ایم ایل سی انتخابات؛سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں بڑھیں 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو: مقامی بلدیاتی اداروں سے منتخب ہونے والے ایم ایل سی کا انتخاب 10 دسمبر کو ہونے جارہا ہے۔ جس کیلئے آج پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ تھی۔ اس کیلئے پرچہ نامزد کرنے کیلئے مختلف سیاسی امیدواروں نے پرچہ نامزد کیا۔ ودھان پریشد کے 20 حلقوں میں سے 25 امیدواروں کا انتخاب ہونا ہے۔ اس کیلئے برسراقتدار بی جے پی اوراپوزیشن کی کانگریس نے 20 امیدواروں کو میدان میں اتاراہے جبکہ جے ڈی ایس نے صرف 7 مقامات پر اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دی ہے۔تمام کم وبیش حلقوں میں کانگریس اور بی جے پی کا راست مقابلہ ہے جبکہ جے ڈی ایس نے اولڈ میسور میں ہی اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ مقابلہ سہ رخی بن گیا ہے۔ دو مقامات پر 5 حلقوں میں بی جے پی اورکانگریس کے ہی امیدوار میدان میں ہیں جبکہ جے ڈی ایس نے صرف جیت کے ممکنہ حلقوں میں اپنے امیدوار اُتارے ہیں بقیہ علاقوں میں جے ڈی ایس کونسی پارٹی کو تائید کریگی یہ انتظار کاسبب بناہو اہے۔ بی جے پی نے جے ڈی ایس سے تائید طلب کی ہے جبکہ آج آخری دن ہونے کے سبب تمام حلقوںمیں پرچوں کی بوچھارہوئی ہے۔کئی جگہ پر پرچوں کی نامزدگی کے مقام پر سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور نامور لیڈران موجود رہے۔ بی جے پی نے اس دفعہ موجودہ اراکین میں سے سوائے کورگ کے سنیل سبھرمنیم کو چھوڑ کر بقیہ 5 اراکین کو ٹکٹ دی ہے۔ کانگریس نے بھی نئے چہروں کو اہمیت دی ہے۔ موجودہ اراکین میں سے ایس آرپاٹل اور میسور کے دھرما سینا کو ٹکٹ نہیں دی گئی۔ بقیہ بنگلورو کے نارائن سوامی، شمالی کینرا کے پرتاب چندرشیٹی، چتردرگہ کےرگھو آچار،دھارواڑ کے کوٹینکر،نے دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا جس کی وجہ سے نئے چہروں کو اہمیت دی گئی ہے۔ موجودہ اراکین میں سے سابق وزیر ایم بی پاٹل کے بھائی سنیل گوڑا پاٹل ، بنگلورو رول سے ایس روی، بلاری سے کونڈیا ،شیموگہ سے آرپرسنناکمارنے دوبارہ ٹکٹ حاصل کی ہے۔ بی جے پی سے سابق وزیر منجوکے بیٹے منتھر گوڑا کو کورگ سے ٹکٹ دی گئی ہے۔ ریاستی وزیر ایس ٹی سو م شیکھر کے اسپیشل آفیسر دنیش گولی گوڑا کو مدور حلقے سے ٹکٹ دی گئی ہے۔ اسی طرح کانگریس سے ٹکٹ کی جستجو کررہے سندیش ناگراج اور سی ایل منوہر کو کانگریس نے ٹکٹ نہیں دی۔ بیلگوی کے لئےرکن اسمبلی لکشمی ہیبالکر کے بھائی چیناراج ہٹی ہولی کو ٹکٹ دی گئی ہے۔ بیدر سے سابق وزیر اور رکن اسمبلی راج شیکھر پاٹل ہمناباد اوربھائی بھیم رائوپاٹل کوٹکٹ دی ہے۔ اسطرح کانگریس پچھلے انتخابات میںشکست پانے والے امیدواروں کو بھی دوبارہ ٹکٹ دیتے ہوئے ایک اورموقع دے رہی ہے۔ جے ڈی ایس پارٹی7 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کے خاندان سےکوڑی سورج ریونا کوہاسن سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ یہ دیوے گوڑا خاندان کی سیاست میں ایک اور انٹری کا نشان ہے۔بقیہ جے ڈی ایس کے موجودہ ارکان میں میسور کے سندیش ناگراجو، ٹمکور کے بیمل کانتا راجو اور کولار کے منوہر کو ٹکٹ نہیں دیا گیاہے۔ یہ تینوں نے کانگریس اور بی جے پی سے ٹکٹ لینے کی کوشش کی ہیں لیکن انہیںوہاں بھی ٹکٹ دینے سے انکار کردیا گیا۔جے ڈی ایس نے25 میں سے صرف 7حلقوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ جے ڈی ایس نے ہاسن، منڈیا، ٹمکور، بنگلور رورل، میسور، کولار اور کورگ حلقے سے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ باقی حلقوں میں جے ڈی ایس میں بے چینی پیدا کردی ہے۔بنگلورسٹی، اُترا کنڑ، چکمگلور، شیموگہ، کلبرگی، بیدر، بیلاری، رائچور، چتردرگا اور کورگ میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے۔بنگلورو دیہی حلقہ، کولار، ہاسن، منڈیا، تمکور حلقوں میں بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے۔