ریاض:۔مکہ مکرمہ ہیلتھ کلسٹر نے رمضان المبارک کے مقدس موسم کے لیے اپنی مکمل تیاریوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مقدس دارالحکومت میں10 اسپتالوں اور 82 مراکز صحت کا انتظام کیا گیا ہے جو ہنگامی بنیادوں پرمریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مدد کریں گے۔ان اسپتالوں میں ایمرجنسی سینٹرز 24 گھنٹے کام کریں گے۔ مسجد الحرام کے شمالی جانب شاہ عبداللہ گیٹ کے سامنے واقع عظیم الشان مسجد میں زائرین اور معتمرین کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا اسپتال قائم کیا گیا ہے۔ میڈیکل کمپلیکس کی راہداریوں میں تین ہنگامی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں اور یہ سب ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جدید ترین آلات سے لیس ہیں۔اس کے علاوہ 5 موبائل کلینکس جن میں مربوط طبی ٹیمیں شامل ہوں گی بھی زائرین اور رمضان کے دوران روزداروں کیلیے موجود رہیں گی۔ یہ موبائل کلینکس وسطی مکہ معظمہ اور مکہ مکرمہ کے داخلی راستے پر تقسیم کیے گئے ہیں، تاکہ لوگوں کو صحت کی خدمات فراہم کی جاسکیں۔اسی تناظر میں اسپتالوں اور مراکز صحت میں تمام شعبہ جات ایک ایسے منصوبے کے مطابق کام کرتے ہیں جو کام کے دورانیے اور اوقات کے مطابق ہو اور اس کے دوران کام کے معیار پر کوئی اثر نہ پڑے۔ چوبیس گھنٹے چار مختلف ٹیمیں چھ گھنٹے کی شفٹ پر کام کریں گی۔مکہ مکرمہ کے متعدد اسپتال بھی ہنگامی صورت حال کے لییتیار رہیں گے۔شاہ عبداللہ میڈیکل سٹی ایک ایسا اسپتال ہے جو دل اور دماغی فالج کے معاملات سے نمٹنے کے لیے مختص ہے۔جہاں بین الاقوامی سطح پر مخصوص وقت کے مطابق مریضوں کو ان کے پاس منتقل کیا جاتا ہے۔ صحت کے شعبے میں علاج کی اہلیت اور طبی ہم آہنگی کے انتظام کے ذریعے تیز ترین طریقہ کار کے تحت کام کرنے والوں میں مکہ مکرمہ میں النور سپیشلسٹ اسپتال،شاہ فیصل اسپتال، کنگ عبدالعزیز اسپتال، حرا جنرل اسپتال، ابن سینا اسپتال، اجیاد اسپتال، میٹرنٹی اینڈ چلڈرن اسپتال اور شمالی مکہ کے سیکٹر (خلیص – الکامل) اسپتال تمام طبی معاملات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تیار ہونگے
