شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔گانجہ،غنڈہ گردی، چوری، ڈکیتی، لوٹ اوردیگر جرائم میں قوم کے بابو،مُنا،عبدال،باشاہ جیسے مسلم نوجوانوں کا جیلوں میں جانا عام ہو3چکاہے اور ہر دن اخباروں میں ان مسلم نوجوانوں کے کارناموں سے مسلم اُمت غیروں کے سامنے بدنام ہورہی ہے اور ہر عام مسلمان کو حقرات کی نگاہ سے دیکھاجارہاہے،اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ اچھے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو دوسرے جرائم پیشہ وبداخلاق نوجوانوں کی وجہ سے لوگ نوکریاں دینا بھی پسندنہیں کررہے ہیں۔جب نوکری دینے سے ہی لوگ کترارہے ہیں تو ایسے نوجوانوں کو چھوکری کون دیگا؟یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ایسے میں مسلم قائدین ،عمائدین اور اہل علم حضرات نوجوانوں کی اصلاح کیلئے فوری تدابیر اختیارکرنے کے بجائے پورے حالات کو نظراندازکررہے ہیں۔عام طو رپر مڈل کلاس اور لوئر کلاس طبقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بُری عادتوں کا شکارہورہے ہیں،خصوصاً گانجہ کی خریدوفروخت اور استعمال سے اپنی زندگیاں تباہ وبرباد کررہے ہیں،نشے کی حالت میں یہ نوجوان دوسرے جرائم میں پھنسنے لگے ہیں۔پچھلے دو مہینوں کے عرصے میں لگ بھگ70 مسلم نوجوان شیموگہ ضلع کے مختلف علاقوں سے جیل جانے کا شرف حاصل کرچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر نوجوان18 سے30 سال کے درمیان کے ہیں،جنہوں نے موٹربائک کی چوریاں،گھروں میں چوریاں،چین اسنایچنگ جیسے معاملات میں پھنسے ہوئے ہیں۔وہی گانجے کی تسکری اور خریدوفروخت میں بھی نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔بظاہر ان نوجوانوں کے پا س سے ضبط ہونے والاگانجہ معمولی مقدار کاہوتاہے،لیکن پولیس محکمے کے ساتھ ان کی سانٹھ گانٹھ کی وجہ سے یہ لوگ کم مقدارمیں گانجے کی ضبطگی بتاتے ہیں۔کئی علاقوں میں نوجوان چھوٹے بچوں کو بھی گانجے کے عادی بنارہے ہیں،خصوصاً مسلم بچے اس جان لیوا لت کا شکارہورہے ہیں۔گانجہ مزہ ہے لیکن سزاہے :۔نوجوان اور بچے گانجے کا نشہ کرتے ہوئے مزہ تو اٹھارہے ہیں،لیکن اس مزے کے ساتھ ساتھ انہیں جوپولیس اور عدالت سے جو سزا مل رہی ہے وہ سزاکچھ بھی معنی نہیں رکھتی،اصل سزاتو ان کی نجی زندگی میں ہے،جو نشے کی عادت کے بعد نوجوانوں کونامرد بنانے لگی ہے،اور اسی نامردی کی وجہ سے ان کی بیویاں غیروں کے پیچھے نکل رہی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ایسے بنیادی وجوہات کو تلاش کرنے کے بجائے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کومرتد ہونے کی وجہ بتائی جارہی ہے۔اب حکومت ہو یاپولیس اب انہیں معلوم ہوچکاہے کہ مسلمانوں کو بربادکرنے کیلئےیہ بھی ایک راستہ ہے ،جب ان کےنوجوان کھڑے ہونے کے لائق نہیں ہونگے،تو انہیں کھڑاکرنے کیلئے زیادہ طاقت ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔کئی نوجوانوں کے یہاں یہ دیکھاگیاہے کہ جب یہ جیلوں کارخ کرتے ہیں تو اس کا غلط استعمال کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی ان کے گھروں تک پہنچ جاتاہے۔کئی موقعوں پر یہ باتیں بھی سننے میں آئی ہیں کہ کئی عورتیں پولیس اہلکاروں کے جال میں بھی پھنس رہی ہیں اور مرد اپنے جرائم کی مجبوریوں کے سبب ان حالات پر قابوپانے میں ناکام ہونے لگے ہیں۔پیش رفت کی اشد ضرورت:۔جمعہ کادن مسلمانوں کیلئے نہایت اہم دن ہے،اس دن99 فیصد مسلمان مسجدوں کارُخ کرتے ہیں ،ایسے میں مسلمانوں کی اصلاح کیلئے جمعہ کے خطبوں کا استعمال کرتےہیں تو یہ بہت مفید بات ہوگی،جس طرح سے رمضان ،بقرعید،محرم،صفرکی اہمیت وفضائل و ضرورت کے تعلق سے بیان دیاجاتاہے،اسی طرح سے موجودہ حالات پر اصلاح کیلئے ولولہ خیزوشعلہ بیانی سے کام لیاجائے تو شائدکچھ اثر ہوسکتاہے،ہزاروں میں نہ سہی اگر12-10 بھی راہِ راست پر آجاتے ہیں تو یہ بہت بڑا کام ثابت ہوگا۔
