وقف مشاورتی کمیٹی کےصدراب صدر نہیں رہے،ڈپٹی کمشنر ہونگے چیرمین،وقف چیرمین ڈپٹی چیرمین بن جائینگے;  ڈپٹی کمشنروں کے ذریعےوقف املاک پر حکومت کے قبضہ کی کوشش؟مسلمان خاموش کیوں؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔کرناٹکا حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبودی کی جانب سے تازہ حکمنامہ10/دسمبر 2021 کو جاری کیاگیاہے،جس کے مطابق کرناٹک کے تمام اضلاع میں موجود وقف مشاورتی کمیٹی (اڈوائزری کمیٹی) کے سرپرستوں کو اب ڈپٹی چیرمین قرار دیاجائیگا،جبکہ تمام اڈوائزری کمیٹی کے چیرمین کے طو رپرڈپٹی کمشنر کو ذمہ داری دی جائیگی۔اس سرکیولرکے ساتھ ہی یہ بات واضح ہوچکی ہےکہ کرناٹک حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور وہ آہستہ آہستہ حکومت کووقف بورڈمیں گھسانے کی پہل کرچکی ہے۔چونکہ وقف بورڈکو اٹانوموس یعنی خود مختارادارہ مانا جاتا ہےاور اس میں لئے جانے والے آزاد رہتے ہیں اور اس کیلئے الگ ہی بیلہ و قانون ہے۔مگرڈپٹی کمشنروں کو ضلعی سطح کے مشاورتی کمیٹیو ں کی صدارت دئیے جانے کے بعد اوقافی املاک کی غیر جانبدارانہ حفاظت ممکن نہیں۔کیونکہ ڈپٹی کمشنر پوری طرح سے حکومت کی نمائندگی کرتاہےتو وہ حکومت کی ہی بات مانے گا۔جبکہ وقف مشاورتی کمیٹی کےصدرجو پہلے سے منتخب ہوتے آئے ہیں وہ کم ازکم قوم وملت کے تابیدار ہواکرتے تھے۔وقف مشاورتی کمیٹی کے صدرکے طورپرڈپٹی کمشنر کو صدر بنانے پرایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اوقافی اداروں کو اپنی ضرورت کے مطابق یا حکومت کی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کیلئے پیچھے نہیں ہٹے گا۔مثلاً کوئی عیدگاہ ہے،اُس عیدگاہ کو وقف کرنے کا منشاء عیدکی نماز پڑھناہے،یاپھر کوئی وقف مسلم ہاسٹل کوکواٹرس بنانے یا عیدگاہ کو حکومت کے استعمال کیلئے منظورکیاجاسکتا ہے ، جس سے مستقبل میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔کرناٹکا حکومت کی طرف سےلئے گئے فیصلے سے کسی کابھلا ہو یا نہ ہو لیکن حکومت کابھلا یقیناً ہوگا۔ایسے میں کرناٹک بھرمیں موجود اوقافی ذمہ داران اس حکمنامہ کے منفی تاثرات کاجائزہ لینے کے بجائے اس حکمنامہ کو سوشیل میڈیامیں سرکیولٹ کرنے کوفخر کاباعث مان رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست بھرکے اوقافی اداروں کے ذمہ داران اس حکمنامہ کی مخالفت کریں اور حکومت کو وقف بورڈکے معاملات سے دوررہنےکیلئے سخت انتباہ دیں۔