کرناٹک تعلیمی مافیا کا گڑھ بنتاجارہاہے:جسٹس عبدالنذیر

سلائیڈر نیشنل نیوز
بنگلورو:۔کرناٹک میں تعلیمی حلقہ تیزی کے ساتھ تعلیمی مافیا بنتاجارہاہے اور پروفیشنل کورسس میںداخلوںکیلئے لوٹ مچی ہوئی ہے۔اس بات کااظہار سپریم کورٹ کے جسٹس عبدالنذیرنے کیاہے۔کرناٹک کے جنوبی کینرا سے تعلق رکھنے والے جسٹس عبدالنذیر نے کورٹ میں معاملے کی سنوائی کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹک میں این آر آئی سیٹ اور سنڈیکیٹ سیٹ دونوں ہی تعلیم کی نیلامی کرنے والے الفاظ بن چکے ہیں اور ان دونوں کا استعمال کرتے ہوئے تعلیمی مافیا پھیلتاجارہاہے،اس سے پُر اثر لوگ اپنی تھیلیاں بھررہے ہیں اورغیر فعال ونہ اہل امیدواروں کو تعلیم کا موقع مل رہاہے۔این ای ای ٹی(یوجی) کیلئے اوورسیز سٹیزن شپ کارڈ رکھنے والوں کو این آر آئی کی طرح اہمیت دینے کیلئے وزارت داخلہ نے جو نوٹیفکیشن جاری کیاہے،اس کے خلاف اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا کارڈرکھنےو الے ایک شخص نے سپریم کورٹ نے مقدمہ درج کیاتھا،جس کی سنوائی کررہے جسٹس نذیرنےمندرجہ بالابیان دیاہے۔جسٹس عبدالنذیرسے ایک وکیل نےکہاکہ این آر آئی سیٹ کیلئے 2تا3 کروڑ روپئے تک کی رقم اداکرنی ہے تو جسٹس عبدالنذیرنے کہاکہ کرناٹک میں میڈیکل سیٹ کی رقم اس سے زیادہ ہے اور وہاں پر این آر آئی سیٹ کی نیلامی ہوتی ہے،جس وقت میں وہاں بطور وکیل خدمات انجام دے رہاتھا،تب مجھے اسکاتجربہ ہوچکاہے۔وہاں پر مافیا چل رہاہے اور اسے تعلیمی مافیا کہاجاتاہے۔کرناٹک میں زیادہ سے زیادہ میڈیکل سیٹس ہیں،لیکن وہاں پر میڈیکل سیٹ کی تجارت کی جارہی ہے۔یہ افسوسناک بات ہے۔