شیموگہ:۔ مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹری 91جی ایکٹ میں ترمیم لانے کی کوشش ہورہی ہےلیکن اس نظام سے نوٹریوں کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ نوٹری اسوسیشن اسکی سخت مذمت کی جاتی ہے۔اس بات کا اظہارنوٹری اسوسیشن کے صدر پرشانت نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بات کرتےہوئے کہا کہ وکیل کے پیشے سے جڑے لوگ جنہوں نے اپنے شعبے میں10 سال کی معیاد مکمل کر لی ہے انہیں نوٹری کیلئے درخواست دینے کی اجازت ہےاور 5 سال بعد نوٹری کے لائسنس کو رینول کروانے کا نظام ہےلیکن مرکزی حکومت نے اس ایکٹ میں ترمیم کرکے صرف 10 سال تک ہی نوٹری کرنے کی اجازت دی ہےاورنوٹریوں کو مستقبل میںوکالت کرنے کا بھی موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ اسوسیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوٹری کرکے زندگی بسر کرنے والے وکلاء کیلئے یہ ترمیم جان لیوا ہے۔اس سے قبل نوٹری کیلئے درخواست طلب کی جاتی تھیں اوردرخواست ڈسٹرکٹ جج کے پاس جمع کرانی پڑتی تھی۔ موصولہ درخواستیں جب حکومت کو روانہ کی جاتی ہیں توحکومت ہی نوٹری کا انتخاب کرتی ہے۔ منتخب کئے گئے نوٹری اپنے وکیل کے پیشے کو ترک کرکے نوٹری کو ہی آمدنی کا ذریعہ بنالیتے ہیں اوراسی پر منحصر رہ کر زندگی گذارتے ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت کی موجودہ نوٹری91 جی ایکٹ میں ترمیم لانے جارہی ہے جس سے نوٹری کرنے والوں کو اپنا مستقبل خطرے میں نظرآرہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت آئین کے مخالفت نوٹری ایکٹ میں ترمیم لانے پر آمادہ ہے لیکن مرکزی حکومت کو جان لینا چاہئے کہ حکومت کے ارادے کی ملک بھر میں مخالفت کی جاتی ہے۔انہوں نےانتباہ کیا کہ اس سے قبل کے اس کے خلاف ملک بھر میں تحریک کا سلسلہ شروع ہوجائے ، ترمیم لانے کاارادہ ترک کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں نوٹری راج شیکھر، بسوراج، موہن، گنگادھر، نوین، وغیرہ موجودتھے۔
