بنگلورو:۔کرناٹکا حکومت کی جانب سے کوویڈسے ہلاک ہونے والے افرادکے لواحقین کو ایک لاکھ روپئے کامعاوضہ دینے کی بات کہی گئی تھی،اس سلسلے میں کرناٹکا حکومت نے عرضیاں بھی طلب کی تھیں،لیکن اپنے فیصلے کے کچھ ہی وقفے میں ریاستی حکومت نے عام مہلوکین کے لواحقین کو ایک لاکھ کا معاوضہ دینے کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے لواحقین کوصرف50 ہزار روپئے دینے کی بات کہی ہے۔جبکہ بی پی ایل کارڈ والے مہلوکین کے لواحقین کو مرکزی حکومت نے50 ہزار روپئے دینے کی بات کہی ہے،اس بنیادپر مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایک لاکھ روپئے اور مرکز کی طرف سے50 ہزار روپئے اداکرے۔نئے احکامات کے مطابق ریاست میں سندھیا سورکشا منصوبے کے تحت ایک لاکھ روپئےکا معاوضہ دیاجاناتھا،لیکن مرکزی حکومت کے احکامات کے مطابق بی پی ایل کارڈکےمہلوکین کے لواحقین کو5.1 لاکھ روپئے کا معاوضہ دیناہوگا۔وہیں دوسری جانب سابق ریاستی وزیراعلیٰ سدرامیا نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ کوویڈ سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو ایس ڈی آر ایف کے فنڈ میں سے پانچ لاکھ روپئے اداکئے جائیں۔ریاست میں کوویڈ سے ہلاک ہونے والے افرادکی جملہ تعداد4 لاکھ ہے،جس کی وجہ سے گھروں میں روزگارکاآسرا بننے والے لاکھوں لوگ ہلاک ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ مالی مشکلات کا شکارہیں،حکومت کم ازکم پانچ لاکھ روپئے کی رقم معاوضہ کے طو رپر ادا کرے ۔ سدرامیانے مزیدبتایاکہ حکومت ایس ڈی آر ایف فنڈس کا استعمال بجلی سے ہلاک ہونے والے لوگ،زمین دھنسنے سے ہلاک ہونے والے لوگوں کو زلزلے اور طوفان سے مرنے والے لوگوں کا پانچ لاکھ روپئےکا معاوضہ دیتی ہے جس میں چارلاکھ مرکز اور ایک لاکھ روپئے ریاستی حکومت اداکرتی ہے تو ایسے میں کوویڈبھی قومی تباہی قرار دیاجاچکاہے تو لواحقین کو پانچ لاکھ روپئے ہی دئیے جائیں۔لیکن قوی امکانات یہ ہیں کہ حکومت صرف 50 ہزار روپئے کا معاوضہ دیکر اپنا دامن بچالے گی۔
