مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری اور مسلمانوں پر ہورہےظلم کے خلاف علماءِ شہرشیموگہ کااحتجاج

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ: (انقلاب نیوزبیورو):۔علماء شہر شیموگہ کے ذریعہ آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے بالمقابل احتجاج کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک یادداشت پیش کی گئی ہے۔ یادداشت میں مولانا کلیم صدیقی داعی اسلام کی جلد از جلد رہائی اور اُن پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔علماء شہر شیموگہ کے صدر واراکین نے اس موقع پر بڑے ہی جذباتی انداز میں اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے والی حکومت کے بعد مسلسل انسانی حقوق اور ذاتی آزادی کے حق کی پامالی ہورہی ہے۔ملک کی سب سے بڑی اقلیتی طبقے پر لگاتار مظالم بڑھتے جارہے ہیں۔ جمہوری آئین رکھنے والے اس ملک میں جمہوریت کو ہی ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے دنوں مولانا کلیم صدیقی کو اترپردیش پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، آسام میں 800 مسلم خاندانوں کے مکان جلائے گئے ہیں اور3 مساجد پر حملہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کی کھلی پامالی کرتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کا قتل اورمساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی بی جے پی لیڈروں کا بیان اور ایسے کئی واقع اور مسلم مخالف سرگرمیاں جو ملکی سطح پر جاری ہیں ہم اسکی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مولانا کلیم صدیقی داعی اسلام ہیں ان پرجھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔ اے ٹی ایس نےان پر تبدیلی مذہب کا الزام عائد کیا ہےجبکہ مولانا کلیم صدیقی کے پڑوسیوں نےخود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اُن کے پڑوس میں پچھلے کئی سالوں سے مقیم ہیں لیکن اُنہوں نے کبھی مذہب کی تبدیلی کے متعلق کچھ بھی نہیں کہااور مولانا کے پڑوسی بھی اُن کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔احتجاجیوں نے بتایا کہ مولانا پر لگائے گئے الزام سراسر بے بنیاد ہیں اورایک بنائی گئی کہانی لگتی ہے۔ واضح ہوکہ دستور کی دفعہ25میں ہر ہندوستانی کو اس بات کا پورا حق ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے اُس کی تبلیغ و تشریح کرسکتا ہے۔الزام لگایا گیاکہ آئندہ سال منعقد ہونے والے اُتر پردیش کے انتخابات کے پیش نظر مولانا کلیم صدیقی پر یہ کارروائی کی گئی ہے، جو آئین کے خلاف ہے۔اُنہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد مولانا کو رہا کرے،ہمارے علماء آئمہ و دانشوروں کوبلاوجہ گرفتار کرتے ہوئےحکومتیں اُن پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہیں ،جس کی ہم پُر زور مخالفت کرتے ہیں۔ مظاہرین نے صدرہند سے مطالبہ کیا کہ وہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور اُتر پردیش کی یوگی حکومت کو حکم دیں کہ وہ مولاناکلیم صدیقی کو باعزت جلداز جلد رہا کردے۔ کیونکہ مولانا کی گرفتاری یہ صرف مسلمانوں پر حملہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت، قومی یکجہتی اورگنگا جمنی تہذیب پر یقین رکھنے والے ہر فرد پر حملہ ہے۔اس موقع پرمفتی مجیب اللہ، مولانا حبیب اللہ سعودی، مولانا فضل الرحمان قاسمی، حافظ سرفراز پٹیل، مفتی صفی اللہ قاسمی، مفتی سالم قاسمی، مولانا ارشد سبحانی، مولانا فاروق رشادی وغیرہ موجودتھے۔