھنٹوں کے دوران دو الگ الگ گروہوں کے درمیان اتحادِ ملت یا اتحاد مسلمین کے نام پر بند کمروں میں اجلاس اہتمام کیا گیا ہے۔ پہلی میٹنگ 8 اگست کو منعقد کی گئی تھی جس میں مسلکوں کے درمیان جو فاصلے ہیں انہیں ختم کرنے کی بات ہوئی۔ دوسری میٹنگ سیاسی پیمانوں پر منعقد کی گئی جس میں قومِ مسلم کے موجودہ حالات پر بات ہوئی۔ حالانکہ اس میٹنگ کا مقصد اتحاد ملت نہیںتھا بلکہ اتحاد علماءتھا جو مختلف مسلکوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔ اس نشست میں 16 اہم مذہبی رہنمائوں نے شرکت کی تھی، جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کےمولانا سید رابعے حسینی ندوی، جمعیت العلماء ہند کے دونوں شعبوں کے صدور مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیر انجینئر سعادت اللہ حسینی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حمید، آل انڈیا ملی کونسل کے مولانا عبداللہ مغیثی، آل انڈیا مشائخ بورڈ کے مولانااشرف کھچوچوی وغیرہ موجودتھے۔اس میٹنگ میں مختلف مسلکوںکے درمیان واقع دوریوں کو کم کرنابتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دوسرے دن اسی مقام پر ایک میٹنگ رکھی گئی تھی جس میں ایس ڈی پی آئی کے قومی لیڈر تسلیم رحمانی اورمحمد شفیع، پی ایف آئی کے جنرل سکریٹری انیس احمد ، خواجہ معین الدین چشتی درگاہ کے سجادہ سید سرور چشتی اور ملک محمد محتشم خان جن کا تعلق جماعت اسلامی سے بتایا گیا ہے۔ سابق ایم پی عبداللہ اعظمی، وغیرہ موجودتھےاوریہ نشست مولانا سجاد نعمانی کی قیادت میں منعقد کی گئی تھی۔ پہلی میٹنگ میں شرکت کرنے والے علماء ودیگرنمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ملک کے موجودہ حالات کو حکمت کے ذریعہ حل کریںگے اور نرم طریقہ کار اپناتے ہوئے سماجی وسیاسی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریںگے۔ اسی طرح سے فرقہ پرست حکومت کے خلاف احتیاط سے مقابلہ کریں گے۔ وہیں دوسری جانب منعقدہ دوسرے دن کی میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ لیا گیا کہ موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے اجتماعی بیداری لانے کیلئے پہل کی جائیگی اور قدم بہ قدم مل کر حالات کا مقابلہ کیا جائیگا۔ اس دوران سجادہ نشین سید سرور چشتی نے ایک نیوز پورٹل کو بتایا ہے کہ لوگوں میں غلط فہمی ہے کہ بھارت کے صوفی مسلمانوں کا گروہ وزیر اعظم نریندرمودی کے ساتھ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوفی مسلمانوں کا بڑا حصہ فرقہ پرست حکومتوں کے خلاف ہے اور مودی کومانتا ہی نہیں ہے۔ جبکہ شیعہ علماء کا بڑا حصہ بھی مودی کے خلاف ہے۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے لائی گئی کہ مسلمانوں کے علماء اور مشائخ نے انسداد سی اے اےکے احتجاجات میں حصہ ہی نہیں لیا تھا ، شاہین باغ کی خواتین جامعہ ملی اسلامیہ کے طلباء اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اہم کردار اداکیا ہے۔ واضح ہوکہ 8 اگست کو منعقدہ نشست میں جن لوگوں نے شرکت کی تھی ان کا پس منظر مشکوک بھی رہا ہے۔ ان میں سے کچھ موہن بھاگوت کے ساتھ میٹنگ کرچکے ہیں تو کچھ نے سی اے اے کی تائید کی تھی اوراس کے علاوہ جنیوا کو جاکر مودی حکومت کی تائید کی تھی۔ ایسے لوگوں کو ملی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ دونوں نشستوں کے نمائندے ایک ساتھ جمع ہونے کے بجائے الگ الگ جمع ہوئے ہیں توکہاں سے اتحاد ملت کی بنیادیں مضبوط ہوںگی ۔ اسکے علاوہ سوال یہ بھی ہے کہ جب قوم مسلم کو فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کرناہے ایسے میں اتحاد ملت کی تسبیح کی کیا ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسی کئی کوششیں ہوئی تھیں ، لیکن یہ تمام کوششیں محض اسٹیج تک محدود رہیں۔
