40 فیصد کمیشن کا الزام: موجودہ اور ماضی حکومتوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ مختلف محکمہ کے تعمیراتی کاموں کی ٹھیکداری کے معاملے میں 40 فیصد کمیشن مل رہااس پربحث ہورہی ہے ، سابقہ وزیر اعلیٰ سدرامیا، ایچ ڈی کمارسوامی، بی ایس یڈیورپا اور بسواراج بومائی کی انتظامیہ کے تحت کئے گئے تمام کاموں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ آج شہر کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ایس ڈی پی آئی کی ضلعی شاخ نے کیا ہے۔ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں نے آج پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میںاور مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جانی چاہئےاور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ترقیاتی کاموںکے معاہدے کےلئے 40 فیصد کمیشن رکھا جارہا ہے ،یہ بات ریاستی کنٹرایکٹر اسوسیشن کی طرف سے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں انکشاف کی گئی ہے۔اس خط میں یہ بھی کہا گیاہے کہ معاہدے کی منظوری سے قبل بھی 5 فیصد کمیشن دینے پر بی جے پی کےوزراء دبائوڈال رہے ہیں۔ مزید بتایا کہ آنگن واڑی اور اسکولوں کے طلباء کوتقسیم کئے جانے والے انڈوںکولیکر اعلیٰ طبقے کی تنظیمیں اور سنگھ پریوار مذمت کررہی ہیں۔اگر انڈے واپس لینے کا فیصلہ لیاجاتاہے تو ریاست بھر کی نچلی برادریوں کے ساتھ قانونی لڑائی لڑی جائے گی۔مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں وسیع بارش کی وجہ سے بڑے پیمانے پرفصلوں کی تباہی ،مکانات کے منہدم ہونےاور کسانوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زندگی سڑکوںپر آچکی ہےاوراتنی بڑی آفت کیلئے 418 کروڑ روپےراحتی فنڈکا اعلان کرنا نامناسب ہے۔ اس لیے فوری طور پرنقصان کا مکمل معاوضہ دیا جائے۔ شیموگہ شہر میں اسمارٹ سٹی کے کاموں میں تاخیر اور بدعنوانی کی تحقیقات کرنے پر زور دیا۔پریس کانفرنس میںایس ڈی پی آئی کے ضلعی کارکنان موجود تھے۔