نئے آئی ٹی قوانین2021 معاملے میں واٹس ایپ، فیس بک کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا مرکز کو نوٹس

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔ نئے آئی ٹی رولز 2021 معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے واٹس ایپ اور فیس بک کی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ اور فیس بک کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئی ٹی رولز 2021 کے تحت ’ٹریس بلٹی‘ شق غیر آئینی ہے کیونکہ یہ کسی فرد کے رازداری کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔نئے آئی ٹی قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پیغامات کا سراغ لگانا اور معلومات کے ذرائع کی شناخت کرنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا نے اسے رازداری کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کی بنچ اس کی سماعت کر رہی ہے۔اس سے قبل اخبار کے پبلشرز نے آئی ٹی رولز 2021 کے خلاف ملک کی کئی عدالتوں میں پٹیشن دائر کی تھی۔ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بمبئی ہائی کورٹ نے ضابطہ اخلاق کی تعمیل سے متعلق ڈیجیٹل میڈیا رولز 2021 کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکشن 9 (1) اور 9 (3) پر پابندی لگادی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پہلی نظر میں یہ پایا گیا ہے کہ ان ذیلی دفعات نے درخواست گزاروں کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی کے آئینی حق کی خلاف ورزی کی ہے۔ سیکشن 9 کی دفعات بھی بنیادی قانون (انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000) کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔نئے آئی ٹی رولز 2021 کا اعلان مرکزی حکومت نے 25 فروری کو کیا تھا۔ اس میں ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ضروری تھا کہ وہ 25 مئی تک قوانین کی تعمیل کریں۔