بی جےپی کی 80ارکان پر مشتمل قومی مجلس عاملہ میں اننت کمار ہیگڈے کیلئے کوئی جگہ نہیں

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
کاروار:۔بی جےپی نے اپنی80ارکان پر مشتمل قومی مجلس عاملہ کی تشکیل کی ہے۔ جس میں کرناٹک سے نرملا سیتارمن اور ایم پی پرہلاد جوشی کو شامل کیاگیا ہے لیکن ریاست میں سب سے زیادہ مرتبہ منتخب ہونے والےایم پی اور بی جے پی کے فائر برانڈ کےطورپر مشہور اترکینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کو جگہ نہ دےکر انہیں دورہی رکھاگیا ہے۔ قابل غور ہے کہ پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہونےو الے امیش جادھو کو مجلس عاملہ میں شامل کیاگیا ہے ، اننت کمارہیگڈے سمیت ، ورون گاندھی اور ان کی والدہ مینکا گاندھی،ونئے کٹیارجیسوں  کوشامل نہ کرتےہوئے انہیں باہر کا راستہ دکھایاگیا ہے۔ اننت کمار ہیگڈے کو شامل نہ کئے جانے سےسیاسی حلقوں میں کئی طرح کی باتیں گردش میں ہیں۔ اننت کمارہیگڈے ریاست کے سنئیر رکن پارلیمان ہیں ، اس کے علاوہ وہ مرکز میں وزارت بھی سنبھال چکے ہیں، بی جےپی کی مجلس عاملہ میں ریاست کے سنئیر بی جے پی لیڈران اور سابق وزراء اعلیٰ کو مقام دیا ہے تو اہلیت کے مطابق اننت کمار ہیگڈے کو بھی شامل کرنا تھا ، آخر کن بنیادوں پر انہیں درکنار کیاگیا ہے آنے والے دنوں میں اس تعلق سےکچھ باتیں معلوم ہوسکتی ہیں۔ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کو قومی مجلس عاملہ میں جگہ دیتےہوئے ایم پی امیش جادھو، ریاستی کابینہ کے وزراء کے ایس ایشورپا، آر اشوک، گوند کارجول، داکٹر اشوتھ نارائن ، لکشمن سودھی  کو خصوصی مدعوئین میں شامل کیاگیا ہے۔ قومی مجلس عاملہ میں 80ارکان کےعلاوہ 50خصوصی مدعوئین اور 179مستقل مدعوئین شامل رہتےہیں۔ 80ارکان میں سے 37 مرکزی وزراء اور ریاستوں کے کئی وزراء کمیٹی میں شریک رہتےہیں۔حالیہ دنوں میں ایم پی اننت کمار ہیگڈے بی جے پی کی سرگرمیوں سے تھوڑی دوری بنائے رکھنےکے علاوہ کارکنوں سے فاصلہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق اننت کمار ہیگڈے کا کہنا ہے کہ پارٹی انہیں نظر انداز کئےجانے سے وہ ناراض ہیں ۔ ادھر دوسری طرف بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیگڈے صرف انتخابات کے موقعوں پر ہی متحرک رہتے ہیں اور ہندو مسلم کے نام پر اپنی دکان چمکاتے ہوئے ساحلی بیلٹ پر اپنی دھاک جمانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔