دہلی:۔بدھ کو راجیہ سبھا میں مطلع کیا گیا کہ این سی آر بی کے ذریعہ عسکریت پسند گروپوں یا ہجوم کے ذریعہ ہلاک یا زخمی ہونے والے لوگوں کے بارے میں کوئی علیحدہ ڈیٹامحفوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ حکومت نے ہجومی تشدد کی لعنت کو روکنے کے لیے آڈیو ویجئل میڈیا کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کی ہے۔ رائے نے کہا کہ حکومت نے جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے سروس فراہم کرنے والوں کو بھی حساس بنایا ہے، جن میں ہجومی تشدد اور لنچنگ کو بھڑکانے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز نے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 23 جولائی 2019 اور 25 ستمبر 2019 کو ایڈوائزری جاری کی ہیں، تاکہ ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کیاجاسکے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصول ہونے والے جرائم کا ڈیٹا شائع کرتا ہے ،جیسا کہ تعزیرات ہند اور خصوصی اور مقامی قوانین کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ این سی آر بی کے ذریعہ عسکریت پسند گروپوں یا ہجوم کے ہاتھوں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کا کوئی الگ ڈیٹا نہیں رکھا جاتا ہے۔اس سال اپریل اور جون کے درمیان ہندوستان میں گھریلو تشدد کے کل 3,582 واقعات رپورٹ ہوئے، جب کرونا کی دوسری لہر اپنے عروج پر تھی، جبکہ سال 2020 کے اسی عرصہ میں جب کورونا کی وبا شروع ہوئی تھی، کل 3748 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بہبود خواتین واطفال کی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ تقابلی اعداد و شمار پچھلے سال کے مقابلے 2021 میں مذکورہ مدت میں گھریلو تشدد کے واقعات کی تعداد میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
