حافظ کرناٹکی نےاردو زبان و ادب کیلئےجو کام کیا ہے وہ ہم نہیں کرپائے ہیں:پرو فیسر ارتضیٰ کریم

شکاری پور:۔ملک بھر میں بچوں کے شاعر کا مقام حاصل کرنے والے کرناٹک اردو اکادمی کے سابق چیرمین اور کرناٹکا چلڈرنس اکادمی کے چیرمین ، شاعر ، ادیب اور مصنف حافظ کرناٹکی کی 100ویں کتاب کا آج کرناٹک میں شیموگہ ضلع کے شکاری پور میں بڑے شاندار پیمانے پر رسم اجراء ہوا ۔ قومی سطح پر منعقدہ سہ روزہ تقریب کے پہلے دن حافظ کرناٹکی کی لکھی ہوئی 100ویںکتاب باغ اطفال کا رسم اجراء کی تقریب کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر ارتضیٰ کریم نے کی ۔اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر کوئمپو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر بی پی ویر بھدرپا ، کرناٹکا اردو اکادمی سابق صدر خلیل مامون موجود رہے جبکہ اجراء پٹنہ یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر اعجازعلی ارشد نے کی ۔ ملک بھر سے اس تقریب میں شرکت کرنے کے لئے معروف ادباء ، شعراء اور ادب نواز شخصیات نے حافظ کرناٹکی کی خدمات ، قلم اور فکر کو سراہا ۔ جامعہ کوئمپو کے وائس چانسلر پروفیسر ویر بھدرپا نے حافظ کرناٹکی کی علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یونیورسٹی سے کم نہیں ہیں ، انکے پاس علم کا خزانہ ہے اور اسی خزانے سے وہ علمی دنیا کو سیراب کررہے ہیں۔مزید انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی ایک ایسی ہستی ہیں جس نے اردو زبان میں ایک عرصہ دراز سےبچوں کے ادب کام کیاہے، آج اس شہر میں اُن کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے گوشے گوشے سے ملک بھر کے مختلف شہروں سے یہاں اردو زبان وادب سے لگاؤ رکھنے والے ہزاروں لوگ یہاں پر جمع ہیں یہ آج ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئےسابق ڈائرکٹر این سی پی یو ایل دہلی ،سابق صدر شعبہ ء اردو دہلی یونیورسٹی ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی یونیورسٹی سینئرپروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم لوگ ساٹھ باسٹھ سال گذار چکے مگر حافظ کرناٹکی نے جو کچھ اردو زبان و ادب کو دیا اگر ہم اپنی پچھلی زندگیوں کی طرف دیکھیں تو اس دور میں بچوں کیلئے ہو یا پھر دیگر اصناف پر جس بہترین پیرائے سے حافظ کرناٹکی کی جو خدمات ہیں آج پورے ملک میں چھائی ہوئی ہیں۔کلکتہ مدعو مہمان پروفیسر دبیر احمد نے کہا کہ بچوں کے احساسات و جذبات پر اگر لکھنا ہو تو بچوں کی سطح پر اُتر کر کام کرنا ہوتاہے جو حافظ کرناٹکی نے پوری خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا ہے جو لائق ستائش ہے،چنا بسوانا سوامی ویرکتا مٹھ نے کہا کہ آج شہر شکاری پور میں لوگوں کا یہ سیلاب کہ ملک کے کونے کونے سےاردو کے چاہنے والے جو جمع ہیں یہ ہمارے شہر کی عظمت میں چار چاند کے مانند ہے حافظ کرناٹکی کی اردو زبان و ادب پر خدمات کہ آج ملک کے کونے کونے میں حافط کرناٹکی کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے،ریورینڈر فادر ابرٹ ڈملو مذہبی پیشواء سوب نے اپنی تقریر میں کہا کہ کہ نو ہزار غزلوں اور ایک سو ایک کتابوں کے مصنف ڈاکٹر امجد حُسین حافظ کرناٹکی کوئی آسان نہیں کہ اپنی بہت ساری مصروفیات کے باوجود اپنی مادری زبان کے لئے کچھ کام کرنا ہوتو حافظ کرناٹکی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کایا جائے تو میں سمجھتا ہوں کچھ کام کرسکیں،اجلاس سےوظیفہ یاب آئی پی سی افسر و سابق چیرمن کرناٹک اردو اکادمی خلیل مامون ،پروفیسر شافعی قِدوائی ،مولانا الیاس بھٹکلی ،وغیرہ نے بھی خطاب کیا،اجلاس میں مختلف شعبہ جات میں نمایان خدمات انجام دینے والی مختلف شخصیتوں کو اس موقع پر مختلف اعزازات سے نوازا گیا ،پروفیسر اعجاز علی ارشد سابق ائس چانسلر مولانا مظہر الحق ادبی فارسی یونیورسٹی پٹنہ کو امیر خسرو ایوارڈ ،مولانا محمد الیاس ندوی بانی و جنرل سکریٹری مولانا ابولحسن ندوی اکادمی بھٹکل کو مولانا ابولحسن علی میاں ایوارڈ ،پروفیسر ارتضیٰ سابق ڈائرکٹر ین سی پی یو یل ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی کو علامہ اقبال ایوارڈ ،درمیانی ریاست داونگیرے کے ڈاکٹر سی آر نصیر احمد ممبر پلانگ بورڈ ریاست کرناٹک کو مولانا ابولکلام آزاد ایوارڈ اور تقریباًچالیس افراد کو مختلف ایوارڈ س سے نوازا گیا ۔ تقریب میں خطبہ استقبال ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے پیش کیا ۔ واضح ہو کہ یہ 26 اور 27 جنوری کو بھی ادبی ، ثقافتی پروگرام رکھے گئے ہیں ، اس سہ روزہ تقریب کا اختتام کل ہند مشاعرے کے ساتھ ہو گا ۔
