آہ۔۔۔تریپورہ کے مسلمان

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے 12-10 دنوں سےشمال مغربی ریاست تریپورہ میں ہندو مسلم فسادات چل رہے ہیں،ان فسادات میں اب تک درجنوں مساجد کو نقصان ہواہے اور سینکڑوں مسلمانوں کو جانی نقصان ہواہے،اندازے کے مطابق کروڑوں روپیوں کا نقصان بھی مسلمانوں کو ہواہے۔تریپورہ میں بی جے پی کی حکومت ہے اور یہاں پرجو نقصان اس دفعہ مسلمانوں کو اٹھانا پڑاہاہےشائد ہی اس پیمانے پر مسلمانوں نے کبھی یہاں نقصان نہیں اٹھایاہوگا۔دراصل یہ تشدد پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں ہونے والے ہندومسلم فسادات کے بعد اُمنڈآیاہے اور بنگلہ دیش میں ہندوئوں پر ہونے والے تشدد کابدلہ ماناجارہاہے۔مگرسوال یہ ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کو اس تشدد سے کیا واسطہ ہے جو سنگھ پریوارکے لوگ بلاوجہ بھارت کے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔حدتویہ ہے کہ اس وقت تریپورہ میں ہورہے پُر تشددکی واقعات کی خبریں نہ تو قومی سطح کےمیڈیامیں بتائی جارہی ہیں اور نہ ہی وہاں سے کسی خبر کو باہربھیجنے کیلئے سہولیات کی جارہی ہیں۔تریپورہ کے مسلمان ایک طرح سے چین کے ایغور مسلمانوں کی طرح ظلم جھیل رہے ہیں۔ان مظلوم مسلمانوں کی آواز شائداس ملک کےقومی،ملّی وسیاسی قائدین کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔یہ بھی ممکن ہےکہ ہماری ملّی وسماجی تنظیمیں فسادات کو مزید وقت تک ہونے دیکر بعدمیںچندے کا دھندہ کرنے کا انتظارکررہے ہیں۔بھارت کے مسلمانوں کی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں انہیں مرنے سے بچانے کیلئے نہیں بلکہ مرنے کے بعد کفن پہنانے والے ہمدردوں کا سہارا ملتاہے۔یہی حالات مظفرنگرمیں دیکھی گئی تھی،آسام میں بھی یہی حال رہااور گجرات تو بہت اچھا امدادی کرنے کا مرکز رہا۔ایک طرف ملّی وسماجی اور سیاسی قائدین آنکھ بندکئے ہوئے بیٹھے ہیںتو دوسری طرف مسلمانوں کے ووٹ چاٹنے والےیا سوکالڈسیکولر جماعتیں بھی تریپورہ کے معاملے پر زبان کھولنے کیلئے تیارنہیں ہیں۔ممکن ہے کہ یہ آنے والے اُترپردیش انتخابات کیلئے ایک طرح سے مدعے کے طو رپر استعمال کرینگے۔بھارت میں مسلمان مندر کا گھنٹا بن چکے ہیں،اچھا کام ہو تو تب بھی مسلمان مار کھائیں،بُر ا کام ہو تو تب بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچایاجائے۔افسوس مقام یہ ہے کہ مسلمان جس طرح سے مظلوم ہوتے ہوئے بھی ہوش میں نہیں آرہے ہیں اور باربار اُن لوگوں پر یقین وبھروسہ کررہے ہیں جو انہیں زخم دیکر دوا دینے کی بات کرتے رہے ہیں۔اگر یہی حال رہا تو2024 کے عام انتخابات سے پہلے کیا حالات پیدا ہونگے اور کتنے مسلمان موت کے گھاٹ اتارے جائینگے،یہ کہنا مشکل ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ کل میں لکھنے والاہی نہ رہوں اور آپ پڑھنے والے ہی نہ رہیں۔اس سے پہلے کہ ہماری اور آپ کی داستان لکھی جائے،کم ازکم اتنا تو کریں کہ ظلم کے خلاف اپنے بازوئوں کو حرکت دیں یا کم ازکم اپنےہونٹوں کو جنبش دیں۔