بنگلورو میں تحفظ جمہوریت پر سمپوزیم : مقررین نے کہا؛ مسلمانوں کو سیاسی طورپر ختم کرنا ہی اہم مقصد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
بنگلورو:۔ملک کے معروف صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن آکار پٹیل  نے شہر میں تحفظ جمہوریت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے دور کے آغازکے ساتھ ہی شدت پسندانہ قوم پرستی کا آغاز ہوا۔  اس میں منظم طورپر  مسلمانوں کو ملک کی قیادت سے دور کر نے کی کوشش ہوتی رہی، جن سنگھ نے اس دور میں ہی کہا تھا کہ ان  کا مقصد مسلمانوں کو سیاسی طور پر ختم کرنا ہے اور اس مقصد کوموجود ہ بی جے پی حکومت نے حاصل کر لیا ہے ۔ مسلمانوں کو سیاسی میدان میں حاشیہ پر رکھ دیا گیا ہے،سی اے اے اور این آری سی  کے ذریعے  اس کا ثبوت بھی دے دیا گیا ہے ۔آکار پٹیل نے کہاکہ 2015 سے قبل اس ملک میں بیف لنچنگ تشدد کاو جودنہیں تھا۔ 2014 کی انتخابی مہم کے دوران گلابی انقلاب کے نام پر تقاریر میں قانون میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہوا جہاں سےگئوکشی ہی نہیں بلکہ گوشت رکھنا بھی جرم قرار دیاگیا ،ایسے قوانین لائے جار ہے ہیں جس میں ملزم پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ  جو گوشت ہے وہ بیف نہیں تھا۔اسی طرح کے قوانین سے سماج کو تباہ کرنا مقصد ہے۔ حکومت ایسے ڈاٹا کو عوام کے سامنے لانا نہیں چاہتی جس سے عوام کے سامنے  وہ بے نقاب ہو جائے۔ 2018 کے بعد 5ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں نے ہندوؤں سے مسلمانوں کی شادی کو جرم قرار دیا ہے۔ انسداد تبدیلی مذہب قانون کے ذریعے اقلیتی طبقے کو ہراساں کیاجارہاہے۔ سپریم کورٹ نے جہاں تین طلاق کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن حکومت نے اس کو جرم قرار  دے ڈالا۔ اس طرح کے قوانین سے مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ہراساں کیا جارہاہے۔ پارلیمنٹ میں ملک کی معیشت سے جڑے مسائل کی طرف توجہ کم  دی جارہی ہے۔ ملک کی جمہوریت اور اداروں کو لاحق خطرات کے متعلق آکارپٹیل نے اعداد وشمار کی روشنی میں تفصیل سے روشنی دالی۔جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے خطاب میں کہاکہ جمہوریت ہندوستان کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کانام نہیں بلکہ چند اصولوں ، انفرادی حقوق و اقدار کا مجموعہ ہے جن کو خوب صورتی سے آئین میں شامل کیاگیا ہے، ان کو مٹانے کی کوئی بھی کوشش ایک بڑا چیلنج ہے۔ جس تیزی سے ان کو مٹانے کی کوشش ملک  کے لئے سنگین خطرے کا سبب ہے۔ بدقسمتی سے بین الاقوامی اداروں نے ملک کی جمہوریت کو انتخابات پر مبنی آمریت قرار دیا ہے۔ روز مرہ  کے حالات اور  حقائق سے انکار نہیں  کیا جا سکتا۔اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ صحافیوں پر حملہ ملک میں معمول بن گئے ہیں ۔سوشیل میڈ یا استعمال کرنے والوں کونشانہ بنایا جارہاہے ۔ ڈاٹا سے یہ سامنے آرہاہے کہ 2014سے غداری اور یواے پی اے کے تحت مقدمات کے اندراج میں بے تحاشہ اضافہ ہورہاہے۔ سیاسی حریفوں کو مسلسل نشانہ بنایاجارہاہے۔ اختلاف کرنے والی کسی بھی آواز کو دبا نے کےلئے قوانین کا استعمال کیا جارہاہے۔ اس طرح کے قوانین سے عدلیہ کا عمل خود ایک سزا بن کررہ گیا ہےجس کی نشان دہی سپریم کورٹ کے چار سابق ججوں نےکی ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے والے میڈیا کی جگہ اب کارپوریٹ میڈیا نے لےلی ہے۔ ملک میں جمہوری اقدار کی حفاظت کے لئے یہ تمام بہت بڑا چیلنج ہے۔ نفرت، لنچنگ اور ذات پات کے نام پر لوگوں کو بانٹنا بھی ایک سنگین جرم ہے لیکن بدقسمتی سے یہ عام ہوتا جارہاہے۔ سب سے بڑا خطرہ سیاست میں مجرموں کا داخلہ ہے۔ کرپٹ، کریمنل اور بنیاد پرستوں کی طرف سے چلنے والی جمہوریت آمریت کے مترادف ہے۔ جمہوریت کا تہوار کہلانے والے انتخابات بدقسمتی سے اب عوام میں خوف کا سبب بن گئے ہیں۔ سرمایہ داروں ، میڈیا اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ نے دیانتدارسیاست کو خطرےمیں ڈال دیا ہے۔ اور اس کی وجہ سے قابل و معتبر قیادت ختم ہوتی جارہی ہے، اس کی وجہ سے جمہوری نظام بے بس ہوچکا ہے، انتخابی بانڈز نے سیاسی میدان میں کالے دھن کو داخل ہونےکا موقع فراہم کردیا ہے۔ گمنام چند وں کے ذریعے حکمران پارٹی نے خود کو مضبوط کیا ۔ لالچی سیاست دانوں نے اس سے اقتدار پر قبضہ کیا ۔ جھوٹ ، پروپگنڈہ کے ذریعے لوگوں کو مسحور کیا اب ان پر غالب آچکے ہیں۔ آزادی اظہار اور بحث کے ذریعے جمہوریت بے جان ہے۔ اس آزادی سے نہ صرف انفرادی طورپر دم گھٹنے لگتاہے بلکہ سچ بھی دب کر رہ جاتاہے۔ہائی کورٹ کے موظف منصف جسٹس ناگ موہن داس نے صدارتی خطاب کرتےہوئےکہاکہ ملک کے مختلف شعبوں میں کامیابی کے باوجود ملک آج بھی بھوک، غریب، ناخواندگی ، زرعی اور صنعتی بحران سے دوچار ہے۔ اگر متحد ہوکر کام کریں اور حکمرانی میں اصلاحات لائی جائیں تو چند سالوں میں اس کو عبور کیاجاسکتاہے۔ ملک کے لئے دہشت گردی ، فرقہ پرستی ، بنیاد پرستی وغیرہ چیلنج ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ایک ساتھ ہوکر آئین کو بچانے کےلئے آگے بڑھیں۔جمہوری اداروں کو کس طرح کمزور کیاجارہاہے اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کروڑپتیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں 82فی صد کروڑ پتی ہیں ،12فیصد مجرم ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں بلوں پر بحث نہیں ہوپارہی ہے۔ 50فی صد بلوں پر بحث نہیں ہوتی ۔ ان میں سے 60فی صد بلوں کو اجلاس کے آخری تین گھنٹوں میں پاس کروایا گیا ۔ ہم اپنے نمائندوں کا انتخاب پارلیمنٹ میں ہمارےمسائل پر بحث کرنے کے لئے روانہ کرتےہیں لیکن بد قسمتی سے اس پر بحث نہیں ہوپارہی ہے۔ اس طرح سے جمہوری اداروں کو کمزور کیاجارہاہےاس طرح کے رجحان سے جمہوریت کا و جود کمزور ہو چکا ہے۔ آج ہمارے حقوق پر حملہ کیا جارہا ہے۔ آزادی اظہار کو دھیرے دھیرے ختم کرنےکی کوشش کی  جارہی ہے ۔ حکومت سے سوال آج کے دور میں  کیا نہیں جا سکتا ۔ اگر کیا  گیا توغداری یا یواے پی اے میں پھنسا کر قید کر دیا جارہا ہے ۔مذہبی آزادی کو ختم کیا جارہاہے۔ اس بات کی امید کم ہے  کہ عدلیہ سے جمہوریت کی مکمل حفاظت ہو سکتی ہے ۔  پیگاسس  کے معاملہ میں جس طرح حکومت نےحقائق عدالت کے سامنے پیش کرنے   کے لئے سپریم کورٹ کے سامنے انکار کرویاتو اس بات کا کیا یقین کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کسی کمیٹی کے سامنے تفصیلات پیش کرے گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک طاقتور عوامی تحریک شروع کی جائے ۔ زرعی قوانین واپس لینے کے لئے جومشترکہ تحریک کامیاب ہوئی وہ ہمارے لئے مثال ہے۔ جب تک مسائل پر کھل کر بحث نہیں ہوگی اس وقت تک جمہوریت کی بقا کے لئے جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکے گی ۔ اس موقع پر فورم فارڈیموکریسی اینڈ کمیونل ایمنٹی کے صدر وظیفہ یاب آئی اے ایس آفیسر  ایم ایف پاشا نے استقبالیہ خطاب کیا اور مہمانوں کا تعارف کروانے کے ساتھ ملک کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالی۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے سکریٹری ڈاکٹر محمد طہٰ متین نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔