50 سال بعد ہندو کم ہو کر 45 کروڑ رہ جائینگے؛پروین توگڑیاکاپھرمتنازعہ بیان

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔وشو ہندو پریشد کے سابق رہنما پروین توگڑیا نے پھرزہرافشانی کی ہے۔اس نے کہاہے کہ اتر پردیش میں صرف رام یا ہنومان کا بھکت ہی وزیر اعلیٰ بنے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ دونوں کے آباؤ اجداد نے مغلوں کے سامنے جھک کر اسلام قبول نہیں کیا۔  سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ توگڑیانے کہاہے کہ اس الیکشن میں ایک پارٹی کو 412 سیٹیں ملیں گی۔ اگر بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو وزیر اعلیٰ رام کے بھکت ہوں گے اور اگر اکھلیش کی طرف سے آئے تو وزیر اعلیٰ ہنومان کے بھکت ہوں گے۔توگڑیا نے کہاہے کہ ملک کی 140 کروڑ آبادی غیرمستحکم رہے گی۔ تبدیلی یہ آئے گی کہ 100 کروڑ ہندو 10 سال بعد 95 کروڑ، پھر 85 کروڑ اور 50 سال بعد 45 کروڑ پر آ جائیں گے جب کہ مسلمانوں کی آبادی جو 200 کروڑ ہے وہ بڑھ کر 50 کروڑ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاہے کہ بھارت افغانستان بنے گا۔ افغانستان کا دارالحکومت کابل نہیں کانپور ہوگا۔مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے پروین توگڑیا نے کہاہے کہ آبادی کنٹرول قانون کو جلد از جلد لایا جائے۔ قانون بننے کے بعد دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندان کو کھانا نہیں دیا جانا چاہیے۔ ایسے خاندان کے بچوں کو سرکاری اسکول میں تعلیم، سرکاری ہسپتال میں علاج اور سرکاری نوکری نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاہے کہ حکومت جلد از جلد اس قانون کو نافذ کرے تاکہ ہندو بھارت میں اقلیت نہ بن جائیں۔