کرناٹکا ہائی کورٹ میں کوروناویکسین کو لازم قرار نہ دینے کی عرضی مسترد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔انڈسٹریل،کمرشیل اداروں میں کوویڈ ویکسی نیشن کو لازمی قرار دئیے جانے کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کرناٹکا ہائی کورٹ میں دائرکردہ پی آئی ایل کو کرناٹکاہائی کورٹ نے مسترد کردیاہے اور عرضی گذار پر برہمی کااظہارکیاہے۔انڈسٹریل اور کمرشیل اداروں میں ملازمین کے لازمی کورونا ویکسین کے عمل پر بی بی ایم پی کی جانب سے جاری کردہ سرکیولر پرسوال اٹھاتے ہوئے وکیل سیدشجاعت ماہی نے کرناٹکا ہائی کورٹ نے پی آئی ایل دائرکی تھی،جس کی سنوائی جسٹس ریتو راج اوستھی کررہے تھے۔عرضی میں درج شدہ نکات کا جائزہ لینے والی بینچ نے کہاکہ آپ خود ویکسین لے چکے ہیں او راب آپ دوسروں کو ویکسین لینے سے روکنے کیلئے عدالت سے رجوع کئے ہوئے ہیں،اس سے عام لوگوں کو گمراہ کیاجارہا ہے ، ایسی حرکتوں سے بچنا چاہیے۔ایک وکیل ہوکر اس طرح کی حرکتیں کرنا درست نہیں ہے اور اس عرضی کوواپس لیں ،ورنہ آپ پر جرمانہ عائدکیاجائیگا۔عرضی گذارنے عدالت سے بحث کے دوران بتایاکہ میں خود اس ویکسین کو لے چکاہے اور مجھے اس پر اعتماد ہے ،مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ،لیکن تجارتی مراکز ، صنعتوں اور ہوٹلوں کے ملازمین کو لازمی طور پر ویکسین لینے کاجو حکم ہے وہ صحیح نہیں ہے، ویکسین مہم کو روزگار سے جوڑنا درست نہیں ہے۔اس پر عدالت نے کہاکہ یہ ویکسی نیشن عوام کی فلاح وبہبودی کیلئے ہی دی جارہی ہے،اگر واقعی میں ویکسین سے کسی کوئی پریشانی ہے تو وہ خود پوچھیں گے،مگر عدالت میں عوامی مفادِ عامہ دائرکرنانامناسب ہےاور مجھے لگتاہے کہ یہ عرضی پبلیسٹی یعنی تشہیرکیلئے دائرکی گئی ہے۔عدالت عرضی گذار کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ فوری طورپر اس عرضی کو واپس لے،ورنہ ان پر بڑے پیمانے پرجرمانہ عائد کیا جائیگا ۔ اس پر وکیل نے عرضی واپس لینے کا یقین دلایا۔