بنگلورو:(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔سال 2012 میں جسٹس سچرنے اپنی رپورٹ میں کہاتھاکہ کرناٹک کے وقف بورڈکے 30 ہزارادارے ہیں،ان میں سے29000 ایکرزمین پر غیرقانونی قبضہ کیاگیاہے،اگر ان غیر قانونی مقبوضہ اراضیوں کو آزادکرالیاجائے تو کرناٹکاکے اقلیتوں کیلئے حکومت کے الگ سے بجٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی،بلکہ اُلٹا وہ حکومت کوقرضہ دے سکتے ہیں۔اس بنیاد کو لیکر کرناٹک کے مشہورومعروف وکیل رحمت اللہ کوتوال نےکرناٹکا حکومت کے سامنے تمام تحقیقی رپورٹس پیش کرتے ہوئے مقبوضہ وقف اراضیوں کو خالی کرانے کیلئے جدوجہد شروع کی۔سال2014 میں کرناٹکا ہائی کورٹ نےاراضیوں کو خالی کروانے کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن اب تک اس سمت میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی،جس کی وجہ سےوقف بورڈ کو سالانہ کروڑوں روپیوں کانقصان ہورہاہے،اندازہ لگائیے کہ29 ہزار ایکر زمین سےآمدنی کاسلسلہ شروع ہوجائے تو کم ازکم ہر ماہ150 سے 200 کروڑ روپئےکی آمدنی ہوگی،لیکن اس زمین پر قبضہ کرنےوالےنہ تو آر ایس ایس کے لوگ ہیں اور نہ ہی بجرنگ دل کے کارکنان بلکہ خالص مسجدوں،مدرسوں ،خانقاہوں،درگاہوں اوراداروں کے متولی ،صدر،سکریٹری،اڈمنسٹریٹر ، کارپوریٹرس ، کائونسلر،ایم ایل اے،منسٹر،سابق منسٹر،ایم پی،ایم ایل سی اور سیاسی پارٹیوں کے مسلم لیڈران ہیں،جنہوں نے اپنے رعب کا استعمال کرتے ہوئے وقف کور لوٹنا شروع کیاہے۔اربوں روپیوں کی اس آمدنی کو قوم تک پہنچانے کے بجائے یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کررہے ہیں۔اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے سال 2008 کے 3 ستمبر کوبنگلوروکے ہی یلہنکا جو ائیرپورٹ کے راستے میں آنے والی جگہ ہے،اس کے سروے نمبر3 ،11، 12،20، 22،24،25،26،27،29،اور30 کے میڈی اگراہارا علاقے کی زمین جس کا رقبہ358 ایکر ہے،اُسے وقف بورڈکی ثابت کرتے ہوئے قبضہ کرنےو الوں کو عدالت میں شکست دی۔اسی طرح سے بیلڈی ہلی علاقے میں حضرت مانک شاہ درگاہ کی ملکیت میں آنے والی602 ایکر زمین کو بھی وقف بورڈکے ماتحت دلوایا۔اسی طرح سے تقریباًالگ الگ علاقوں سے600 ایکر زمین کو وقف بورڈکے حوالے کروایاگیاہے۔جس پر زمین مافیا و سیاستدانوں نے قبضہ کررکھاہے۔مگر وقف بورڈکی حالت یہ ہے کہ انہوں نے آج تک اس زمین کو وقف بورڈکی تحویل میں لینے کیلئے پیش رفت نہیں کی ہےاور نہ ہی اس سلسلے میں متعلقہ افسروں کوہدایت دی گئی ہے۔وقف ایکٹ کے مطابق مقبوضہ اراضیوں کوخالی کروانے کے اختیارات وقف ٹاسک فورس کو دئیے گئے ہیں،اس ٹاسک فورس میں ایس پی،ڈی سی،تحصیلداراور سی ای او شامل ہوتے ہیں،ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ وقف املاک کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ کا تعائون کریں،مگر افسوس کی بات ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ریاست میں وقف ٹاسک فورس کی ایک بھی نشست نہیں ہوئی اور نہ ہی کرناٹکا حکومت کے چیف سکریٹری نے اس بابت کسی طرح کا قدم اٹھایاہے۔یہاں سب سے اہم قصوروار کرناٹکا اسٹیٹ وقف بورڈکے سی ای او،وقف بورڈکے اراکین بھی ہیں،جنہوں نے ان مقبوضہ اراضیوں کو خالی کروانےا ور اپنی تحویل میں لیکر یہاں فلاحی کام انجام دینے میں ناکام رہے ہیں۔جس وقت ریاست میں سدرامیاکی حکومت تھی،اُس دوران اقلیتوں کی فلاح وبہبودی کیلئے300 تا 350 کروڑ روپیوں کابجٹ منظورکیاگیاتھااور یہ بجٹ سب سے زیادہ بجٹ ماناگیا،اس کے بعد جب بی جے پی حکومت میں آئی تو یہ بجٹ کم ہوتے ہوئے150 سے80 کروڑ روپئے تک پہنچ گیا۔سوال یہ ہے کہ جب وقف املاک جو مسلمانوں کیلئے نعمت ہے اور اس نعمت کو مسلمانوں تک پہنچانے کا کام اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال کررہے ہیں تو کیوں اس زمین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست کے مسلمانوں کی تقدیر بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کی جارہی ہے۔اگرریاست بھر کے اوقافی املاک سے ماہانہ 100 کروڑ روپئے بھی آمدنی مل جائے تو سالانہ 1200 کروڑ روپئے کا فنڈس مسلمانوں کیلئے مل جائینگے اور ان فنڈس کو غیر سودی قرضہ جات کے طورپر دیاجاسکتاہے یاپھر اس رقم کو مسلمانوں کے تعلیمی،سماجی اور اقتصادی سہولیات کیلئے بھی استعمال کیاجاسکتاہے،لیکن ایسا لگتاہے کہ چور حکمران اور قائدین اس اوقافی املاک سے قبضہ چھوڑنا نہیں چاہتے۔اس سلسلے میں کارروائی کرنے کیلئے کرناٹکا حکومت پر دبائو ڈالاجارہاہے،کرناٹکا ہائی کورٹ نے بھی ریاستی حکومت اور وقف بورڈ سے سوال کیاہے کہ اوقافی اداروں پر کئے گئے قبضے کو ہٹانے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور کتنی زمین کو قبضے سے واپس لیاگیاہے اس تفصیلی رپورٹ8/ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے،جبکہ ایوانِ اسمبلی میں بھی انورمانپاڑی رپورٹ کو پیش کرنے کے امکانات ہیں۔جو کام کانگریس ودیگر سیکولر حکومتوں کے دوران مسلمانوں کے ترقیاتی وفلاحی کاموں کے نام پر نہ ہوسکے،بلکہ مسلمانوں کی املاک کولوٹاگیا،شائد وہ املاک بی جے پی کے دورمیں مسلمانوں کو واپس مل سکتی ہے۔یہ دیکھنا ہوگا۔
