ججوں کو اپنے فیصلے اور احکامات کے ذریعے بولنا چاہیے، زبانی ہدایات سے نہیں;  سپریم کورٹ کاگجرات ہائی کورٹ کے جج پرسخت تبصرہ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔ سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ ججوں کو اپنے فیصلوں اور احکامات کے ذریعے بولنا چاہیے اور زبانی ہدایات جاری نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ یہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہیں اور اس سے بچنا چاہیے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جب زبانی ہدایات دی جاتی ہیں تو عدالتی جوابدہی کا عنصر ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک خطرناک مثال پیدا کرے گا جو ناقابل قبول ہے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلے میں یہ تبصرہ کیا، جس میں دھوکہ دہی اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے معاملے میں ایک ملزم کو گرفتار نہ کرنے کی زبانی ہدایت جاری کی گئی تھی۔بنچ نے کہا کہ عدالت میں زبانی تبصرے عدالتی بحث کے دوران ہوتے ہیں۔ تحریری حکم پابند اور قابل عمل ہے۔ گرفتاری کو روکنے کے لیے (سرکاری وکیل کو) زبانی ہدایات جاری کرنا عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔عدالت عظمیٰ نے تبصرہ کیا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے مدعا علیہ کی گرفتاری کو روکنے کے لیے زبانی ہدایات جاری کرنے کا عمل غلط تھا۔بنچ نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ کا موقف تھا کہ فریقین کے وکلاء کو تصفیہ کے امکانات کو تلاش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور گرفتاری کے خلاف عبوری تحفظ اسی بنیاد پر دیا جانا چاہیے، تو اس کے لیے ایک مخصوص عدالتی حکم کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ سلیم بھائی حامد بھائی مینن کی ایک اپیل کی سماعت کر رہی تھی، جس میں دھوکہ دہی اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی سمیت دفعات کے تحت درج ایف آئی آر کو ختم کرنے کے لیے ہائی کورٹ کارخ کیا تھا۔اس معاملے میں ہائی کورٹ میں زیر التوارہنے کے دوران مینن کو گرفتار کرلیا گیاتھا ۔