ہبلی:۔مبینہ تبدیلی مذہب کے خلاف احتجاج کے دوران ایک ائی پی ایس افسرکے ساتھ بدسلوکی کرنے کے الزام میں بجرنگ دل اور ہندوتنظیموں کے100 کارکنان کے خلاف پولس نے ایف آئی آر درج کرلی ہےپولیس نے بجرنگ دل کے لیڈر اشوک انویکر اور دیگر کے خلاف 17 اکتوبر کو احتجاج کے دوران ڈپٹی کمشنر آف پولیس (لاء اینڈ آرڈر) کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔انویکر اورساتھیوں نے مبینہ مذہبی تبدیلیوں میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پولس تھانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ہندوتوا تنظیموں کے کارکنان نے آئی پی ایس افسر راما راجن کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا ، ساتھ ہی نہوں نے راماراجن پر محکمہ پولیس کی بدنامی کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا ۔مشتعل ہندوتواکارکنان نے دھمکی دی ک تھی کہ اگر راماراجن کا تبادلہ نہیں کیا گیا تو وہ پولیس کمشنر کے دفتر پر قبضہ کر لیں گے۔ انہوں نے راماراجن پر مذہبی تبدیلیوں میں ملوث لوگوں کی حمایت کر نے کا بھی الزام عائد کیا تھا مشتعل افراد کی راماراجن کا نام لینے اور ان کے خلاف نعرے بازی کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ہوئی ہے۔
